عصرِ حاضر کی پہچان
✒️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
آج کا دور بہت تیز رفتار ہے۔ ہر روز نئی ایجادات، نئی خبریں اور نئے مسائل سامنے آتے ہیں۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، جدید ٹیکنالوجی، فیشن، تعلیم اور کاروبار نے دنیا کو بدل دیا ہے۔ بظاہر یہ ترقی ہے، لیکن اسی ترقی کے ساتھ بہت سی دینی، اخلاقی اور ذہنی خرابیوں نے بھی جنم لیا ہے۔
اس دور میں ہر چیز فوری چاہیے (صبر ختم ہو گیا ہے)
نفس پرستی عام ہو گئی ہے،دین کو پرانا اور دنیا کو نیا سمجھا جا رہا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم ترقی کی اچھی چیزیں اپنائیں، مگر دین سے جُڑے رہیں۔
روایاتِ فتن کا تعارف
فتنہ کا مطلب ہے: آزمائش، گمراہی، یا وہ چیز جو انسان کو دین سے ہٹا دے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> "فتنے رات کی تاریکی کی طرح آئیں گے، آدمی صبح مؤمن ہوگا اور شام کو کافر ہو جائے گا۔"(مسند احمد)
یعنی:حق و باطل میں فرق کرنا مشکل ہو جائے گا
سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ سمجھا جائے گا
لوگ دین سے دور ہو جائیں گے
واحدحل یہ ہےکہ: دین کا علم حاصل کریں تاکہ فتنوں کو پہچان سکیں۔
موجودہ دور کے نمایاں فتن:آج ہمیں کئی فتنے چاروں طرف سے گھیر چکے ہیں، جن میں سے چند اہم یہ ہیں:
دین کو صرف مسجد تک محدود کر دینا
پردہ، نماز، داڑھی کو ذاتی معاملہ کہنا
للہ کے وجود کا انکار یا شک ڈالنا،سائنسی باتوں کو دین سے ٹکراؤ دینا
حیا کو کمزوری سمجھنا،مغربی لباس اور انداز کو "ماڈرن" کہنا
سوشل میڈیا کا غلط استعمال:وقت کا ضیاع، گناہ کی آسانی،علماء و دین کا مذاق اڑانا۔
دین کی غلط تشریحات:"صرف قرآن" کا نعرہ، حدیث کا انکار،خودساختہ تفسیر و فتاویٰ،مسلم نوجوان اور فکری حملے
آج نوجوانوں کے ذہنوں پر حملے کیے جا رہے ہیں:
دین کو مشکل اور پرانا بتایا جا رہا ہے، صحابہ، علماء، تاریخِ اسلام کو متنازع بنایا جا رہا ہے، غیر مسلم تہذیب کو 'آزاد خیالی' کہہ کر پیش کیا جا رہا ہے
نوجوان اگر علم نہ لے، علما سے نہ جڑے تو یہ حملے ان کے دل میں شکوک پیدا کر دیتے ہیں،ہندو تہواروں کی حقیقت اور مسلمان
غیروں کے تہواروں جیسے دیوالی، ہولی، راکھی وغیرہ کا تعلق ان کے مذہبی عقائد سے ہے۔اسلام ہمیں کسی اور مذہب کی نقالی سے روکتا ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا: "جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ انہی میں سے ہے۔"(ابو داؤد)
ہمیں:اخلاق کے ساتھ رہنا ہے،لیکن عقیدے، عبادات اور رسومات میں فرق رکھنا ہے،ان کے تہواروں میں شرکت یا مبارکباد دینا مناسب نہیں
حالاتِ حاضرہ اور مسلمانوں کے چیلنجز
دنیا کے کئی حصوں میں مسلمان آزمائش میں ہیں:معصوم مسلمان شہید کیے جا رہے ہیں،
حجاب، اذان، نماز پر پابندیاں،اسلامی شعائر پر اعتراض کیا جاتا ہے،میڈیا مسلمانوں کو دہشت گرد کہتا ہے:اصل ظالموں کو بچاتا ہے
ہمیں:مظلوموں کے لیے دعا، مدد اور شعور پیدا کرنا ہے،ظلم کو ظلم کہنا ہے
مسلم نوجوان کا مثالی کردار
ایک مثالی مسلمان نوجوان ہوتاہے۔
دین کا علم سیکھتا ہے،وقت کی قدر کرتا ہے،سوشل میڈیا پر نیک کام کرتا ہے، قرآن، حدیث اور سیرت کا مطالعہ کرتا ہے،بڑوں، اساتذہ، علماء کا ادب کرتا ہے
اگر نوجوان سدھر جائے تو قوم کا مستقبل سنور جاتا ہے۔
ہمیں فتنوں سے بچنے کے لیے درج ذیل چیزوں سے رہنمائی لینی چاہیے:
قرآن کریم:اصل ہدایت کا سرچشمہ
احادیثِ رسول ﷺ:قرآن کی عملی تفسیر
سیرتِ صحابہ و علما:عمل کا نمونہ
علما و دینی ادارے:صحیح مسئلہ سیکھنے کی جگہ
دجال اور قربِ قیامت کے فتن*
نبی ﷺ نے دجال کو بہت بڑا فتنہ کہا ہے۔
دجال کی آمد سے پہلے چھوٹے فتنوں کا دور ہوگا:
جھوٹ کا پھیلاؤ،سچ کا چھپ جانا،حق والوں کی کمی،آج کے میڈیا، سیاست، اور نظام میں ہمیں دجالی اثرات نظر آ رہے ہیں۔
حفاظتی طریقۂ کار:سورہ کہف پڑھنا،علم دین حاصل کرنا،تقویٰ اور جماعتِ صادقین سے جڑنا۔
آج کا دور آزمائشوں سے بھرا ہوا ہے، لیکن جو صبر کرے، دین پر قائم رہے، علم حاصل کرے، وہی کامیاب ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:
> "اور جو لوگ ہمارے دین میں کوشش کرتے ہیں، ہم انہیں اپنے راستے دکھاتے ہیں۔"(العنکبوت: 69)
لہٰذا:نیت صاف ہو، عمل نیک ہو،اپنے دین کو پہچانیے، بچائیے، پھیلائیے