گوشۂ تنہائی ۔۔۔۔۔

" خلوت " یہ کسی کے لیے تو فرحت وشادمانی اور راحت جاں کاسامان فراہم کرتی ہے اور کسی کے لیے غم و اندوہ اور ناخوش گوار زیست کا باعث بنتی ہے ، یا یوں کہیے کہ کبھی تو " خلوت " سرورومسرت کا سماں باندھتی ہے ، اور کبھی رنج آلام کے دریچے کھول دیتی ہے ، ایک تنہا اور اکیلا انسان بسا اوقات وہ کارہائے نمایاں سرانجام دیتا ہے جو کثیر افراد والی ایک جماعت نہیں کرسکتی ،اور اسی تنہائی میں انسان احیاناً اتنا حیران و پریشان اور ستم خوردہ ہوجاتاہے کہ وہ مایوسی کے بے تھاہ سمندر میں غرق ہوجاتا ہے ۔

" خلوت " نعمت ہوتی ہے اس شخص کے لیے جو دنیا کی محفلوں سے ، دوستوں سے اکتا گیا ہو ، جس کو انسانی مکائد اور مصائب و آلامِ حیات نےاتنا تھکا دیا ہو کہ اسے اب خدا کے سوا کسی کی یاد نہیں آتی اور وہ چاہتا ہے کہ سب کو بھلاکر اس ایک خالق سے دل لگاؤں ، سب کو فراموش کرکے ایک ذات کو تسکین خاطر اور راحت جان وجگر بنالوں - کہ ایک وہی وفادار اور کام آنے والا ہے - یہ شخص درحقیقت اپنی زندگی میں بامراد اور کام یاب ہے ؛ کیوں کہ اس نے دنیوی مشکلات اور دشواریوں کو پس پشت ڈال دیا ، اور یاس اور ناامیدی کا شکار ہونے کے بہ جاۓ اپنے مقصد کی طرف توجہ کرنے میں مشغول ہوگیا ، یہ انسان ہی دراصل مؤمن ہے ؛ کیوں کہ یہ حدیث " لایلدغ المؤمن من جحر واحد" کا مصداق ہے ، ایسی حیات ہی حیات ہے ورنہ اپنے مقصد کو فراموش کرنا اور دنیوی غم و آلام میں محو مستغرق ہونا ، ان پر آہ و بکا اور گریہ وزاری کرنا یہ زندگی نہیں ؛ بل کہ جیتے جی موت کا منہ دیکھنا ہے ۔۔۔۔اللہم احفظنا منہ ۔

راقم ان لوگوں نوجوان نسلوں ، طالب علموں- جو رنج وآلام میں گھرے ہوۓ ہیں- مخاطب کرکے عرض کرتا ہے کہ آپ دنیوی مصائب پر آنسو بہانا چھوڑدیں ، کسی کے چھوڑ جانے ، دھوکہ دینے اور بے وفائی کرنے سے آپ مایوس نہ ہوں ، آپ کسی کے لیے بیش قیمت زندگی داؤ پر نہ لگائیے ؛ بل کہ اصل مقصد کو یاد رکھیں ، خداے عزوجل کو اپنا دوست اور اس کے رسول کو محبوب بنائیے ، یہ دوست وہ دوست ہےجو آپ کوکبھی دغا نہیں دے گا ، جو کبھی آپ کو اکیلا اور تنہا نہیں چھوڑے گا ، وہ قرآن مجید میں خود ارشاد فرماتاہے:" اللہ ولی المومنین" ، اور فرماتاہے:" ونحن أقرب الیہ من حبل الورید " ۔۔۔۔۔۔اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تو دنیا کے تمام محبوبین سے زیادہ محبوب بنائے جانے کے لائق ہیں،کمال ،جمال ،نوال غرضے کہ محبوبیت کے تمام خصائل آپ میں بہ درجۂ اتم موجود ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اور ذرا غور کیجیے ! جو آپ کے لیے تنہا راتوں رات آنسو بہاتا ہو ، جو آپ کی خاطر سوتا ہو اور آپ کی خاطر جاگتا ہو ، جو کل بہ روز محشر - جب کوئی آپ کا نہیں ہوگا - آپ کو نہیں بھولے گااور رب کے حضور آپ کی سفارش کرے گا اور جس نے اپنے ماننے والوں اپنے وفاداروں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا ۔۔۔۔۔۔۔ بہر کیف ! اگر آپ کو جینا ہے ، تو دنیاو جہاں کو ترک کرکے خدا اور رسول کو دوست بناؤ ! ، تنہائی میں مرنا نہیں ، جینا سیکھو ، زندگی کی پیچیدگیوں میں نہ الجھ کر اس کا لطف اٹھاو !!!!۔

قارئین کرام! توقع قوی ہے کہ بندے کی یہ بات آپ کے دل کی وابستگی کا باعث بنے گی اور آپ اپنی " خلوت" کو غمگین بنانے کے بہ جاۓ ، خدا کے تصور سے رنگین اور رسول کی یاد سے آباد بنائیں گے ، آپ عہد کیجیے ! کہ اگر آپ روئیں گے تو خدا و رسول کے لیے آپ ہنسیں اور مسکرائیں گے تو انھیں کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔مرے عزیزو! یہ جینا ہی اصل جینا ہے ، ورنہ یہ زندگی سراسر موت ہے ۔ 
اللہ ہمیں اپنی تنہائی کے لمحات ضائع کرنے سے بچائے ،اور اپنا قرب اور رسول صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی محبت نصیب فرماۓ، آمین یارب العالمین ۔

ازقلم : عبیداللہ صندل مظفر نگری