حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کی زندگی ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے
🖊️بقلم:محمد عادل ارریاوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قارئین کرام ! اخلاق کے معانی بے حد وسیع ہیں تمام اچھی صفات کے مجموعہ کا نام اخلاق ہے دنیا کے انسانوں میں پائی جانے والی تمام اعلی وارفع صفات کو جمع کیا جائے اور پھر ان کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ تمام صفات اور خوبیاں اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔
یاد رکھیے کسی بھی قوم،امت،گروہ یا شخصیت کے بارے میں جاننا ہو کہ اس کے اخلاق کیسے ہیں تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کا برتاؤ اپنے ساتھیوں،رشتہ داروں، دوستوں، گھروالوں،ہمسایوں اور مخالفین کے ساتھ کیسا تھا،سب سے پہلے اس کے اخلاق کے بارے میں معلوم کیا جاتا ہے۔
جہاں تک اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بات ہے تو آپ کی تربیت خود اللہ تعالی نے فرمائی تھی ۔اللہ پاک نے آپ کا تزکیہ اس خوبصورت انداز میں فرمایا کہ آپ اس کا ئنات میں سب سے اعلی اخلاق والے بن گئے۔
علامہ ابن القیمؒ فرماتے ہیں: کہ سیرت کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے فرض ہے،سعادت دارین آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی رہنمائی اور ہدایت پر مبنی ہے جو سعادت کا طالب ہو نجات کا خواہش مند ہو وہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سیرت سے آگاہی کا پابند ہے ۔
تہذیبی نقطۂ نظر سے اسلامی تہذیب سابقہ تمام تہذیبوں کی روح اور خلاصہ ہے گویا اسلامی تہذیب سابقہ اور لاحقہ تہذیبوں کا نقطۂ اتصال ہے جسے غیر مسلم مؤرخین نے بھی تسلیم کیا ہے تمام تہذیبوں کے حقائق کی معرفت کے لیے اسلامی تہذیب سے بھر پور واقفیت ضروری ہے اسلامی تہذیب سے واقفیت سیرت کی جانکاری کے بغیر ممکن نہیں، نیز اسلامی تہذیب کی وجہ سے انسانی سطح پر زبردست علمی،تحقیقی اور فکری انقلاب بر پا ہوا جس کے ذریعہ علوم وفنون کی تحقیق اور اس میدان میں ایک نئے عالمی دور کا آغاز ہوا یہ سب سیرت کے علم کی وجہ سے ہے
اللہ نے آپ ﷺ کو خاتم النبیین بنا کر آپ ﷺ کی ذات بابرکت میں تمام انبیاء کرام کے اوصاف جمع کر دئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حکومت،حضرت ہارون علیہ السلام کی امامت،حضرت نوح علیہ السلام کی محنت،حضرت ابراہیم علیہ السلام کی لینت، حضرت سلیمان علیہ السلام کی سطوت،حضرت عیسی علیہ السلام کی خاکساری، حضرت یعقوب علیہ السلام کا صبر،حضرت یوسف علیہ السلام کا عفو اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی سبک روی کامل درجہ میں پائی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو پوری دنیا کے لیے رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجا اپنا آخری کلام قرآن پاک آپ پر نازل فرمایا یعنی کتاب اللہ بھی ابدی اور رسول اللہ بھی ابدی لہذا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیم بھی ابدی اور دائمی یعنی ان کو تا قیامت باقی رہنا تھا۔ اس کو فرمایا:لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَن كَانَ يَرْجُواللَّهَ وَ الْيَوْمَ الْآخِرَ (سورۃ الاحزاب آیت نمبر : ۲۱) یعنی رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے ہر اس شخص کے لئے جو اللہ اور آخرت کے دن پر بھروسہ رکھتا ہو)
اگر موجودہ زمانے میں سابقہ انبیاء کرام میں سے کوئی موزوں ہوتے تو ان میں سب سے زیادہ موزوں آپ ہی ہوتے، کیونکہ آپ میں اپنے ذاتی کمالات کے علاوہ ہر نبی کا کمال پایا جاتا ہے۔ اور جوں جوں زمانہ ترقی کرتا چلا جائے گا اسی حد تک انسانی زندگی کی استواری کے لئے اس سیرت کی ضرورت شدید سے شدید تر ہوتی چلی جائے گی۔
