قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے!
اے ایمان والو ! تم یہود ونصاریٰ کو دوست مت بنانا، وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرےگا ون انہی میں سے ہوگا یقینا اللہ تعالیٰ سمجھ نہیں دیتے ان لوگوں کو جواپنا نقصان کررہے ہیں-
(سورۃ المائدہ آیۃ 51 بیان القرآن جلد اول)

25دسمبر نصاری(عیسائی )کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے،اس دن میں یہ لوگ کرسمس ڈے مناتے ہیں جسے دوسرے زبان میں یوم ولادت مسیح کے نام سے بھی جاناجاتاہے ،زمانے کی برق رفتاری سے اس کی ناموں میں بھی تبدیلی آتی رہی ہے،اس زمانہ میں یہ تہوار کرسمس ڈے کہلاتاہے-
 کرسمس ڈے نصاریٰ کا ایک تہوار ہے، جس میں وہ باطل عقائد کے پیشِ نظر حضرت عیسی علیہ السلام کے جشن ولادت مناتے ہیں ،اس تہوار میں درخت نما چیز کو روشن وچراغاں کرتےہیں،میٹھائیاں کھانا وغیرہ تقسیم کرتے ہیں ،تحفہ وتحائف گفٹ وغیرہ ایک دوسرے کو دیتے ہیں ،اس تہوار کی تیاری مہینوں پہلے شروع کر دیتے ہیں، جب کہ نصاریٰ کا ایک گروہ ایسا بھی جو اس کو روا اور درست نہیں سمجھتا،

ولادت مسیح :
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تاریخ ولادت غیر محفوظ ہے نہ انجیل میں اس کی تاریخ ملتی ہے اور نہ ہی کتب تاریخ میں،
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دنیا سے آسمان پر اٹھاۓ جانے کے تین سو سال بعد اک کونسل کے تحت 25دسمبر کو جشن ولادت منانا طے کیا گیا وہ بھی انہوں نے اپنے طرف سے نہیں کیا،
 بلکہ غیروں کے طے کردہ تاریخ کا انتخاب کیا یعنی زمانۂ قدیم میں سورج کی پرستش کرنے والے لوگ ان دنوں خوشیاں مناتے تھے ،اسی کے تحت نصاریٰ نے بھی اس دن کو تہوار کے لیے انتخاب کیا اور تب سے لیکر آج تک یہ سلسلہ جاری ہے-

باطل عقائد:
نصاریٰ کا یہ عقیدہ ہےکہ اللہ رب العزت نے اس دن حلول کیا، یعنی اللہ تعالیٰ نےحضرت عیسی کو بیٹا بنایا جب کہ حضرت عیسیٰ اللہ کے پیغمبر اور رسول ہیں ،
اور یہ عقیدہ لم یلد ولم یولد کے صریح خلاف ہے اللہ کے وحدت میں شرکت کا قوی احتمال ہے، جبکہ 
اللہ تعالیٰ کے اس دنیا میں انبیاء ورسل کو بھیجنے کا مقصد ہی یہی تھا کہ انسان اللہ کو وحدہ لاشریک لم یلد ولم یولد سمجھے،توحید کے عقیدہ سے وابستہ رہے-

شب زندیق:
25دسمبر کی بے شمار خرابیاں ہیں، پورے شہر کو روشن چراغ کیاجاتا ہے ،خرید وفروخت کا ایک طویل عرصہ اس میں صرف کرتے ہیں ،رات دیر تک دوکان وغیرہ کھلارکھا جاتا ہے،اس دن عصمت دری, شراب نوشی کا بازار پورے سال کے مقابلے سب سے زیادہ گرم ہوتاہے ،وہ برائی جو عام دنوں میں نہ کہ درجے میں ہوتے ہیں اس دن سب زیادہ ہوتے ہیں، بے شُمار خرافات واردات ہوتے ہیں-

لمحہ فکریہ :
افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ تہوار بطورِ فیشن مسلمانوں میں بھی در آئی ہیں 
اس تہوار میں مسلمان بھی بے تأمل شریک ہوتے ہیں باطل اعتقاد پہ مبنی اس تہوارکو مسلمان بڑے زور وشور سے مناتے ہیں اور تہنیت وتبریک کا سلسلہ جاری رکھتےہیں، اور میری کرسمس کہتے ہیں، جب کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے لیے شرکت سے لاتعلقی کا اظہار ضروری ہے

جو بھی مسلمان اس خرافات میں شریک ہوتے ہیں اور مبارک باد پیش کرتے ہیں گویا وہ اس عمل سے راضی ہیں
اس سےعقیدے میں فرق پڑیگا ،اور یہ چیز مسلمانوں کوکفر تک پہونچا سکتی ہے، 
حدیث میں مذکور ہے
 من تشبہ بقوم فھو منہ 
ترجمہ :
جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ اسی میں سے ہے
لہذا تمام مسلمانوں کو اس سے احتراز کرناچاہیے، غیروں کے کسی بھی تہوار میں کلی طور پرشرکت سے بچنا چاہیے تاکہ ہماری نسل نو اس سے محفوظ رہ سکے
اللہ ہماری حفاظت فرمائے آمین