بیواؤں کا نکاح: ایک عظیم سنت اور ہمارا سنگدل معاشرہ

تحریر: محمد مسعود رحمانی ارریاوی

آغازِ کلام:

دلوں کی دوریاں لفظوں سے کم کرنے کی کوشش ہے

مرا لکھنا مری مجبورِ الفت کی نمائش ہے


اسلام دینِ فطرت ہے، جس نے عورت کو اندھیری جاہلیت سے نکال کر عزت و احترام کے اعلیٰ مقام پر فائز کیا۔ لیکن افسوس! آج ہم نے اسلامی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر ہندوانہ رسم و رواج اور جاہلانہ خیالات کو اپنا لیا ہے۔ خاص طور پر بیواؤں کے نکاح کے معاملے میں ہمارا رویہ حد درجہ ظالمانہ اور غیر اسلامی ہے۔

قرآن و سنت کا حکم:

اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں صاف حکم دیا: "تم میں سے جو لوگ مجرد (تنہا) ہوں، ان کا نکاح کر دو"(سورہ النور، آیت: 32)"۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی پہلی شادی ایک بیوہ خاتون، حضرت خدیجہؓ سے کی اور اپنی زندگی کی اکثر شادیاں بیواؤں سے کر کے قیامت تک کے لیے اس عمل کو ایک مقدس سنت بنا دیا۔

ہمارا المیہ:

آج ہم خود کو مسلمان تو کہتے ہیں، مگر جب کسی بیوہ کے نکاح کی بات آتی ہے تو ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔ ہم جوان بیوہ کو بدکرداری کے خطروں میں تو دیکھ سکتے ہیں، اسے زمانے کے طعنے سہتا تو دیکھ سکتے ہیں، لیکن اسے دوبارہ دلہن بنتے نہیں دیکھ سکتے۔ ہم اسے "منحوس" سمجھتے ہیں، جبکہ اسلام میں نحوست کا کوئی تصور نہیں۔ بیوہ کو نکاح سے روکنا گویا اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام کرنے کے مترادف ہے۔

شاعری:

سنتِ احمدؐ کو رسموں کی بھینٹ چڑھا دیا ہم نے

بیوہ کو جیتے جی قبر میں سلا دیا ہم نے

اسٹیٹس تو ہم ہر روز بدلتے ہیں مسعود

کاش کہ اپنے رویوں میں بھی تبدیلی آتی

ایک مخلصانہ اپیل:

"میرے بھائیو اور بہنو! یہ مضمون محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک دینی فریضہ ہے۔ میں نے یہ سچائی آپ تک پہنچانے کی مجبوری محسوس کی تاکہ کل قیامت میں سرخرو ہو سکوں۔

کیا آپ حق کا ساتھ دیں گے؟ اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ اسلامی پیغام عام ہونا چاہیے، تو اسے لائک (Like) کریں اور کمنٹ میں 'سبحان اللہ' یا اپنی رائے ضرور لکھیں۔ آپ کا فالو (Follow) کرنا مجھے مزید دینی اور اصلاحی موضوعات پر لکھنے کی ہمت دے گا۔ خاموش نہ رہیں، حق کی آواز بنیں!"