قارئین کرام: مسلمانوں میں اس وقت ان کے ہر ملک میں تعلیم کی اہمیت کو اچھا خاصا محسوس کیا جانے لگا ہے اس کے مسائل اور تقاضوں پر غور کرنے کے لئے مسلمانوں کے دانشور اور باشعور افراد کے مشاورتی اجتماعات بھی منعقد ہوتے ہیں اور ضرورت کے احساس کے ساتھ علمی تدابیر بھی اختیار کی جاتی ہیں اس کی وجہ سے مسلمانوں کی نئی نسل کے لئے تعلیم کا انتظام کرنے کارجحان عام ہو گیا ہے اگر چہ مطلوبہ مقدار اور ضرورت کے لحاظ سے یہ ابھی کم ہے لیکن جتنا ہے وہ ایک فال نیک ہے۔

انسان کےلئےخصوصادینی تعلیم ایساہی ہے جیسے جسمانی صحت کے لئے کھانا۔ موجودہ عہد میں مغربی قوموں کی تعلیم کے میدان میں فکرمندی ترقی اور نظم و انتظام پھر اس کے دور رس نتائج نکلنا سب کے سامنے ہے ان کو دیکھ کر ہمارے پسماندہ مشرقی ممالک میں بھی اپنے لئے تعلیم کے بہتر نظم و انتظام کی ضرورت کا احساس بڑھا اور اس کے نتیجہ میں عصری مضامین کی درسگا ہیں قائم کی گئیں اور کی جارہی ہیں لیکن یہ عمل بڑے وسائل اور حسن انتظام اور فکر مندی کا طالب ہے جس کی مسلمانوں میں کمی بھی ہے اور اس کے لئے توجہ بھی ابھی کم ہے بہر حال اس کے جو وسائل اور تقاضے اور جو دشواریاں ہیں وہ مسلم دانشوروں کی خصوصی توجہ کی محتاج ہیں اور ان کی مخلصانہ فکر پر بہتر نتائج کے حصول کا انحصار ہے۔

آزادی سے قبل تعلیم کی ضرورت کو اس اہمیت اور وسعت کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا برطانوی اقتدار کے تحت زیادہ تر کلرک اور آفیسر سطح کے افراد تیار کرنے کو اہمیت دی جاتی تھی زندگی کو ہمہ جہتی ترقی دینے کی ضرورت کے لئے تعلیم کی افادیت کو عموماً نظر انداز کیا جاتا تھا آزادی کے بعد ہنر مند افراد تیار کرنے کی ضرورت کو بہت محسوس کیا جانے لگا اور مضامین تعلیم میں نسبتاً سائنس کے شعبوں کی طرف توجہ بڑھی اور سائنس کے نظری اور عملی دونوں پہلوؤں کو اختیار کیا گیا۔

مسلمانوں کی تعلیم کے مختلف عناصر میں ایک بڑا اور بنیادی عنصر دینی تعلیم کا رہا ہے اس کو مسلمانوں نے آزادی سے قبل بھی اس کا مقام دینے کی کوشش کی اور اس سے تیار ہونے والے افراد نے ملت کی دینی ضرورت کو خاصی حد تک پورا کیا اور ان میں سے ایک تعداد نے آزادی کی جنگ میں بھی نمایاں حصہ لیا اور قربانیاں دیں پھر آزادی کے بعد بھی یہ دینی تعلیم قائم رہی بلکہ مزید اضافہ ہوا۔ دینی علوم کے مدارس اور جامعات مزید قائم کیے گئے اور قائم کئے جارہے ہیں اور وہ قوم کو اس کی دینی ضرورت کے افراد ایک حد تک مہیا کر رہے ہیں۔

مسلمانوں کی قائم کردہ درسگاہوں میں ایک تو وہ درسگاہیں ہیں 

جنھوں نے اپنے کو علوم دینیہ کی حفاظت اور ترویج کے ساتھ وابستہ کر لیا ہے وہ عوامی چندوں سے اپنی مالی ضرورت کو پورا کرتی ہیں اور اس میں اسلامی شعور رکھنے والے اہل ثروت اپنے اپنے جذبہ دینی کے مطابق حصہ لیتے ہیں یہ درسگاہیں امت کو علمائے دین اور مذہبی رہبر و مصلح فراہم کرتی ہیں جو امت اسلامیہ میں دین کی حفاظت اور اس کی زندگی کو دینی ضوابط کا پابند بنانے کی کوشش کا اپنا فریضہ انجام دیتے ہیں۔

