🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ
وقت کا پہیہ خاموشی سے گھومتا رہتا ہے نہ کسی کے رکنے سے رکتا ہے، نہ کسی کے رونے سے ٹھہرتا ہے۔
ایک اور سال بھی اسی خاموشی کے ساتھ ہم سے رخصت ہو رہا ہے۔
نہ ڈھول بجا، نہ اعلان ہوا بس چند تاریخیں بدلیں، کیلنڈر کے ورق پلٹے اور ایک پورا سال ماضی کی الماری میں بند ہو گیا۔
مگر سال کے گزرنے سے زیادہ اہم وہ سوال ہے جو ہر شعور رکھنے والے دل کے دروازے پر دستک دے رہا ہے، وہ سوال جو نہ وقت کے ساتھ مٹتا ہے اور نہ خاموشی سے دبایا جا سکتا ہے۔
یہ سال گزرا…
مگر کیا ہم بھی آگے بڑھے؟
یہ دن بیتے…
مگر کیا ہمارے اعمال سنورے؟
یہ مہینے رخصت ہوئے…
مگر کیا دل کی دنیا بدلی؟
یہی ہے وہ ٹھہرتا ہوا سوال جو ہر گزرتے سال کے ساتھ اور گہرا ہو جاتا ہے۔
ہم میں بعض لوگ خوش ہیں کہ ایک سال پورا ہو گیا، مگر یہ سوچنے کا حوصلہ کم ہے کہ اس سال ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔
ہم نے وقت تو گزار لیا، مگر کیا وقت نے ہمیں کچھ سکھایا؟
ہم نے دن رات کو بدلتے دیکھا، مگر کیا ہم نے خود کو بدلتے دیکھا؟
زندگی کے قیمتی لمحے، جو ربّ کریم کی امانت تھے، کہاں صرف ہو گئے اس کا
حساب شاید ہمیں ٹھہر کر دینا پڑے گا۔
گزرتا ہوا سال ہم سے گواہی لے کر جا رہا ہے وہ گواہی ہمارے الفاظ کی، ہمارے رویّوں کی، ہماری نیتوں کی اور ہمارے اعمال کی۔
وہ ہر نماز جسے ہم نے ٹالا، ہر حق جسے ہم نے دبایا، ہر آنسو جسے ہم نے نظر انداز کیا۔
سب اس سال کے دامن میں محفوظ ہیں اور کل جب سوال ہوگا تو سال بولے گا، انسان خاموش کھڑا ہوگا۔
یہ سال ہمیں یہ بھی یاد دلا کر جا رہا ہے کہ زندگی کیلنڈر کے اوراق کا نام نہیں، بلکہ لمحوں کی امانت ہے۔
جو لمحہ ہاتھ سے نکل گیا، وہ واپس نہیں آتا۔ جو موقع ضائع ہو گیا، وہ پھر دستک نہیں دیتا۔
اور جو وقت اللہ کی یاد سے خالی رہا، وہ خسارے کی واضح علامت ہے۔
اب آپ بتائیں کہ کیا کوئی ایسا شخص جس کے ہاتھ سے اسکا سب کچھ چھینا جارہا ہو
جسکی زندگی خسارے سے بھرپور ہے
کیا اس کو خوش ہونے کی ضرورت ہے ؟
کیا اس کو کیک کاٹنے کی ضرورت ہے ؟
کیا اس کو اس سال کو منانے کی اور اس پر مبارکباد پیش کرنے کی ضرورت ہے ؟
نیا سال دراصل کوئی جادوئی لکیر نہیں جو سب کچھ بدل دے۔
اصل تبدیلی تاریخ کے بدلنے سے نہیں، دل کے پلٹنے سے آتی ہے۔
اگر نیا سال بھی پرانی غفلتوں، وہی وعدوں اور وہی تاخیروں کے ساتھ شروع ہوا تو سمجھ لیجیے گا کہ سال تو بدلا ہے، ہم نہیں بدلے۔
اس لیے یہ وقت جشن کا کم اور خود احتسابی کا زیادہ ہے۔
یہ لمحہ نعرے لگانے کا نہیں، سر جھکانے کا ہے۔
یہ گھڑی خود سے سوال کرنے کی ہے: کیا میں اللہ کے قریب ہوئی یا دور؟
کیا میں انسانوں کے لیے آسانی بنی یا تکلیف؟
کیا میں اپنے کل سے بہتر ہوں یا ویسی ہی؟
گزرتا ہوا سال ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ وقت ہمارے ہاتھ میں نہیں، مگر وقت میں ہم کیا کرتے ہیں یہ ہمارے اختیار میں ضرور ہے۔
اگر ہم نے اس سوال کو سنجیدگی سے لے لیا، تو شاید آنے والا سال ہماری اصلاح کا سبب بن جائے۔
اور اگر ہم نے اسے بھی نظر انداز کر دیا، تو اگلا سال بھی اسی خاموشی سے گزر جائے گا اور سوال وہیں کا وہیں ٹھہرا رہے گا۔
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ سال گزرتے رہتے ہیں
مگر سوال نہیں گزرتے۔