*بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرحیم* 

 *الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على سيد* 
 *الأنبياء والمرسلين محمد وعلى آله وصحبه أجمعين* 
 *قال الله تعالى قل هو الله أحد الله الصمد لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد* 
 *أما بعد* 
 *کرسمس کیا ہے اور مسلمان کو کیا کرنا چاہیے؟* 

 *کرسمس: کیوں اور کیسے منایا جاتا ہے؟* 
کرسمس عیسائیوں کا ایک مذہبی تہوار ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ مغربی عیسائی اسے 25 دسمبر اور مشرقی عیسائی 7 جنوری کو مناتے ہیں۔ اس دن چرچوں میں خصوصی عبادات ہوتی ہیں، گھروں کو سجایا جاتا ہے، کرسمس ٹری لگایا جاتا ہے، تحائف دیے جاتے ہیں اور مختلف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ عیسائی عقیدے کے مطابق یہ دن اللہ کے بیٹےکی ولادت کا دن ہےنعوذ باللہ، اسی وجہ سے وہ اسے مذہبی خوشی کے طور پر مناتے ہیں۔
یہ بات بھی تاریخی طور پر واضح ہے کہ کرسمس کی تاریخ اور اس کے بہت سے مظاہر رومی مشرکانہ تہواروں سے ماخوذ ہیں، جنہیں بعد میں عیسائیت میں شامل کر لیا گیا۔ نہ بائبل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی کوئی متعین تاریخ ملتی ہے اور نہ ہی ابتدائی صدیوں میں عیسائی اس دن کو مذہبی تہوار کے طور پر مناتے تھے۔
 *کرسمس اور مسلمانوں کی شرکت: شرعی موقف* 
اسلام میں عید اور تہوار عبادت کا درجہ رکھتے ہیں اور عبادات کا تعلق براہِ راست عقیدے سے ہوتا ہے۔ مسلمان کے لیے صرف وہی عیدیں جائز ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مقرر فرمائی ہیں، جیسے عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ۔ غیر مسلموں کے مذہبی تہواروں میں شرکت کرنا، انہیں منانا یا ان پر خوشی کا اظہار کرنا شرعاً جائز نہیں، خاص طور پر جب وہ تہوار ایسے عقیدے پر قائم ہوں جو اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہو۔
کرسمس کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کی بنیاد ایک کفریہ عقیدے پر ہے۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں، نعوذ باللہ، جبکہ قرآنِ مجید صاف الفاظ میں اعلان کرتا ہے:
لم يلد ولم يولد
اللہ نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کی اولاد اس عقیدے کے خلاف کسی بھی شکل میں خوشی کا اظہار، مبارک باد دینا یا اس تہوار کا حصہ بننا ایمان کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
سوشل میڈیا، ویڈیوز اور میری کرسمس کہنا
آج کے دور میں ایک نیا فتنہ یہ پیدا ہو چکا ہے کہ مسلمان سوشل میڈیا پر خود کو پروڈ مائنڈڈ اور تنگ نظری سے پاک دکھانے کے لیے *میری کرسمس* جیسے جملے بولتے یا ویڈیوز پوسٹ کرتے ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں: کیا فرق پڑتا ہے؟ ہم تھوڑی عقیدہ بدل رہے ہیں۔ حالانکہ اصل فرق یہی ہے کہ عقیدہ زبان اورعمل اور اظہارِ خوشی سے بھی متاثر ہوتا ہے۔
کسی ایسے دن پر مبارک باد دینا جو شرک اور کفر پر مبنی ہو، اس عقیدے کی تائید کے زمرے میں آ تا ہے۔ اس لیے مسلمان کے لیے نہ میری کرسمس کہنا جائز ہے، نہ اس دن کی ویڈیوز بنانا، نہ اس سے متعلق پوسٹس ڈالنا، چاہے نیت تفریح یا سماجی ہم آہنگی ہی کیوں نہ ہو۔
اسکولوں میں کرسمس اور والدین کی غفلت
ایک نہایت اہم اور افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ بہت سے مسلمان بچے انگلش میڈیم اور کانوینٹ اسکولوں میں پڑھتے ہیں، جہاں کرسمس کے موقع پر انہیں ایسے ڈرامے، گانے یا رول دیے جاتے ہیں جو سراسر کفریہ عقیدے پر مبنی ہوتے ہیں۔ کہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بنا کر پیش کیا جاتا ہے، کہیں کرسمس کی مذہبی کہانیاں سنوائی جاتی ہیں، اور کہیں بچوں سے ایسے جملے کہلوائے جاتے ہیں جو اسلامی عقیدے کے خلاف ہوتے ہیں۔
والدین اس دن خوش ہوتے ہیں کہ ہمارے بچے نے اسٹیج پر اچھا پرفارم کیا، اسے تالیاں ملیں، اساتذہ نے تعریف کی، مگر یہ نہیں سوچتے کہ وہ کس چیز پر پرفارم کر رہا ہے۔ چند تالیاں اور وقتی تعریف کہیں ایسا نہ ہو کہ نعوذ باللہ ہمارے بچے کو دین اور عقیدے سے دور کر دے اور ھمارےسربڑا وبا ل آجائے۔ یہ سب کچھ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ ہوتا ہے تاکہ آہستہ آہستہ مسلمانوں کی نئی نسل کو ان کے عقیدے سے ہٹایا جائے اور شرک و باطل کو *نارمل* بنا کر پیش کیا جائے ياد رکھے یہی وہ منصوبہ بندی ہوتی ہے جس سے آج کے مسلم بچے كل کے ملحد بنتے ہیں بہت فکر کی بات ہے
 *مسلمانوں کے لیے واضح رہنمائی* 
مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ عقیدے کے معاملے میں کسی قسم کی مداہنت اور سمجھوتہ نہ کرے۔ غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک، انصاف اور اچھا برتاؤ اسلام کی تعلیم ہے، مگر ان کے مذہبی عقائد اور تہواروں میں شرکت اسلام کا تقاضا نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی کرسمس جیسے تہواروں سے بچیں، اپنے بچوں کو بھی بچائیں، اور واضح انداز میں یہ فرق سمجھیں کہ سماجی تعلقات اور عقیدے میں سمجھوتہ دو الگ چیزیں ہیں۔
 *حاصلِ کلام* 
کرسمس ایک ایسا مذہبی تہوار ہے جس کی بنیاد اللہ کے لیے اولاد ماننے جیسے کفریہ عقیدے پر ہے۔ مسلمان اگر اس دن میں شرکت کرے، مبارک باد دے یا اس کی تشہیر کرے تو اس کے ایمان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اس لیے عقلمندی، دیانت اور ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ مسلمان اس تہوار سے خود بھی دور رہے اور اپنی اولاد کو بھی اس سے محفوظ رکھے۔

✍🏻 *از قلم :عاقب شیخ غلام محمد دھولیہ مہاراشٹرا*