خواب کیا ہے ، اس کی حقیقت کیا ہے ، یہ راز و نیاز کی باتیں اللّٰه ہی بہتر جانتا ہے البتہ ہمیں اور آپ کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ خواب کی تعبیر ہمیشہ خیر اور حسن کے پہلو سے ہی کی جائے ۔

یہ واقعہ تقریباً دو سال پہلے کا ہے ، جب میں دارالعلوم میں زیر تعلیم تھا اور شعری مجموعہ " پیامِ حاضرؔ " کا ایک ایڈیشن اپنی تکمیل کو پہنچ چکا تھا کہ ایک صبح میری آنکھ کھلی تو ایک خوشگوار سی کیفیت مجھ پر طاری ہو رہی تھی ، لبوں پر مسکراہٹ ، آنکھوں میں چمک اور ذہن و دماغ پر عجیب سی مستی چھا رہی تھی ، سرشاری کا یہ عالم تھا کہ مجھے خود پر غالب کے اس مصرع کا گمان ہونے لگا تھا کہ *" جامِ ہر ذرہ ہے سرشارِ تمنا مجھ سے "* میں خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا اور خود پر اپنا کنٹرول کھو رہا تھا کہ میں نے رات، خواب دیکھا کہ *زبان و قلم کے بے تاج بادشاہ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد* اپنے مخصوص وقار اور شان کے ساتھ ، پیر پر پیر چڑھائے ایک بلند کرسی پر جلوہ گر ہیں ، ہاتھ میں " پیامِ حاضرؔ " کا نسخہ ہے جس پر وہ کچھ تحریر فرما رہے ہیں ، گو کہ یہ منظر میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا مگر پھر بھی مجھے محسوس ہوا کہ کوئی غیب سے مجھے خبر دے رہا ہے کہ مولانا آزاد نے آپ کی کتاب " پیام حاضر" پر مقدمہ لکھ کر اپنے مکتبے سے شائع کیا ہے ، یہ سننا تھا کہ فرطِ مسرت میں میری آنکھوں میں نمی سی اتر گئی اور میں اسی حالتِ کیف و شکر میں سپاس گزاری کے لیے حاضر خدمت ہوا ، اب مجھے یہ تو یاد نہیں رہا کہ میں نے ان کا شکریہ کس طور سے ادا کیا اور ان کے مکتبے کا نام کیا تھا لیکن یہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں کسی بت کی مانند اپنی جگہ منجمد ، سراپا عقیدت بنے ، بس انہیں دیکھتا رہ گیا ۔

ابھی رضا خیال دہلوی نے تذکرہ کیا کہ آج ۲۷ دسمبر مرزا غالب کی یوم ولادت ہے اور اتفاق یہ کہ اسی تاریخ 27/ دسمبر 2023 کو شعری مجموعہ " پیامِ حاضرؔ " بھی پہلی بار منظر عام پر آیا تھا اسلیے پیام حاضر کی مناسبت سے یکایک مجھے یہ خواب بھی یاد آگیا اور اب تک ، میں جسے قارئین میں غلط تاثر قائم ہونے کے خوف سے بیان نہیں کرسکا تھا آج جبکہ " پیام حاضر " کا دوسرا ایڈیشن بھی تقریباً تمام ہوچکا ہے اور میں دوسرا مجموعہ " رزم و بزم" کی تیاری میں مصروف ہوں تو اسے بیان کرنے سے خود کو روک نہیں سکا اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں جانا تاہم مجھے اس حقیقت کا اچھی طرح اعتراف ہے *" چہ نسبت خاک را با عالم پاک "* ؂

. *شاہی ارریاوی*
شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ ٣ تا ٥ ۔