(15)مضمون 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

(بقلم محمودالباری) 

“دم توڑتی آہیں یا امید کی نئی راہ؟”

............................... 

آج کا مسلمان ایک ایسی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اس کی سسکتی آہیں جیسے اس کی بے بسی، اس کی تکلیف، اس کی اذیت اور اس کی دعائیں بھی بے اثر ہوتی جا رہی ہیں۔ ایک طرف ظلم و ستم کا بازار گرم ہے، دوسری طرف سیاست، معاشرت، تعلیم اور اقتصادی شعبوں میں اس کا حصہ نہ کے برابر رہ گیا ہے۔ سوال یہی ہے کہ کیا ہماری سسکتی آہیں، یہ بے بسی کی آہیں، آخر کار دم توڑ دیں گی یا ہم ان آہوں کو تبدیلی کا ذریعہ بنائیں گے؟

مسلمانوں کا سیاسی زوال ایک روز کا واقعہ نہیں بلکہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہے۔ اس زوال کی کئی وجوہات سامنے آتی ہیں:

مسلمانوں کے ساتھ موبلِچنگ جیسے ظلم یہ بتاتے ہیں کہ ان کی زندگی کی کوئی قدر نہیں سمجھی جا رہی۔ ان کی جان، مال، عزت سب خطرے میں ہے۔ کہیں مسجد پر حملے، کہیں دکانیں جلائی جا رہی ہیں، کہیں روزگار چھینے جا رہے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اکثر یہ مظالم خاموشی سے برداشت کیے جاتے ہیں۔

انتخاب کے وقت مسلمانوں کا کوئی ایسا مؤثر لیڈر سامنے نہیں آتا جو ان کے حقوق کی بات کرے۔ اگر کوئی کھڑا بھی ہو تو اس پر شکوک و شبہات کا سایہ ڈال دیا جاتا ہے، اسے بیک وقت بدنام بھی کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً، مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کمزور ہوتی جا رہی ہے۔

غیر یقینی صورتحال میں اکثر لوگ تعلیم کی طرف کم اور تحفظ کے خوف میں زیادہ جھکتے ہیں۔ اس کا فائدہ انتہا پسند، لالچی اور غیر سنجیدہ لوگ اٹھاتے ہیں جو مسلمانوں کو تقسیم کر دیتے ہیں۔

ایک دوسرے پر اعتماد نہ کرنا، داخلی اختلافات میں الجھ جانا، اور اپنے مفادات کو عقیدے یا امت کی بھلائی پر فوقیت دینا ایک بڑی وجہ ہے جس کی بدولت ہم مل کر اپنی طاقت کا استعمال نہیں کر پاتے۔

جب معاشی مواقع کم ہوں، تعلیم محدود ہو، اور وسائل میسّر نہ ہو، تو ایک قوم سیاسی میدان میں بھی کمزور پڑتی ہے۔ بے روزگاری اور غربت مسلمانوں کو مسلسل پسماندگی کی طرف دھکیل رہی ہے۔

ظلم کے کئی پہلو ہیں جو مسلمانوں کی روح کو توڑ رہے ہیں:

نفرت انگیز حملے اور تشدد: موبلِچنگ، جھوٹے کیسز، تعصب کی بنیاد پر سزا دینا۔

روزگار سے محرومی: کاروبار میں رکاوٹیں، مارکیٹوں میں بائیکاٹ، قرضوں سے انکار۔

: اسکولوں، کالجوں میں داخلے میں رکاوٹ یا نفرت کا سامنا کرنا۔

میڈیا کی منفی تصویر کشی: مسلمانوں کو دہشت گرد یا غیر ذمہ دار قوم کے طور پر پیش کرنا۔

یہ سب مل کر مسلمانوں میں خوف، خود اعتمادی کی کمی اور سیاسی غیر سرگرمی کو جنم دے رہے ہیں۔

لیکن ہر اندھیرے کے بعد صبح ہوتی ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ اس بات کا گواہ ہے کہ وہ آزمائشوں سے گھبرا کر نہیں بیٹھے، بلکہ ان سے نکل کر مزید طاقتور بنے ہیں۔ آج بھی امید کی کرن موجود ہے:

ہمیں چاہیے کہ ہر گھر میں تعلیم کو اہمیت دی جائے، تاکہ ایک تعلیم یافتہ نسل آگے بڑھے اور حق کے لئے آواز بلند کر سکے۔

ایک دوسرے کے ساتھ شکوک و شبہات چھوڑ کر اعتماد پیدا کریں۔ اختلافات سے آگے بڑھ کر امت کی بھلائی پر توجہ دیں۔

انتخابات میں سرگرم حصہ لیں، اپنے اچھے اور تعلیم یافتہ افراد کو سامنے لائیں، ان کا ساتھ دیں، ان کی بات سنیں اور ایک متحد پلیٹ فارم تیار کریں۔

چھوٹے کاروبار، باہمی تعاون، تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارتوں کو فروغ دیں تاکہ معاشی استحکام پیدا ہو اور اس سے سیاسی میدان میں بھی مضبوطی آئے۔

اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے دعا کریں، صبر اختیار کریں، اور اپنی کوششوں کو جاری رکھیں۔ ظلم کے خلاف جدوجہد ایک طویل سفر ہے لیکن یہ کامیابی کا راستہ بھی ہے۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہماری سسکتی آہیں خدا کے سامنے بلااثر نہیں ہیں۔ ہر آنسو، ہر دعاء، ہر درد ایک گواہی ہے کہ ہم زندہ ہیں اور حق کی جنگ میں اپنا حصہ ادا کر رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ:

خود کو کمزور نہ سمجھیں۔

اپنی نسل کو آگے بڑھائیں۔

اپنے حق کی بات عزت اور حکمت سے کریں۔

ایک دوسرے کی حمایت کریں، تنقید سے پہلے رہنمائی کریں۔

آج بھی وقت ہاتھ میں ہے، ابھی بھی امید زندہ ہے۔ ظلم کے سامنے سسکتی آہیں دم توڑنے کے لیے نہیں، بلکہ انقلاب کی صدائیں بننے کے لیے ہیں۔ ہمیں اپنے ایمان، اتحاد، تعلیم اور محنت سے ایک نئی راہ بنانی ہے جس میں مسلمانوں کا نام عزت، علم اور خدمت کے ساتھ بلند ہو۔

آئیے ہم اپنے دلوں میں یہ عزم باندھیں کہ سسکتی آہیں ہمارے حوصلے کو ختم نہیں کریں گی بلکہ ہمیں ایک مضبوط امت میں بدلیں گی۔ ظلم کے اندھیروں کے باوجود، اللہ کی رحمت، علم کی روشنی، اتحاد کی طاقت اور دعا کی برکت سے ہم ایک روشن مستقبل کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ ہمیں بس صبر، حکمت، عمل اور دعاء کی ضرورت ہے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک بہتر، محفوظ اور عزتمند زندگی گزار سکیں۔

آئیے، امید کو زندہ رکھیں اور اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں۔

    والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