لکھتے ہوۓ ہاتھ کانپ رہے ہیں اور ہجوم خیال میں یہ بات بار بار کھٹک رہی ہے کہ جو میں لکھ رہاہوں لوگ کیا کیا تبصرہ کریں گے کوئی تو مخالف ہوا چلے گی ،یا پھر موافق تلخ گھونٹ ہوگا یا شیریں عجیب سے خیالات ہیں ان سب کے باوجود خیالات کو قلم کی زینت بنا رہوں اور الفاظ کی لڑی میں پرو رہاہوں-

آج کل اجلاس ومشاعرہ ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے ،قصبائی اجلاس ہویاضلعی اجلاس ،صوبائی اجلاس ہو یاپھرملکی اجلاس ،یک روزہ اجلاس ہو یا سہ روز اجلاس سب کھیل بن کر رہ گیاہے، لمبے چوڑے اشتہارات لگاۓ جاتے ہیں ،بڑے بڑےالقاب سے نوازے جاتے ہیں،علامہ ،فہامہ ،شہنشاہ خطابت، پیر طریقت ،رہبر شریعت ،داعی اسلام ،حسان الہند بلبل باغ مدینہ جیسے عظیم القاب سے ملقب کیے جاتےہیں، خواہ ان کی ذات اس ان صفات سےمتصف ہو یا نہ ہو کوئی فرق نہیں پڑتا ، اسی سال کاواقعہ ہے ہمارے ایک ساتھی نے بطور زبان زد کے اشتہار میں ایک استاذ کے لیے علامہ کا لفظ استعمال کیا تواس پر ہمارے استاذ محترم نے ہمیں تنبیہ کی تھی تم کسی کے نام کے آگے علامہ اور ان جیسے مبالغہ آمیزالقاب نہ لگایا کرو کیونکہ اس زمانے میں کسی کی توہین اور اس کی رسوائی کے لیے یہی بات کافی ہے تم اس کو علامہ کہہ دو اس لیے کہ اس دور اب کوئی علامہ نہیں ہے وہ پہلے زمانہ کے لوگ ہوتے تھے جو مجتہد فی الزمان کہلاتے تھےاور جبال علم ہوتے تھے تو ان کو بطور مبالغہ علامہ کہا جاتاتھا ،اب ایسا کوئی نہیں ہے اس لیے ان سےاحتراز کرناچاہیے-
 اب دینی اجلاس کا حال یہ ہوگیا ہے اس میں سیاسی لوگ ایم پی ،ایم ایل اے ،مکھیا،ضلع پریشر اور دیگر مذاہب کے پنڈت وغیرہ کو مدعو کیا جاتاہے،
یہ رواج ہمارے یہاں کچھ زیادہ عروج پہ ہے،
ایک وقت تھاجب ایک جلسے سے قوم کی تقدیر بدل جاتی تھی اور وہ جلسہ ایک تحریک کی بنیاد بن جاتی تھی ،پہلے ہردن جلسے نہیں ہوتے تھے ،ایک جلسہ ہوتا تھاوہ تاریخ ساز ہوتاتھا ،
مگر آج کل کا جلسہ ایک مذاق اور دل لگی کا سامان بن گیاہے،خطیب کی خطابت مقرر کی تقریر ،شاعر کا شعر ،نقیب کی نقابت کمانے کا ذریعہ اور دھندابن گیا ہے،کئی شکایتیں ایسی موصول ہوئی ہیں کہ لوگوں نے پوری رات جلسہ میں تقریر سنی اور فجر کے وقت لوگ اورمقرر خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں حتی کہ فجر کی نماز بھی گول گئی، بھلا ایسے جلسےکوئی تحریک بن سکتی ہے جس جسلے سے اس دن کی فجر کی نماز نہ پڑھی گئی ہو-
عجیب سالگتا ہےوہ قوم جو کبھی خاموشی سے ہزار انقلاب لاتی تھی، آج وہ شور وغل کرکے ایک بھی انقلاب نہیں لاپارہی ہے ہے ،قوم کا ایک بڑا سرمایہ جلسے جلوس میں صرف ہورہاہے،
نتیجہ یہاں تک آپہنچا کہ مدرسہ کےجلسۂ دستاربندی میں عالمہ تقریر کے لیے مدعو ہورہی ہیں ،
سوچیے! قوم کہاں جارہی ہے ،میں جلسہ کا مخالف نہیں ہوں مگر ہر روز اجلاس اورہردن کے پروگرام کا ضرور مخالف ہوں، 
پورے ضلع میں ایک یا دو پروگرام ہو قاعدے سے ہو ،انزلو الناس منازلھم کےطرز پر ہو ،عشوہ طرازی سے دور ہو، رات کا پروگرام زیادہ لمبا نہ ہو، ،اور جوبھی ہو وہ ایک تحریک ساز جلسہ ہو،جو بھی بات جلسے میں پیش ہو اس کو عملی جامہ پہنایا جاۓ ،
لیکن ہر روز کے جلسے سےدیگر قوموں میں صرف ہمارا مذاق بنتا ہے اور قوم کا ایک قیمتی سرمایہ ان چیزوں میں صرف ہوتا ہے، جس کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا-
آج دیگر قومیں بطورِ خاص جن کے ہاتھ میں اقتدار ہے ان کے بانی اس کی جماعت کے لوگوں نے انہوں خفیہ طریقے سے زمینی اور افرادی سطح پہ وہ کام کیاکہ آج ہم حیران ہیں اور ان کے ظلم کا شکار ہیں-
 
اس وقت امت مسلمہ کو جن چیزوں کی ضرورت ہے ہم اس کو نہیں پورا کر پارہے ہیں ،جن باطل طاقتوں نےہمارے لوگوں میں عقائد ونظریات میں تشکیک وتشبیہ کا کام کیا اور ان کے عقائد بدل دیے ان کے لیے ہم نے کچھ کام نہیں کیا ،آپ سوچیں کہ کیا ہمیں اسلامک اسکول یونیورسٹی اور کالجز کی ضرورت نہیں ہے ،دختر اسلامیہ کے لیے الگ نظام تعلیم کی ضرورت نہیں اگر ہے تو ہم کڑوروں پہ جلسے جلوس میں صرف کرنے کے بجاۓ ان میں کیوں نہیں کرتے ،
ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم جن حالات سے گزر رہےہیں ان کے ازالہ کے لیے ہمارے پاس کیا لائحۂ عمل ہے-
مفکران ملت سوچیں کہ ہمیں کیا مشکلات در پیش ہے اور ہم کیا کررہے ہیں اب ہمیں زمینی سطح پہ کام کرنے کی ضرورت ہے ،سادگی کے ساتھ ہر فعل انجام دینے کی ضرورت ہے،اور ان تمام برائیوں کو معاشرے سے ختم کرنے کی ضرورت ہےجو آج ہمارے مفادات میں پنپ رہی ہے،مثلا دینی تعلیم سے دوری ،انٹرنیٹ اور ملٹی میڈیا موبائل کا بے جا استعمال ،سودی لین دین ،اور شادی بیاہ میں اسراف وفضول خرچی ان چیزوں میں غور کرنے کی ضرورت اور ہمیں قربانی دینے کی ضرورت ہے ،قوم کو مضبوط کرنے کی اور ترقی دلانے کی ضرورت ہے،ورنہ ملک وملت کے جوحالات ہیں وہ مزید بدتری کی غمازہے
اللہ سمجھ عطا فرمائے آمی