بین الاقوامی نقطۂ نظر سے جو عالمی مسائل پوری دنیا کو در پیش ہیں ان کا صحیح حل مسلم قوم کو شامل کیے بغیر تلاش کرنا فضول ہے مسلمانوں کو بین الاقوامی حیثیت حاصل ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،مسلمانوں کا مزاج اور ان کی تہذیب جاننا بے حد ضروری ہے جو پوری اسلامی تہذیب اور سیرت کے بغیر ممکن نہیں۔
اور سیرت محض ایک شخصیت کی سوانح عمری نہیں بلکہ یہ ایک تہذیب، ایک قوم وملت اور ایک الہی پیغام کے آغاز اور ترقی کی انتہاء ہے دور جدید میں بلا تفریق مسلم و غیر مسلم ہر شخص پر سنجیدگی سے سیرت کا علم ضروری ہے۔
آج ہمارے ملک ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں ہیں کوئی بھی مسلم اقلیت چاہے جہاں بھی رہائش پذیر ہو اس کے لیے اسوۂ حسنہ یعنی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زندگی اور تعلیمات ہی رہنما ہیں ۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مکہ میں خود ایک اقلیت کے مذہبی راہنما کی حیثیت سے رہنا پڑا اس لیے سیرت نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں مسلم اقلیتوں کے لیے ایک بلیغ نمونہ موجود ہے۔
سیرت مقدسہ کا ہر پہلو مسلمانوں کے لئے آئینہ اور نمونہ ہے مگر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مکی دور مسلم اقلیتوں اور بالخصوص امت مسلمہ ہند کے لئے بہت اہم ہے۔
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بعثت ایسے معاشرے میں ہوئی تھی جو ملک ہندوستان ہی کی طرح کفر وشرک کی دلدل میں پھنسا ہوا تھا جہاں ظلم کا ننگا ناچ تھا،شراب عام تھی، جوئے اور سٹہ بازی کا رواج تھا، انسانیت مرچکی تھی،اخلاق کا جنازہ نکل چکا تھا، معمولی معمولی باتوں پر سالہا سال جنگ چھڑی رہتی ، اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا ہوتی تھی ،ایسے متعفن ماحول میں آپ تشریف لاتے ہیں اور توحید کی شمع جلاتے ہیں جس کی ابتدا تین سال تک خفیہ تبلیغ سے ہوتی ہے۔
ملک ہندوستان مختلف تہذیب و تمدن کا سنگم ہے جہاں بے شمار مذہب کے ماننے والے ایک ساتھ رہتے ہیں اور ہر ایک مذہب کے متبعین اپنے اپنے رسم و رواج کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں سب کی اپنی اپنی مخصوص عبادت گاہیں ہیں۔مسلمان بھی اپنے دینی امور کی انجام دہی میں الحمدللہ بہت حد تک آزاد ہیں، شرائع اسلام پر عمل کرنے میں بلاکسی قید و بند کے خود مختار ہیں،مسجد کے مناروں سے اذانوں کی گونج بھی سنائی دیتی ہے اور پنج گانہ نمازوں کا با جماعت قیام بھی ہوتا ہے مکمل دینی رنگ و ڈھنگ میں مدارس اور دینی مراکز بھی ہیں،جگہ جگہ مسجدوں کی آباد کاری بھی ہوتی ہے جس سے کھلی دینی فضا کا ایک خوشگوار احساس ہوتا ہے،اسلامی حمیت دل میں پیدا ہوتی ہے اور اس کے امت مسلمہ ہند پر بہترین اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔
مگر افسوس!مسلمانان ہند ان ساری سہولتوں کے باوجود طرح طرح کی کشمکش کا شکار ہیں کہیں فرقہ بندی ہے تو کہیں ذات پات کا جھگڑا ہے، کوئی مغرب کا پرستار ہے تو کوئی خدا بیزار، کہیں سیاست کے نام پر مذہب کا سودا ہے تو کہیں رسم و رواج کو مذہب کے چولے میں پرو دیا گیا ہے، غرضیکہ ہر ایک فرقہ جماعت یا فرد اپنے کو دین حق کا پرستار اور سیرت مقدسہ کا پیرو کار سمجھتا ہے۔
غیروں کے ساتھ حسن سلوک آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا طرہ امتیاز ہے، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مشرکین عرب امین و صادق کہتے چلے آرہے تھے وہ آپ کے پاس امانتیں رکھتے، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بعثت کے بعد اپنے غیر مسلم رشتہ داروں اور دوسرے ہم وطنوں سے تمام سماجی تعلقات کو برقرار رکھا ان سے تجارتی تعلقات باقی رکھا انکے یہاں آنا جانا آپسی میل ملاپ کسی کو کم نہیں کیا، بعض غیر مسلم گھرانوں کو اپنے یہاں کھانے کی دعوت دی ،طائف کے سفر میں غیر مسلم کے یہاں قیام کیا، کھانا کھایا، غیر مسلم کی پناہ لی، یہود سے قرض لیے اور عمرو بن امیہ الضمری کو اپنا سفیر بنا کر نجاشی کے پاس بھیجا تا کہ وہ مسلمانوں کی سفارش کریں اور ان کی حفاظت کے لئے حکمران کو آمادہ کریں۔