ہندوستان کو آزادی ملنے پر مسلمانوں کو اقلیت میں ہونے کے باعث سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا یہ حالات مسلمانوں کے مذہبی عقیدہ اور ان کے اسلامی تشخص کے لئے ایک طرح سے چیلنج بننے لگے تھے اس صورت حال کے پیش نظر امت کے غیرت مند اور اسلامی تشخص کو برقرار رکھنے کا مخلصانہ جذبہ رکھنے والے اہم افراد اکٹھا ہو کر اس عزم پر متفق ہوئے کہ مسلمانوں کی نئی نسل کو جو اس نئے آزاد ہونے والے ملک میں جہاں کے مسلمان اقلیت میں ہیں ملک کی عام فضا جو اسلامی فکر و عقیدہ کے موافق نہیں ہے اس سے بچانے کے لئے اس کے ابتدائی مرحلہ ہی میں ضروری قدم اٹھانا ہے اور کوئی بہتر نظام طے کرنا ہے کیونکہ نئی نسل کسی بھی قوم کی ہو کسی بھی ملک کی ہو اپنے ماں باپ کے ماحول سے نکل کر جب دوسروں سے سیکھنے اور اثر لینے کے مرحلہ میں داخل ہوتی ہے تو اپنے اخلاق و کردار اور عقائد و افکار پر ان کا پورا اثر قبول کرتی ہے اور اس طرح وہ اپنے مذہب و ثقافت کے لحاظ سے دیگر مذہب و ثقافت والوں سے مختلف ہونے کی وجہ سے ورثہ میں حاصل کردہ اخلاق و کردار سے محروم ہو جاتی ہے ان منفی اثرات سے بچانے کے لئے اگر ابتداء ہی میں ضروری تدابیر اختیار نہیں کی جاتیں تو یہ نسل بڑی ہو کر اپنی ملت و قوم کے طور طریق پر چلنے والی نہیں ہوتی اور اس کا فکر و خیال غیروں سے ماخوذ ہوتا ہے

مسلمانوں کی تعلیم کے مختلف عناصر میں ایک بڑا اور بنیادی عنصر دینی تعلیم کا رہا ہے 

اسلام نے ہم کو جو تعلیمات دی ہیں ان کا جاننا اور ماننا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے چنانچہ ہم کو اس ملک میں جہاں طرح طرح کے عقیدے اور مذاہب ہیں اپنی نئی نسل کے ذہنوں کو ان کی عمر کے آغاز ہی میں اسلام کے صحیح عقیدہ و عمل سے واقف کرادینا ضروری ہے تا کہ وہ اپنے صحیح راستہ سے بھٹکنے سے محفوظ رہیں ہمارے دینی تعلیمی اداروں کی ساری جد جہد یہی ہے جب ابتدائی مرحلہ کے بعد تعلیم کے قومی نظام میں شامل ہو تو اس کے عقائد اور دینی بنیاد صحیح قائم ہو سکے اور وہ اپنے کو مسلمان ملت کا فرزند سمجھے اور اپنی بنیادی قدروں سے آشنا ہو اس میں اس کو دھو کہ کھانے سے اور غیروں کے مخالفانہ اثرات سے محفوظ رہنے کا راستہ مل جائے گا۔

تعلیم کے مادی اور خالص دنیاوی عناصر کی اہمیت کا زیادہ احساس رکھنے والے کچھ افراد دینی علوم کی تعلیم کے بندو بست کو زائد از ضرورت انتظام قرار دیتے ہیں یہ لوگ دراصل دینی تعلیم کی اہمیت کا پورا اندازہ نہیں رکھتے مسلمانوں کو مسلمان باقی رکھنے اور ان میں اسلامی واقفیت اور صلاحیت پیدا کرنے کے لئے یہ دینی علوم کی درس گاہیں بنیادی کردار انجام دیتی ہیں ان کو امت کی دینی ضرورت کے لحاظ سے دیکھنا چاہئے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ عہد جدید کے مسلم تعلیم یافتہ طبقہ کا مغربی فکرو تہذیب کے اثر نے ایک طرف یہ ذہن بنایا کہ وہ دین کو انسان کا صرف ایک ذاتی مسئلہ اور ایک کم اہمیت کا ایسا معاملہ سمجھنے لگے کہ وہ رہے یا نہ رہے اس سے انسانی زندگی میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا حالانکہ مسلمان قوم کے لئے اس کا دینی عقیدہ اس کے تحت عملی زندگی ان کے لئے بنیادی حیثیت کی مالک ہے اسی طرح مدارس دینیہ دینی تقاضہ اور ضرورت کے تحت جو کام انجام دے رہے ہیں مسلمان کی زندگی میں اس کی بڑی اہمیت ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ مدارس کی اس اہمیت کا خود مغربی طاقتوں نے اندازہ لگا لیا ہے اور یہ سمجھ لیا ہے کہ دین کی پابندی انسان میں واقعتا ایک خاصی افادیت پیدا کر دیتی ہے چنانچہ وہ اس زاویہ نگاہ سے مسلمانوں میں ابھرتے ہوئے دینی شعور کو ایک ابھرتی طاقت محسوس کرنے لگے ہیں جس کو وہ اپنی بے دینی کی زندگی اور بے حیا اور گمراہ فکر و تہذیب کے لئے خطرہ محسوس کرتے ہیں اور اس کی بنیاد پر وہ مسلمانوں کے مدارس دینیہ کو اپنی دشمن اسلام تہذیب کے لئے مصر سمجھتے ہیں ۔ کیونکہ ان کے نزدیک ان مدارس سے ایسے لوگ پیدا ہور ہے ہیں جو کہ مغربی دنیا کی ملحدانہ کیفیت اور اخلاقی بیبیا کی اور حیا سوزی و شخصی کردار کی آزادی کے لئے مخالف اثرات رکھنے والے اور ان کا مقابلہ کرنے والے ہیں افسوس کی بات ہے کہ ہمارے مغرب زدہ مسلمان دانشور بھی دینی مدارس کے مفید اثر کو نظر انداز کر کے مغرب کے منفی خیال میں اس کے ہمنوا بن جاتے ہیں۔ ہمارے یہ دینی مدارس کئی طرح کے ہیں ان میں سے ایک ابتدائی مدارس جن کو مکاتب کا نام دیا جاتا ہے یہ عموماً درجہ پانچ تک ہوتے ہیں ان میں اردو قرآن مجید ناظرہ اور اچھی اخلاقی دینی اور تہذیبی باتیں جو بچوں کی سمجھ کے مطابق ہوتی ہیں پڑھائی جاتی ہیں ساتھ ساتھ کچھ حساب اور ہندی کی حرف شناسی بھی سکھائی جاتی ہے ان کا معیار حکومتی پرائمری درجات کے مطابق ہوتا ہے۔

