🪡••• {اپنے چاک دامن بھی رفو کر لے}•••

گزشتہ ڈیرھ صدی سے نام یزید پہ سازش کی جارہی ہے کہ یزید نام نہ رکھا جاۓ جس کے نتیجہ میں اس نام سے لوگوں کو اس قدر نفرت ہوگئی ہے کہ کوئی اپنے بچوں کانام یزید نہیں رکھنا چاہتا ہے اور اگر کوئی غلطی سے رکھ لے تو اس کے ذہنوں میں یہ فتور ڈالا جاتاہے کہ یہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قاتل ہیں ،لہذا یہ نام نہ رکھاجاۓ جبکہ وہ ایک واقعہ تھاجو کہ گزر چکا ،
یزید براہ راست حضرت حسین کے قاتل نہیں تھا،بالواسطہ انہیں قاتل کہاجاتا جبکہ یہ بھی مشکوک بات ہے، اسکے بر خلاف حضرت علی کے قاتل ابن ملجم جس کا حقیقی نام عبد الرحمن تھا اور اس کے قاتل ہونے میں کو ئی شک بھی نہیں ہے اگر دیکھا جائے تو عبد الرحمن نام بھی نہ رکھنا چاہیے اسی طرح ایک جنگ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرجس نے حملہ کیا اس کانام عبد اللہ تھااور بھی کئی نام ایسے ہیں جس کی شخصیت تاریخی رو سے بری ثابت ہوئی ہےمگر آج عبد اللہ، عبد الرحمن وغیرہ نام رکھنے میں کسی کو کوئی تأمل نہیں سب رکھتے ہیں اور اچھا سمجھتے ہیں، جب یہ سب نام رکھنے میں کسی کوکوئی فرق نہیں پڑتا تو یزید کےنام رکھنے میں لوگوں کیوں لوم وتلائم کیاجاتا ہے ؟جبکہ تقریبا چار سو محدثین ایسے ہیں جن کانام یا اس کا جز یزید ہے ، اس سے معلوم ہوگیا کہ شخصیت کے عیب دار ہونے کی وجہ سےنفس نام میں کوئی فرق نہیں پڑتا ،لہذا نام یزید رکھنے میں کوئی طعن و تشنیع نہیں ہوناچاہیے ،شخصیت خراب ہوتی ہے نہ کہ نفس نام -

سازش:
شیعوں نے اپنی غداری اور بے وفائی کے عیب کو چھپانے کے لیےیہ ہنگامہ برپا کیا ہے کہ یزید حضرت حسین کے قاتل ہیں، انگریزوں کےزمانہ میں اس کو اتنی شہ دی گئی کہ اب اس نام سےسادہ لوح لوگوں کو ذلت محسوس ہورہی ہے،لہذا ہمیں باتوں کی تحقیق میں جانی چاہیے اور امر واقعی تک پہونچنا چاہیے،اور بلاوجہ کسی سے اتنی نفرت کرنا کہ اس کے ناموں سے بھی اذیت محسوس کرے یہ دانستہ اور باشعور آدمی کے شعار نہیں ہے -
اگر ہم تاریخ کا صحیح سے مطالعہ کریں گے تو ہمارے اندر وسعت پیدا ہوگی اور ہم اسلاف واخلاف اعتدال پہ رکھتے ہوۓ صحیح نہج قائم رہیں گے
اللہ ہماری فتنہ پرورلوگوں سے فتین اور دشمنان صحابہ سے ہماری حفاظت فرمائے آمین