بزرگان دین علیہم الرحمہ کے اعراس منانے کے مقاصد میں سے، اہم مقصد یہ ہے کہ عوام الناس ان کی سیرت و کردار، اخلاق و عادات اور تعلیمات سے آگاہ ہو سکیں۔ 

آج عرس حضور غریب نواز ہے۔ الحمدللہ! سنیوں کا بچہ بچہ اس نام سے واقف ہے۔ ہم بچپن سے خواجہ پیا کا ذکر خیر سنتے آئے ہیں۔ اور ان کی تعلیمات و کرامات کو جاننے اور ماننے والے ہیں۔ انہوں نے جو کِیا، بلا شبہ! ہم وہ نہیں کر سکتے؛ لیکن جو ہم کر سکتے ہیں، اس کی طرف آنے کے بارے میں سوچتے تک نہیں!

حضور غریب نواز علیہ الرحمہ نے 90 لاکھ کو با یک وقت کلمہ طیبہ پڑھا کر، دائرہ اسلام میں داخل کیا۔ آج ہم یہ نہیں کر سکتے؛ لیکن کم سے کم اپنے اور اپنے عزیز و اقارب کے ایمان کو بچانے کے اقدامات تو کر سکتے ہیں۔

ملک کے حالات سے کون واقف نہیں؟ سب جانتے ہیں کہ کس طرح دشمنانِ اسلام مسلمانوں کو ورغلا کر ان کے ایمان کو ضائع کرنے کی ان دھک کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔

آج ہماری بچیاں؛ بل کہ مائیں اسلام سے منہ موڑ کر دشمنان خدا سے بغلگیر ہو رہی ہیں۔ اور ہمارے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی! ہم تو یہ سوچ کر خاموش ہیں کہ یہ ہمارے گھر کا معاملہ نہیں ہے۔

یاد رکھیں! آگ اگر آپ کے پڑوس میں لگی ہے، تو چنگاری آپ کے گھر بھی ضرور آئے گی۔ اور کب یہ چنگاری، آگ کی شکل اختیار کر لے، آپ کو خبر بھی نہ ہوگی! 

لہذا ہمیں چاہیے کہ حضور غریب نواز علیہ الرحمہ کے عرس مبارک کے موقع پر خود سے یہ وعدہ کریں کہ جان جائے تو جائے؛ لیکن ایمان نہ جانے پائے۔ اپنے اور اپنے بچوں، عزیز و اقارب کے ایمان و عقیدے کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ کسی بھی قیمت پر دشمنان خدا و رسول ﷺ سے مائل نہ ہوں گے۔ 

آج ہم کسی کو کلمہ پڑھا کر مسلمان نہیں کر سکتے، تو کم سے کم کسی مسلمان کو مرتد ہوتے ہوئے بھی برداشت نہ کریں! بے راہ روی کی شکار بہنوں، نوجوانوں اور دیگر افراد کو، راہ حق پر لانے کی سعی کریں۔ ان کو علمائے حقہ سے وابستہ کریں؛ تا کہ وہ ایمان کی قدر جانیں اور اس کی حفاظت کے لیے فکر مند ہوں! 

اللہ کریم ہمیں صحیح معنوں میں بزرگان دین کے اعراس منانے والا بنائے اور حضور غریب نواز علیہ الرحمہ کے فیوض و برکات سے بہرہ ور فرمائے اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنے والا بنائے۔ آمین اللہم آمین!