انسان کی زندگی میں شور بہت ہے، مگر سمجھ بہت کم۔ ہم بولتے زیادہ ہیں، سنتے کم ہیں؛ دکھاتے زیادہ ہیں، محسوس کم کرتے ہیں۔ اسی شور میں کہیں نہ کہیں خاموشی کی آواز دب جاتی ہے، حالانکہ یہی خاموشی انسان کو خود اس سے روشناس کراتی ہے۔
خاموشی کمزوری نہیں، یہ شعور کی علامت ہے۔ جو شخص ہر بات پر بولنے کے بجائے سوچتا ہے، وہی اصل میں زندگی کی گہرائی کو سمجھ پاتا ہے۔ بڑے فیصلے، گہری سوچ اور مضبوط کردار اکثر خاموشی ہی میں جنم لیتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنہوں نے کم کہا اور زیادہ کیا، وہی یاد رکھے گئے۔
آج کا انسان ہر لمحہ خود کو ثابت کرنے میں لگا ہے۔ سوشل میڈیا، شہرت اور تعریف کی دوڑ نے ہمیں اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قدر خاموشی میں ہوتی ہے، نمائش میں نہیں۔ جیسے خوشبو پھول کے شور سے نہیں، اس کی خاموش موجودگی سے پھیلتی ہے۔
اگر ہم روز تھوڑا سا وقت خاموشی کو دے دیں، خود سے بات کریں، اپنے اعمال کا جائزہ لیں، تو شاید ہم بہتر انسان بن سکیں۔ کیونکہ جو اپنے اندر کی آواز سن لیتا ہے، وہ دنیا کے شور سے نہیں ڈرتا۔