گھریلو معاشرتی زندگی کو دیکھئے خود سارا کام اپنے ہاتھوں سے ہو رہا ہے، جوتے کا تسمہ کپڑے کا پیوند،گھر کی صفائی خود ہی کر لیتے، روٹی بنانے میں ساتھ دیتے ہیں، گھر کے اخرجات میں کمی نہیں فرماتے، مزاج شناسی سے ازواج کی ضروریات و خواہشات کی رعایت فرماتے ہیں،گھر کو محبت سے آباد رکھتے ہیں،بچوں پر شفقت و محبت کے پھول نچھاور کرتے ہیں، بیویوں کی دلجوئی، دوستوں کی عزت اور ان کا پاس ولحاظ کرتے ہیں۔
آپ کے ہمسائے میں یہودی رہتے تھے اگر ان کے یہاں کوئی بچہ بھی بیمار ہو جاتا تو آپ اس کی عیادت کے لئے اس کے گھر جاتے ، بنی عریض نامی ایک یہودی قبیلہ مدینہ میں رہتا تھا اس کی کسی بات سے خوش ہو کر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس کے لئے کچھ سالانہ معاش مقرر فرمائی۔آپ کی اپنی رضاعی ماں حلیمہ سعدیہ جب مکہ آئیں تو ان کا استقبال کیا اور ”میری ماں“ کہہ کر لپٹ گئے ، آپ کی رضاعی بہن شیمار حنین میں قیدی ہو کر آئیں آپ ان کو دیکھ کر رو پڑے اور ان کا اعزاز و اکرام کیا۔
مسلمان سیرت کا تذکرہ مقصد بنا کر کریں تا کہ عملی زندگی میں سیرت رسول سے استفادہ ممکن ہوسکے، رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ کا تذکرہ باعث خیر و ثواب تو ہے ہی، مگر اس پر اکتفاء نہ کیا جائے بلکہ ہر قدم پر رہنمائی کرنے والی عملی سیرت پر نظر رہے۔
محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اضافہ جس سے اطاعت کی رغبت بڑھتی ہے اور سنتوں کی پیروی آسان ہوتی ہے آدمی کو جس سے سچی محبت ہوتی ہے ہر چیز میں اس کی نقالی کرتا ہے عموماً چار باتوں کی وجہ سے دوسروں سے محبت کی جاتی ہے (۱) حسن و جمال (۲) فضل و کمال (۳) عطاء ونوال (۴) نسب کی شرافت اللہ؛ تعالی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ سارے اسباب محبت جمع فرمادئیے تھے، آپ کا حسن بے مثال تھا صحابہ نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو چودھویں رات کے چاند سے تشبیہ دی۔ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان عطاء و سخاوت کے واقعات آپ کی زندگی میں بار بار پیش آئے اور آپ عطاء کرنے میں کبھی کمی نہ کی، بہت سے لوگوں کے اسلام لانے میں آپ کا ﷺ کی سخاوت کا بھی بڑا کردار رہا ہے۔
حضور اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ایک دن کی عطاسخی بادشاہوں کی عمر بھر کی سخاوت و بخشش سے زائد تھی ، جنگل بکریوں وغیرہ سے بھرا ہوا ہے،اور حضور عطا فرما رہے ہیں اور مانگنے والے ہجوم کرتے چلے آتے ہیں اور حضور پیچھے ہٹتے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب سب اموال تقسیم ہو لئے ایک اعرابی نے چادر مبارک بدن اقدس پر سے کھینچ لی کہ شانہ و پشت مبارک پر اس کا نشان بن گیا اس پر اتنا فرمایا: اے لوگو ! جلدی نہ کرو کہ تم مجھے کسی وقت بخیل نہ پاؤ گے۔
قانونی لحاظ سے بھی ہمیشہ اپنے لیے عدل وانصاف پسند فرمایا، مجلس میں سب کے برابر بیٹھتے۔ اپنے لیے کسی کو کھڑے ہونے کی اجازت نہ دی ۔ رہن سہن، لباس وضع قطع کسی میں امتیاز نہ فرمایا،خندق کی کھدائی ہو یا مساجد کی تعمیر غرض ہر جگہ ہر موقع پر لوگوں کے ساتھ مل کر کام کیا۔
قرض خواہوں کو اپنے ساتھ درشتی سے تقاضہ کرنے کا حق دیا اپنے آپ کو مجلس عام میں انتظام کے لیے پیش کر دیا۔ نہ قانونی طور پر اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھا اور نہ سماجی طور پر کبھی امتیاز برتا۔ کیا اس بے لوث اور پر خلوص ایثار کا مظاہر نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات کے علاوہ کہیں اور مل سکتا ہے۔
اللہ ربّ العزت ہم سب کو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سنتوں کو زندہ کرنے والا بنائے، آپ کے بتائے ہوئے تمام باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔آمین ثم آمین یارب العالمین۔