مقدس کرسیوں پر بیٹھے "فرعون" اور ائمہ کی سسکیاں

تحریر: محمد مسعود رحمانی ارریاوی

آغازِ کلام:

دلوں کی دوریاں لفظوں سے کم کرنے کی کوشش ہے

مرا لکھنا مری مجبورِ الفت کی نمائش ہے

ناظمین کی بے حسی کا پہلا نوحہ:

ایک مدرسے کے ناظم صاحب عید کے موقع پر اپنے بچوں کے لیے پچاس ہزار کی خریداری کر کے آئے۔ اسی وقت ایک غریب استاد، جو بیس سال سے وہاں پڑھا رہا تھا، اپنی دو ماہ کی رکی ہوئی تنخواہ (صرف 8 ہزار روپے) مانگنے گیا۔ ناظم صاحب نے بڑی بے شرمی سے کہا: "مولانا! مدرسے میں چندہ نہیں ہے، تھوڑا توکل سے کام لیں۔" وہ استاد خالی ہاتھ لوٹ گیا اور اس رات اس کے بچوں نے عید کے دن بھی وہی سوکھی روٹیاں کھائیں جو وہ روز کھاتے تھے۔ لعنت ہے ایسی نظامت پر جو استاد کے بچوں کو بھوکا رکھ کر اپنی تجوریاں بھرتی ہے!

متولیوں کا دوسرا کربناک چہرہ:

ایک محلے کی شاندار مسجد جس پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے، اس کے متولی صاحب نے مسجد کے فانوس پر تو لاکھوں لٹا دیے، مگر جب امام صاحب نے درخواست کی کہ "بچے کی فیس بھرنی ہے، دو ہزار روپے پیشگی (Advance) دے دیں"، تو متولی صاحب نے پوری کمیٹی کے سامنے امام کو ذلیل کیا کہ "آپ لوگ تو ہر وقت پیسوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں"۔ امام صاحب نے مصلّے پر کھڑے ہو کر اللہ سے تو فریاد کی، مگر ان متولیوں کی سنگدلی نے ایک عالمِ دین کو مسجد چھوڑ کر مزدوری کرنے پر مجبور کر دیا تاکہ وہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے۔

میرا قلم، میری تلوار:

اے ناظمین اور متولیوں! تم جو اساتذہ کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر انہیں اپنی چودھراہٹ کا غلام بناتے ہو، یاد رکھو تم دین کے خادم نہیں، دین کے لٹیرے ہو۔ تم مسجدوں کے مینار تو اونچے کر رہے ہو، مگر انسانیت کو پاتال میں گرا رہے ہو۔ تم سے ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے گا!

شاعری:

مصلّے پر بٹھا کر جو اسے بھوکا سلاتے ہیں

وہ دشمن ہیں پیمبرؐ کے، جو منصب پر اِتراتے ہیں

بڑے ناظم بنے پھرتے ہیں جو قوم کے پیسوں پر

وہی استاد کی اجرت میں مٹھی بھر کھلاتے ہیں

"صدائے قلم" کے قارئین کے لیے آخری چیلنج:

"عزیز دوستو! یہ تحریر ان ظالموں کے چہروں سے نقاب ہٹانے کے لیے کافی ہے۔ اگر آپ کے محلے میں بھی ایسا کوئی 'فرعون صفت' متولی یا ناظم ہے، تو یہ مضمون اس کے موبائل تک پہنچا دیں۔

ایک ضروری وضاحت: سب ایک جیسے نہیں ہوتے

"میرے اس مضمون کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ تمام متولیانِ مساجد یا ناظمینِ مدارس ایک جیسے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج بھی ہمارے درمیان ایسے مخلص اور خدا ترس متولی موجود ہیں جو امام صاحب کی ضرورت کا خیال اپنے گھر کے افراد سے زیادہ رکھتے ہیں۔ ایسے ناظمینِ کرام بھی ہیں جو اساتذہ کی عزتِ نفس کی خاطر اپنی جیب سے ان کی مدد کرتے ہیں اور انہیں معاشی فکر سے آزاد رکھتے ہیں۔

میرا قلم صرف ان مخصوص کالی بھیڑوں کے خلاف ہے جنہوں نے ان مقدس عہدوں کو اپنی انا اور چودھراہٹ کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ مخلص خادمِ دین تو ہمارے لیے قابلِ صد احترام ہیں، لیکن جو استحصال کرتے ہیں، انہیں آئینہ دکھانا ہماری مجبوری اور ایمانی فریضہ ہے۔"

اختتامی دعا و اپیل:

"اللہ تعالیٰ تمام مخلص متولیوں اور ناظمین کو جزا خیر دے اور جو بے حس ہو چکے ہیں، انہیں ہدایت نصیب فرمائے۔

دوستو! اگر آپ میری اس متوازن رائے سے متفق ہیں، تو کمنٹ میں 'حق' ضرور لکھیں اور اسے Share کریں۔ آپ کا Like اور Follow 'صدائے قلم' کو حق گوئی کی ہمت دیتا رہے گا۔"