کچے مکانوں کے سچے لوگ: کہاں کھو گیا وہ پرانا وقت؟
تحریر: محمد مسعود رحمانی ارریاوی
آغازِ کلام (شعر):
"دلوں کی دوریاں لفظوں سے کم کرنے کی کوشش ہے"
"مرا لکھنا مری مجبورِ الفت کی نمائش ہے"
یادوں کا سفر:
آج جب میں اپنے سیمنٹ اور سرئیے سے بنے پکے مکان کی بالکونی میں بیٹھتا ہوں، تو مجھے وہ مٹی کی خوشبو بہت یاد آتی ہے جو بارش کی پہلی بوند پڑتے ہی کچے آنگن سے اٹھا کرتی تھی۔ وہ وقت کتنا عجیب تھا! مکان کچے تھے مگر رشتے بہت پکے تھے۔ دیواریں چھوٹی تھیں مگر دل بہت بڑے تھے۔ اس وقت گھروں میں کواڑ (دروازے) تو ہوتے تھے، مگر تالے لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی، کیونکہ پورا محلہ ایک خاندان ہوا کرتا تھا۔
دلچسپ موازنہ:
آج ہمارے پاس واٹس ایپ پر ہزاروں "دوست" ہیں، مگر دکھ سکھ بانٹنے کے لیے کوئی پڑوسی پاس نہیں بیٹھتا۔ پرانے وقتوں میں جب کسی ایک کے گھر سالن بنتا تھا، تو اس کی خوشبو پورے محلے میں جاتی تھی اور شام تک آدھا محلہ وہ سالن چکھ چکا ہوتا تھا۔ آج ہم نیٹ فلکس اور یوٹیوب پر فلمیں دیکھتے ہیں، لیکن وہ مزہ کہاں جو سردیوں کی راتوں میں دادی ماں کی کہانیوں اور آگ کے الاؤ کے گرد بیٹھ کر آتا تھا!
سچائی کی مٹھاس:
لوگ کہتے ہیں ہم نے ترقی کر لی ہے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ ہم نے سہولتیں خریدیں اور سکون بیچ دیا۔ تب بجلی نہیں تھی تو ستارے صاف نظر آتے تھے، پنکھے نہیں تھے تو ٹھنڈی ہوائیں لوریاں سناتی تھیں۔ آج سب کچھ ہے، مگر وہ بے فکری کی نیند نہیں ہے۔
شاعری:
وہ کچے گھروں کی مٹی، وہ پیپل کی چھاؤں
بہت یاد آتا ہے اپنا وہ بیتے وقت کا گاؤں
اسٹیٹس تو ہم ہر روز بدلتے ہیں مسعود
کاش کہ اپنے رویوں میں بھی تبدیلی آتی
"صدائے قلم" کے قارئین سے ایک پیاری سی اپیل:
"میرے پیارے دوستو! یہ تحریر لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں پرانی یادوں کی چمک آ گئی ہے۔ کیا آپ کو بھی وہ پرانا وقت یاد ہے؟ کیا آپ بھی اس کچی مٹی کی خوشبو کو (Miss) یاد کرتے ہیں؟
اگر اس تحریر نے آپ کے دل کو چھوا ہے، تو اپنی کوئی ایک 'پرانی یاد' کمنٹ (Comment) میں ضرور شیئر کریں۔ آپ کا Like کرنا میری محنت کا صلہ ہوگا اور Follow کرنا اس سفر کو جاری رکھنے کا حوصلہ۔ دیکھتے ہیں کتنے لوگوں کو اپنا بچپن آج بھی یاد ہے!"