جہیز ایک سماجی لعنت
26 دسمبر، 2025
جہیز مانگنے والوں سے جاکےکہہ دینا
کہ حسن خلق سے بہترجہیز کیا ہوگا
آج ہمارا معاشرہ بہت سی براٸیوں میں مبتلا ہے اور ہر براٸی وباٸی امراض کی طرح پھیل رہی ہے،
تمام براٸیاں ہمارے معاشرے میں بکثرت پاٸی جاتی ہیں ، کچھ براٸیاں ایسی ہیں جسے بیان کرنے کیلیۓ مضبوط و مستحکم دل درکاہے،جس کے بارے میں سن کر دل دہل جاتاہے ، انہیں براٸیوں میں سے ایک جہیز ہے جو شریعت کی نظر میں بھی ملعون ہے اور سماجی لعنت بھی ،
جہیز کہتے ہیں لڑکی کو شادی کے موقع پہ گھر والوں کی جانب سے کچھ سامان سسرال والوں کو دینا ، اب یہ کچھ سامان نہیں رہابلکہ جو چیز گھر بسانے کیلیۓ ضروری ہوتاہے وہ سب دینا، جہیز ایک ایسی براٸی ہےجو بہت سی براٸیوں کا سبب بنتی ہے،اس براٸی کی وجہ سے بہت سی براٸی وجود پذیر ہورہی ہے، جہیز کی وجہ سے نکاح دشوار ہوگیا ہے ، جہیز کی وجہ سے خودکشی عام ہوگٸی ہے ، جہیز کی وجہ سے زنا عام ہورہا ہے، جہیز ایک لعنت ہے ،اس کی ایک وجہ یہ ہیکہ اس سے بہت سی براٸیوں کا وقوع ہوتاہے، جہیز کی وجہ سے معاشرہ تنزلی کی جانب جارہاہے ، جہیز کی وجہ سے بیٹیاں زحمت بن گٸی ہیں-
حالانکہ اللہ نے بیٹی کو رحمت قرار دیاہے، جہیز معاشرہ کا ناسور ہے ، جہیز حرام ہے کیونکہ اس میں لڑکی والوں کو بہت دشواری کا سامنا کرنا پڑتاہے، باپ کی نیندیں حرام ہوجاتی ہے -
بیٹی کے بالغ ہوتے ہی باپ کا سکون غارت ہوجاتاہے پھر باپ ہمہ تن جہیزکی تیار کرنے کیلیۓ متوجہ ہوجاتاہے ،محنت شاقہ کرنی پڑتی ہے زندگی کابیشتر کماٸی جہیز کی نذر ہوجاتی ہے اور پوری پونجی کوایک شخص عزت دار فقیر بن کر آتاہے اور لے کرچلے جاتاہے -
حیرت تب ہوتی ہے جب جہیز میں کوٸی کمی ہوجاۓ تو ساری زندگی باپ کی لاڈلی کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایاجاتاہے ، ان کی زندگی جہنم بنادیاجاتاہے -
دو سال پہلے کا واقعہ ہے عاٸشہ نامی ایک بہن جس کا نکاح ایک ایسے لڑکے سے ہوتاہے جو نہایت کمینہ رذیل اور طماع شخص ہوتاہے عاٸشہ کے والد اپنی حیثیت کے مطابق انہیں جہیز دیتا ہے، مگر انکی مرضی کے مطابق ناکافی ہوتا ہے -
جس کی وجہ سےبہن عاٸشہ کو اذیت دی جاتی ہے، پریشان کیاجاتاہے، ہرطرح سے ان کو مجروح کیاجاتاہے بہن عاٸشہ عاجز ہو کر خود کوشی کرلیتی ہے-
اس طرح کے سینکڑوں واقعات ایسے ہیں جسے بیان کرنے کیلیۓ کافی وقت درکار ہے-
تف! ہے ایسے لوگوں پہ جو اپنے آپ کومرد سمجھتے ہیں اور بیوی کی کفالت سے منھ موڑتے ہیں
اللہ تعالی نے کسب معاش کی ذمہ داری مرد پہ رکھی ہے، اور عورت کو ہرطرح کی سہولت فراہم کرنے کی ذمہ داری مرد کے سپرد کی ہے،
کیونکہ اللہ تعالی نےعورت کو ایک پردے کی چیز اور عورت کو شہزادی بنایاہے ، عورت کے یہ حقوق جہیز کی وجہ سے سلب ہورہاہے،جہیز کی وجہ سے بہت سی لڑکیوں کا نکاح نہیں ہوپارہاہے جس کی وجہ وہ بہت سی دشواریاں جھیلتی ہیں-
جہیز کی وجہ سے غریب لڑکیاں مرتد ہوتی ہیں یا بد فعلی میں مبتلا ہوجاتی ہیں جو کہ اللہ کے یہاں پورے معاشرے کیلیۓ باز پرس کا سبب ہے، جہیز کی وجہ سے نکاح دشوار اور زنا آسان ہوگیا ہے ،جہیز بہت سی براٸیوں کی جڑ ہے -
امت مسلمہ کو نکاح آسان کرنے کی کوشش کرنی چاہیۓ، نکاح آسان ہوگا جہیر جیسی ملعون رسم کو ختم کرنے سے، اس لیۓ کہ جب جہیز جیسی ملعون رسم ختم ہوگا تو مذکورہ تمام براٸیوں کا سد باب ہوگا ۔
ان شاء اللہ
اللہ پاک تمام امت مسلمہ کو معاشرہ کی تمام براٸیوں کو ختم کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین