جھوٹ پھیلانے سے احتراز کریں!
28 دسمبر، 2025
قرآن کریم اور احادیث نبویہ علی صاحبہا الصلوۃ والتسلیم میں متعدد مقامات اور مختلف مواقع پر صدق بیانی اور سچ بولنے کی فضیلت وارد ہوئی ہے، اور صد یقین کا حشر انبیاء و صلحاء کے ساتھ ہونے کو بیان کیا ہے ؛ بلکہ اہل ایمان کو *” کونوا مع الصادقین “* کے ذریعہ سچے لوگوں کی صحبت کی ترغیب دی ہے، نیز کئی جگہوں پر کذب بیانی اور جھوٹ بولنے کی ممانعت کے ساتھ کذاب و دروغ گو کو مختلف عذاب و سزا کی وعیدیں سنائی گئی ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت صادقہ و مطہرہ میں کذب اور جھوٹ سخت گناہ کا عمل ہے ،اور ہر فرد بشر کے لیے اس سے احتراز و اجتناب لازم و ضروری ہے، چناں چہ ایک جگہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدق کی اہمیت اور کذب کی رذالت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : " **إنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إلى البِرِّ، وإنَّ البِرَّ يَهْدِي إلى الجَنَّةِ، وإنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حتّى يَكونَ صِدِّيقًا. وإنَّ الكَذِبَ يَهْدِي إلى الفُجُورِ، وإنَّ الفُجُورَ يَهْدِي إلى النّارِ، وإنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حتّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذّابًا.(رواہ البخاری عن ابن مسعود)** کہ سچائی نیکی تک لیجاتی ہے ،اور نیکی جنت تک پہنچاتی ہے اور ایک آدمی سچ بولتے رہتا ہے ؛حتیٰ کہ وہ عنداللہ صدیق ہو جاتا ہے، اور جھوٹ بے حیائی تک لیجاتا ہے ،اور بے حیائی جہنم میں پہنچاتی ہے اور آدمی مسلسل جھوٹ بولتا ہے؛ یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت ساری حدیثیں ہیں جن میں جھوٹ بولنے والوں کو عذاب اخروی سے ڈرایا گیا ہے ۔ *فاعتبروا یا اولی الابصار۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
یہ دور ترقی کا دور ہے، سوشل میڈیا ، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کا زمانہ ہے اسمارٹ فون کی شکل میں پوری دنیا ہاتھوں میں سمٹ گئی ہے۔ ہر بندہ جو چاہتا ہے بغیر تحقیق کےشائع کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے جھوٹ و کذب کی قباحت ہمارے دلوں سے نکلتی جارہی ہے ، آج کے زمانہ میں سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے نشر ہونے والی خبر زیادہ ترکذب و افتراء پر مبنی ہوتی ہے، جس میں ایک فیصد بھی صدق شامل نہیں ہوتا ہے ،اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہمارے فون پر آنے والی ہر خبر ہر اشتہار اور ہر بات کو سچ اور حقیقت پر مبنی مان کر بلا تحقیق آگے فارورڈ کر دیتے ہیں ،اور ہمیں ذرا بھی احساس و شعور ر نہیں ہوتا کہ ہم سے جھوٹ جیسے عظیم گناہ سرزد ہورہا ہے، ایسے موقع پر ہمیں قرآن کریم کے اس فرمان عالیشان کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے جس میں خالق کائنات ارشاد فرماتے ہیں *”يا أَيها الَّذين آمنُوا إِن جاءَكُم فاسق بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهالَة فتُصْبِحُوا عَلى ما فَعلْتُمْ نادِمِينَ“* کہ ایمان والو ! جو خبر بھی تمہارے پاس آئے ،پہلے اس کی تحقیق کرلو اور اچھی طرح چھان بین کرو کہیں ایسا نہ ہوکہ بغیر تحقیق کے خبر پھیلانے کی وجہ سے جہالت اور نادانی میں کسی کو کوئی تکلیف پہنچ جائے ۔۔۔
یہ ترقی و تعلی کا زمار ہے، ہر چیز کے اسباب آسانی سے فراہم ہو جاتے ہیں، کسی چیز کے حصول میں دشواری وسختی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے، خصوصاً کسی خبر کی تحقیق کرنا بہت سہل ہو گیا ہے۔ دوسری طرف سوشل میڈیا جھوٹ کا اڈہ بن چکا ہے ، واٹس ایپ اور فیس بک میں افتراء پردازی کی بھر مار ہے ؛ اس لیے کسی طرح کی خبر پھیلا نے سے قبل تحقیق کرنا لا بدی امر ہے؛تاکہ انجانے میں جھوٹ نشر نہ ہو جائے اور پھر اس وعید کے تحت آجائے ،جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا *: ”من سنَّ سُنةً حسنةً فله أجرُها ما عُمِلَ بِها في حياتِهِ وبعدَ موتِهِ حتى تُتْرَكَ، ومن سنَّ سُنَّةً سيِّئَةً فعليْهِ إثْمُها ما عُمِلَ بها في حياته وبعد موتِهِ حتّى تُتْرَكَ* “ جس نے کوئی اچھا عمل قائم کیا اسے اس کا اجر ملے گا جب تک کہ اس کی زندگی میں اس پر عمل کیا جائے اور اس کی موت کے بعد جب تک کہ اسے ترک نہ کر دیا جائے۔ اور جو کوئی برا عمل قائم کرے گا وہ اس کا گناہ اس وقت تک اٹھائے گا جب تک کہ اس کی زندگی میں اور اس کی موت کے بعد اس کو چھوڑ نہ دیا جائے ۔ اس حدیث کے ذیل میں یاد رکھنا چا ہیے کہ اگر ہم سے کوئی چھوٹی بات صادر ہوتی ہے اور دوسرے لوگ اس کو سچ مان کر عمل کرتے ہیں اور آگے اس کی اشاعت کرتے ہیں تو جب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اس وقت تک سب کا گناہ نشر کرنے اور پھیلانے والے کے نامۂ اعمال میں لکھا جائے گا۔ لہذا ہمیں سوشل میڈیا کے استعمال کے وقت بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے، ہر خبر، ہر بات ہر قول اور ہر میسچ کی تحقیق و تدقیق کے بعد ہی اس کی اشاعت کی جائے، ورنہ ہمیں بھی یوم حساب میں مجرم بن کر رب ذوالجلال کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا۔ اللہ برے کاموں سے ہماری حفاظت فرمائیں ۔( آمین )
*✍️: محمد شاہد گڈاوی*