حضرت مولانا حافظ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم 
یہ مضمون کسی کرامت کے اظہار کے لیے نہیں،
بلکہ دلوں کو جگانے کے لیے ہے۔
اولیاء اللہ کی پہچان یہ نہیں ہوتی
کہ وہ کیا دکھاتے ہیں،
بلکہ یہ ہوتی ہے
کہ وہ کس کے لیے روتے ہیں۔
حضرت مولانا حافظ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم
اسی سلسلۂ نقشبندیہ کے ان بزرگوں میں سے ہیں
جن کی زندگی کا سب سے بڑا درد
امتِ محمدیہ ﷺ ہے۔
وہ رات — جو آنسوؤں سے لکھی گئی
حضرت خود اپنے بیان میں فرماتے ہیں
(بیان کے الفاظ کا مفہوم):
"ایک رات تہجد میں دعا کرتے ہوئے
امتِ محمدیہ ﷺ کا خیال آیا
تو دل قابو میں نہ رہا
اور میں سجدے میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔"
فرماتے ہیں:
"میں نے اللہ سے کہا:
اے اللہ!
اگر امت کی وجہ سے کوئی پکڑ ہے
تو وہ مجھ پر ڈال دے
مگر میرے نبی ﷺ کی امت کو معاف فرما دے۔"
یہ کہہ کر
حضرت پر ایسی کیفیت طاری ہوئی
کہ سجدہ آنسوؤں سے تر ہو گیا
اور جسم پر لرزہ طاری ہو گیا۔
📚 حوالہ:
بیاناتِ شیخ،
حضرت مولانا حافظ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی
(خانقاہِ نقشبندیہ، کراچی)
یہ کیفیت کہاں سے آتی ہے؟
یہ کیفیت کسی تقریر سے نہیں آتی
یہ کیفیت دل کی آگ سے آتی ہے۔
یہ وہی کیفیت ہے
جس کی طرف نبی کریم ﷺ نے اشارہ فرمایا:
"مؤمن آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں
اگر ایک عضو کو تکلیف ہو
تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔"
📚 صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ
حضرت پیر صاحب کا دل
اپنے لیے نہیں
بلکہ امت کے ہر گناہگار فرد کے لیے دھڑکتا ہے۔
شاگردوں کی گواہی
حضرت کے قریبی شاگرد بیان کرتے ہیں:
**"ہم نے کئی مرتبہ دیکھا
کہ حضرت درس کے بعد
تنہائی میں بیٹھ کر
امت کے حالات پر خاموشی سے روتے تھے
اور بار بار یہی کہتے تھے:
یا اللہ! امت کو معاف فرما دے۔"**
📚 حوالہ:
ملفوظات و مشاہداتِ شاگردان
خانقاہِ نقشبندیہ
یہی تو ولی کی اصل پہچان ہے
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں:
"ولی وہ نہیں
جو لوگوں کو اپنی طرف بلائے
ولی وہ ہے
جو لوگوں کو اللہ کی طرف لوٹا دے۔"
📚 فتوح الغیب
حضرت پیر ذوالفقار صاحب دامت برکاتہم
نہ اپنی تعریف چاہتے ہیں
نہ اپنی تشہیر
بلکہ بار بار یہی فرماتے ہیں:
"ہم سب مریض ہیں
اور شفا صرف اللہ کے پاس ہے۔"
📚 اصلاحی بیانات، جلد 1
آنسو جو عبادت بن گئے
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
"دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی
ایک وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے روئی
اور دوسری وہ جو اللہ کی راہ میں جاگتی رہی۔"
📚 سنن ترمذی، کتاب الزہد
حضرت پیر صاحب کے آنسو
نہ دکھاوے کے ہیں
نہ مجمع کے
بلکہ سجدوں کے آنسو ہیں۔
عبرت اور پیغام
ہم اپنے مسائل پر روتے ہیں
اپنی دنیا پر
اپنی عزت پر
اپنی ضرورتوں پر
اور اللہ کے ولی
ہم جیسے گناہگاروں کے لیے روتے ہیں۔
اختتامی جملہ (دل ہلا دینے والا)
"ہم جس ولی کے پاس بیٹھے
وہ ہمارے گناہوں پر رو رہا تھا
اور ہم…
اپنی اصلاح پر بھی نہیں روئے۔"


مدرسے کے لیے تعاون کریں سال کا اخر ہے مدرسے میں کچھ پیسوں کے دقتیں اگئی ہیں اپ حضرات سے درخواست ہے کہ کچھ امداد کریں مدرسے کے لیے صدقہ کریں صدقہ کرنا بہت بڑا ثواب ہے اور  شاٹ بھیج دیں اسی نمبر پر اور اس نمبر پر گوگل پہ فون پہ بھی چلتا ہے چاہے تو بھیجدیں یا اس
8303462495