یہ نصاب تعلیم مسلمان بچوں کے لئے عقیدہ و مذہب کے لحاظ سے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اس سے جو مسلمان بچے محروم رہتے ہیں وہ اپنے دین و مذہب سے واقفیت میں بالکل کو دور رہ جاتے ہیں پھر اگر ان کو غیر اسلامی ماحول. ملے تو وہ اسلام سے بہت دور ہو جاتے ہیں۔

ان ہی دینی مکاتب میں بعض جگہ تین سال کا حفظ قرآن کا کورس بھی شامل کر دیا جاتا ہے جس سے بچے حافظ قرآن بن جاتے ہیں اور ان سے امت اسلامیہ کی حفظ قرآن کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے جو اپنی جگہ پر ایک اہم ضرورت ہے جس کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں ہے۔

اس کی فکر بڑھانا چاہئے کہ دینی و تعلیمی کام زیادہ ہمت اور توجہ سے انجام دیا جائے اور زیادہ سے زیادہ علاقوں میں مکاتب قائم ہوں اور ان کے ذریعہ بھی نسل کے دل و دماغ میں اسلام کے بنیادی عقائد و مسائل راسخ کر دئے جائیں تا کہ اس کے ذریعہ کم سے کم ان کا اسلامی ذہنی تشخص محفوظ رہے اور وہ اپنے اس قیمتی تشخص سے محروم نہ ہو جائیں سب کو اس کی فکر کی ضرورت ہے کہ ہم اس ملک میں اپنے ایمان و اسلام کی سلامتی کے ساتھ زندگی گزاریں اور ہمارا یہ عقیدہ اور یہ اسلامی تشخص ہم سے چھینا نہ جاسکے اس کے لئے اس کام سے دلچسپی بڑھانے کی اور اس کے لئے مناسب کارگزاروں کے آگے بڑھنے کی اور کام کے سنبھالنے کیلئے سامنے آنے کی ضرورت ہے۔

امت اسلامیہ کی زندگی کے دونوں پہلوؤں یعنی دنیاوی ضروریات اور آخرت کی سلامتی اور کامیابی کی ضرورت کو پیش نظر رکھنا امت مسلمہ کے ذمہ دار طبقہ کی ذمہ داری ہے امت کی طبی ضرورت کے لئے کتنے آدمی چاہئیں انتظامی ضرورت کے لئے کتنے کار پرواز چاہئیں سیاسی ضرورت کے لئے اور سماجی کاموں کے لئے کتنے افراد چاہئیں قانونی تقاضوں کے لئے کتنے ماہرین کی ضرورت ہے اسی طرح ہماری دینی اور اخلاقی ضرورت کے لئے کتنے واقف کاروں اور ذمہ داری سنبھالنے والوں کی ضرورت ہے یہ سب ضرورتیں ہمارے پیش نظر ہونا چاہئیں مقدار اور تعداد کا اندازہ لگانے میں فرق ہو سکتا ہے لیکن کسی اہم پہلو کو نظرانداز کر دینا صحیح نہیں قرار دیا جا سکتا۔

لہذا ہمارے دینی مدارس جو ابتدائی تعلیم کے مکاتب کی شکل میں ہوں وہ تو اتنی تعداد میں رہنے چاہئیں کہ امت کے تمام بچے ان سے مستفید ہو سکیں اور وہ مدارس جن میں عالم و فاضل بننے کی سطح تک تعلیم کا انتظام ہو وہ اس کی ضرورت کے مطابق قائم کئے جانے اور باقی رکھے جانے ضروری ہیں اس میں امت کے تمام طبقوں اور دانشوروں کو ساتھ دینا اور تعاون کرنا چاہئے یہ امت کے مقام اور کردار کو معیاری بنانے اور اس کو اسکے شایان شان حیثیت تک اٹھانے کے لئے ضروری ہے۔