حدیثِ نبوی ﷺ اور دورِ حاضر کے فتنوں کا ایک حیران کن منظرنامہ
(مطالعے کا ایک اثرانگیز اقتباس)
✒️ مفتی محمدتسلیم الدین المحمودی
آج مطالعہ کے دوران ایک حدیثِ مبارکہ نظروں سے گزری، جو دل و دماغ کو جھنجھوڑ گئی۔ الفاظ نہایت سادہ، مگر معانی میں گہرائی کی انتہا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے یہ حدیث ہمارے ہی اس دور کی تصویر کشی کر رہی ہو—جہاں علم کے طوفان اٹھ رہے ہیں، اور قلم فتنہ بن چکا ہے۔
یعنی: "قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ قلم کا طوفان برپا ہو جائے گا۔"
مفہوم کی روشنی میں غور کریں تو ایسا لگتا ہے کہ آج ہم اسی فتنے کے بیچوں بیچ کھڑے ہیں۔
لکھنے والے لاکھوں میں، لیکن ہدایت والے کم۔
کتابیں چھپ رہی ہیں، مگر بصیرت مفقود۔
علم کا شور ہے، مگر عمل کی خاموشی۔
سچ کمزور، اور فتنہ پرور قلم طاقتور۔
ایسا علم جو عمل سے خالی ہو، یا ایسا قلم جو حق کی جگہ فتنہ اور گمراہی کا ذریعہ بنے، وہ قیامت کی نشانیوں میں شامل ہو چکا ہے۔
ایسا خیال آیا کہ یہ صرف میرے دل کی خلش نہ رہے، بلکہ اس بصیرت افروز بات کو اپنے دینی و فکری ساتھیوں تک بھی پہنچایا جائے۔ سو لیجیے! یہ اقتباس حاضر ہے:
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ تَسْلِيمُ الْخَاصَّةِ وَفَشُوُ التِّجَارَةِ ؛ حَتَّى تُعِيْنَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا عَلَى التِّجَارَةِ، وَقَطْعُ الْأَرْحَامِ ، وَفُشُو القَلَمِ ، وَظُهُورُ شَهَادَةِ الزُّورِ، وَكِتُمَانُ شَهَادَةِ الْحَقَّ. »
ترجمه : حضرت ابن مسعود حضور صلى الله عليه وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت سے کچھ پہلے علامتیں ظاہر ہوں گی: خاص خاص لوگوں کو سلام کہنا ، تجارت کا یہاں تک پھیل جانا کہ عورتیں مردوں کے ساتھ تجارت میں شریک اور مددگار ہوں گی ، رشتہ داروں سے قطع تعلقی قلم کا طوفان برپا ہونا ، جھوٹی گواہی کا عام ہونا اور سچی گواہی کو چھپانا۔
اسی قلم کے فتنے و طوفان کا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا ہے؟
” فشو القلم “ یعنی قیامت سے پہلے قلم کی بڑی اشاعت ہوگی )
ہمارے مصنف رحمہ اللہ نے اس کا محاوری ترجمہ بڑا خوب کیا ہے، یعنی ” قلم کا طوفان بر پا ہوگا“ علامہ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ کتابوں اور کتاب لکھنے والوں کی بھر مار و کثرت ہوگی ۔
یعنی مؤلفین و مصنفین کی کثرت ہوگی اور وہ کتابیں لکھیں گے، اس طرح کتابوں کی بھر مار ہوگی؛ چناں چہ آج کے دور پر یہ بات پوری طرح صادق آتی ہے، ہر کس و ناکس، عالم و جابل ، مصنف و مؤلف بنا ہوا ہے، یہ خود ساختہ محقق حق و باطل کی تمیز کے بغیر محض اپنے جاہلانہ خیالات و نظریات پر کتابیں لکھتے اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں، کوئی جاہل تفسیر لکھ رہا ہے، کوئی حدیث پر تحقیق کا مدعی ہے، کوئی فقہ و فتاوے پر رائے زنی کر رہا ہے، کوئی ریسرچ کے نام پر ائمہ اسلاف و مقتد ایان امت پر حرف گیری کر رہا ہے اور خوب صورت ٹائیٹل اور دیدہ زیب کتابت و عمدہ طباعت کے ساتھ ان کتابوں کو پھیلا کر ، ایک طوفان بد تمیزی برپا کیا جارہا ہے۔
اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جاہل لوگ اپنے آپ کو علما سے مستغنی سمجھنے لگتے ہیں اور ان جاہلانہ کتابوں پر اعتماد کر کے بددین و بد عقیدہ ہو جاتے ہیں؛ چناں چہ مستشرقین کی کتابیں پڑھ کر کتنے لوگ دین سے بدظن اور اسلام سے مرتد ہو چکے ہیں، یا کم از کم شک و شبے میں گرفتار ہو کر متنذ بذبانہ زندگی گزار رہے ہیں ؟ اسی طرح منکرین حدیث کی کتابوں سے کتنے لوگ حدیثوں سے بدظن ہو گئے اور ائمہ محدثین کی محنتوں اور جاں فشانیوں کا مذاق اڑانے لگے؛ اس طرحشیعه، قادیانی ، اہل بدعت اور تجدد پسند طبقے کی ہفوات و بکواس پڑھ کر کتنے لوگ کفر و ارتداد اور بدعت و ضلالت کے مہیب گڑھے میں گر چکے ہیں۔ یہ سب در اصل وہی (فشو القلم ) ( قلم کا طوفان ) ہے۔ جس نے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ ( اللهم احفظنا )