سوچ کی ایک شام معاشرے کے نام

✍🏻 محمد پالن پوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی ذرا فرصت میسر آئی چائے کا کپ دستِ گرفت میں تھا کہ قلم خودبخود انگلیوں میں آ گیا۔ زاویۂ فکر بے اختیار مسلم معاشرے کی طرف مڑ گیا۔ دل نے کہا کہ اس بگاڑ پر کچھ لکھا جائے جو آہستہ آہستہ ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے مگر فوراً ہی یہ سوال سامنے آ کھڑا ہوا کہ آخر کیا لکھوں اور کیا چھوڑ دوں؟
یہ فیصلہ میری عقل کے بس سے باہر تھا۔ نوجوانوں کی بے راہ روی قلم بند کروں یا کم سن بچیوں کے فکری انحطاط پر نوحہ کروں؟ حسد اور کینے کی بھٹی میں سلگتے اس معاشرے کو بچانے نکلا تو دوسری سمت ماں باپ دکھائی دیے جو اپنی جوان اولاد کی نافرمانیوں کے ہاتھوں آنکھوں میں آنسو لیے خاموش کھڑے تھے۔ ابھی ادھر سے نظر ہٹی ہی تھی کہ پورب کی جانب بھائی کو بھائی سے لڑتے، شور مچاتے دیکھا۔ ساس بہو کی فلک شگاف آوازیں کانوں میں پڑیں۔ دیورانی اور جیٹھانی کی زبان کو تو تو، میں میں اور ناپاک جملوں سے آلودہ پایا۔ ایک کونے میں مرجھایا ہوا چہرہ لئے ایک طلاق یافتہ لڑکی کو دیکھا جس کا نکاح چند ہی مہینوں میں ٹوٹ چکا تھا جو زبان حال سے کہ رہی تھی بأی ذنب ترکت ( کس گناہ کے سبب مجھے چھوڑ دیا گیا )۔۔ چوراہوں پر جوانی کو داغدار ہوتے، امت کے مستقبل کو بکھرتے دیکھا۔ نشے کی لت میں جکڑے امت کے نو نہالوں کو تڑپتے دیکھا۔ابھی ان خرافات کو محسوس ہی کر رہا تھا کہ ایک اور احساس نے جنم لیا کہ یہ تو بس سامنے کی دیواریں تھیں اور ان کے پیچھے اندھیرے کمروں میں اور بھی بہت کچھ پل رہا تھا۔ میں اس تاریکی کی اور بڑھا ، دروازہ کھولا تو دیکھا کہ یہاں تو عبادت بھی مقابلہ بن گئی ہے، دکھاوا اخلاص پر غالب آ چکا ہے اور نیکی اب اللہ کی بجائے کیمرے کے لیے کی جاتی ہے۔ مسجدیں آباد دیکھی مگر دل کی دنیا ویران نظر آئی، وعظ سنتے لوگ دیکھے مگر عمل کے لئے کمر کس افراد کی بجائے کمر کش دیکھے۔ نظر ذرا آگے کی اور بڑھی تو دیکھا کہ علم کی جگہ معلومات نے لے لی ہے۔ ہر شخص دو ویڈیوز دیکھ کر مفتی، دانشور اور مصلح بن بیٹھا ہے۔ بڑوں کا احترام پرانی سوچ قرار پایا، استاد محض ایک سرکاری ملازم رہ گیا۔ دیکھا تو جھوٹ کردار میں اتر آیا تھا۔ جعلی مسکراہٹیں، بناوٹی تعلقات اور مفاد کے مطابق بدلتے ہوئے چہروں کی بھی زیارت ہوئی۔
ابھی دیکھ ہی رہا تھا کہ ادھر سے آواز آئی مڑ کر دیکھا تو حلال و حرام چیخ رہے تھے کہ لکھ اس کو کہ ہماری لکیریں اتنی مدھم ہو چکی ہے کہ کمائی کی بو تک محسوس نہیں ہوتی۔ ساتھ میں رشتۂ ازدواج بھی کھڑا تھا وہ بھی بول پڑا جناب اس کو بھی قلم بند کر دیں کہ ہمارے متعلق معیار تقویٰ نہیں رہا بلکہ پیکیج، تنخواہ اور اسٹیٹس بن چکا ہیں۔ جہیز کی ملعون روایت کو وجوب کا درجہ دے دیا ہے۔۔۔۔۔۔
بس قلم کپکپانے لگا اور کہنے لگا بس کر اتنا سنتے سنتے میری سیاہی ختم ہو چکی۔ مجھ میں طاقت نہیں ہے کہ ان سب کو قلمبند کروں اسلئے نہیں کہ لکھ نہیں سکتا بلکہ اسلئے کہ سچ سننے کی اب ہمت نہیں رہی اس امت محمدیہ کو۔۔۔۔۔۔۔۔