*امت مسلمہ کی مائیں ابھی بانجھ نہیں ہوئیں*

تاریخ انسانی میں کچھ جملے ایسے ہوتے ہیں جو محض الفاظ نہیں ہوتے بلکہ ایک پورے دور کی فکری کیفیت، اجتماعی شعور اور باطنی اعتماد کی ترجمانی کرتے ہیں،الحمد للہ *امت مسلمہ کی مائیں ابھی بانجھ نہیں ہوئیں* بھی انہی جملوں میں سے ایک ہے، یہ جملہ نہ جذباتی تسلی ہے اور نہ وقتی نعرہ، بلکہ ایک گہری حقیقت کا اعلان ہے جو مایوسی کے اندھیروں میں امید کی شمع بن کر روشن ہوتا ہے،جب حالات بگڑتے ہیں، اقتدار پامال ہوتے ہیں، اور ہر طرف زوال کا شور بلند ہوتا ہے تو سب سے پہلا حملہ امت کے حوصلے پر کیا جاتا ہے، یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ نئی نسل بگڑ چکی ہے، کہ کردار ختم ہو چکا ہے، اور اسلام اب صرف تاریخ کی کتابوں تک محدود ہو گیا ہے،مگر تاریخ اور حال دونوں اس سوچ کی تردید کرتے ہیں، کیونکہ اسلام کسی حکومت، کسی طاقت یا کسی ادارے کے سہارے زندہ نہیں، وہ ماؤں کی گود میں زندہ رہتا ہے۔اسلام کی بقا کا اصل مرکز وہ مائیں ہیں، جب اسلامی تاریخ کا اگر غیر جانب دارانہ مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ اسلام کی فکری، اخلاقی اور عملی بقا میں سب سے بنیادی کردار ماں کا رہا ہے، میدانوں میں لڑنے والے سپاہی،منبروں سے بولنے والے خطیب، اور مدارس میں پڑھانے والے علماء، اور سوشل میڈیا پر بولنے والے لوگ،سب ایک با کردار ماں کی گود کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اسلام کی حقانیت کو اجاگر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، مگر ان سب کے پیچھے ایک خاموش معمار ہوتی ماں ہے،اگر اسلام کی مائیں بانجھ ہوتیں تو حضرت اسماعیل علیہ السلام میں قربانی کا وہ جذبہ پیدا نہ ہوتا،امام حسین کربلا میں سر کٹا کر بھی حق سے پیچھے نہ ہٹتے یہ امت مسلمہ کی ماؤں کا منہ بولتا ثبوت ہے،امام ابو حنیفہ قید و کوڑے برداشت کر کے بھی باطل سے سمجھوتا نہ کرنا،اور تاریخ کو صلاح الدین ایوبی جیسا کردار نصیب نہ ہوتا،یہ عظیم شخصیات محض اتفاق نہیں تھیں، بلکہ ایمان، شعور اور قربانی سے بھری ہوئی گودوں کی پیداوار تھیں۔ہر زمانے میں مایوسی کا شور مچایا گیا، اور یہ کہنا کہ اسلام ختم ہو رہا ہے یا امت بالکل بگڑ چکی ہے کوئی نئی بات نہیں، تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ صدا ہر بڑے دورِ ابتلا میں بار بار بلند ہوئی، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ جیسے یہ مایوسی بھی ہر آزمائش کے ساتھ ساتھ چلی آتی رہی۔یہ آواز *عباسی* خلافت کے دور میں بھی اٹھی، جب داخلی سازشیں، درباری فتنہ انگیزیاں اور فکری انتشار عروج پر تھا، اس وقت بھی کہا گیا کہ اب علم کا چراغ بجھ رہا ہے، خلافت کھوکھلی ہو چکی ہے، اور امت اپنی روح کھو بیٹھی ہے، مگر اسی دور نے امام بخاری، امام مسلم، امام احمد بن حنبل، اور بیت الحکمہ جیسے علمی مراکز بھی پیدا کیے، جنہوں نے امت کی فکری بنیادوں کو مزید مضبوط کیا۔یہی آواز *تاتاری* یلغار کے وقت بھی گونجی، جب بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی، کتب خانوں کا خون دریاؤں میں گھولا گیا، اور مسلمانوں کو ایسا لگا کہ اب اسلام کی تاریخ کا آخری باب لکھا جا رہا ہے۔ اس دور میں بھی کہا گیا کہ یہ امت اب کبھی سر نہیں اٹھا سکے گی۔ مگر تاریخ نے دیکھا کہ انہی راکھ کے ڈھیر سے نئے مراکزِ علم اٹھے، علماء نے دوبارہ قیادت سنبھالی، اور وہی تاتاری آخرکار اسلام کے علمبردار بن گئے۔پھر یہی مایوسی استعماری دور میں شدت کے ساتھ دہرائی گئی۔ جب مسلمان ممالک غلام بنائے گئے، تہذیب و تمدن پر حملے ہوئے، اور دینی تشخص کو مٹانے کی منظم کوششیں ہوئیں، تب بھی یہ کہا گیا کہ اسلام محض ایک یادگار بن کر رہ جائے گا، اور امت صرف ماضی کی کہانی ہوگی،مگر اسی دور میں تحریکِ آزادی، دینی مدارس، اصلاحی جماعتیں، اور فکری بیداری کی ایسی لہریں اٹھیں جنہوں نے غلامی کی زنجیروں کو کاٹ ڈالا۔یہ آواز *اندلس* کے سقوط کے وقت بھی اٹھی، جب آٹھ سو سالہ عظیم تہذیب آنسوؤں میں ڈوب گئی،کہا گیا کہ اب مسلمانوں کا وجود صرف تاریخ کی کتابوں تک محدود رہے گا، مگر اسی سانحے نے امت کو خود احتسابی کا سبق دیا اور نئے خطوں میں نئی دینی و علمی زندگیاں جنم لیں۔یہی مایوسی ہر فتنہ انگیز دور میں سنائی دی جب فرقہ واریت بڑھی، جب اخلاقی انحطاط کا شور ہوا، جب طاقت مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلتی محسوس ہوئی،ہر بار یہی جملہ دہرایا گیا کہ یہ امت اب سنور نہیں سکتی، مگر ہر بار اللہ نے اسی امت کے اندر سے ایسے لوگ کھڑے کیے جنہوں نے زوال کو عروج میں بدل دیا،مگر ہر بار تاریخ نے یہ ثابت کیا کہ اسلام کو ختم نہیں کیا جا سکا، کیونکہ اسے لوہے کے دروازوں سے نہیں بلکہ ماؤں کے دلوں سے تحفظ حاصل رہا، آزمائشیں آئیں، زخم لگے، مگر ہر دور کے بعد ایک نئی نسل اٹھی جو پہلے سے زیادہ مضبوط ثابت ہوئی الحمد للہ علی کل حال و حالا۔آج کا دور اور ماں کی آزمائش کا زیادہ قائل ہے،آج کا زمانہ بلاشبہ فتنوں سے بھرا ہوا ہے،آج ماں کے سامنے چیلنجز کی وہ دیوار ہے جس کی مثال شاید ماضی میں کم ملتی ہے: اسکرین کے ذریعے بے حیائی، نصاب کے ذریعے فکری غلامی، سوشل میڈیا کے ذریعے کردار کشی،اور ترقی کے نام پر دین سے دوری،اس کے باوجود یہ کہنا کہ اسلام کی مائیں بانجھ ہو چکی ہیں، ایک سنگین ناانصافی ہے۔آج بھی امت مسلمہ کی مائیں زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گی انشاءاللہ العزیز، اور اب ان میں سےکوئی ماں فجر کے وقت بچے کو جگاتی ہے،کوئی ماں لوری میں کلمہ سکھاتی ہے،کوئی ماں بیٹے کے دل میں حق پر ڈٹ جانے کا حوصلہ پیدا کرتی ہے،اور کوئی ماں بیٹی کو حیا پر فخر کرنا سکھاتی ہے،کوئی ماں اپنے وجود کو ختم کرنا سکھاتی ہے اور اپنے بچوں کو درس دیتی ہوئی نظر آتی ہے بیٹا اسلام کی ذات پر انگلی اٹھائی جائے اور تم خاموش رہو یہ تمہاری جرأت کیسے گوارا کر سکتی ہے جب تم نے دودھ ایک مسلم ماں کا پیا ہے،یہ سب کام اشتہارات کا حصہ نہیں بنتے، مگر یہی کام امت کا مستقبل بناتے ہیں،کردار شور سے نہیں، تربیت سے بنتا ہے ہم نے کردار کو پہچاننے کا معیار بدل دیا ہے،جو زیادہ بولے، وہی ہمیں زندہ نظر آتا ہے،جو خاموشی سے تعمیر کرے، وہ ہمیں دکھائی ہی نہیں دیتا،حالانکہ اسلام کو بچانے والے ہمیشہ شور میں نہیں رہے،وہ اقلیت میں رہے، مگر مضبوط کردار کے حامل رہے۔آج بھی مدارس، کالجوں، یونیورسٹیوں اور عام گھروں میں ایسے نوجوان موجود ہیں جو دین کو بوجھ نہیں بلکہ شناخت سمجھتے ہیں، سوال کرتے ہیں مگر انکار نہیں کرتے،اختلاف رکھتے ہیں مگر بے ادبی نہیں کرتے،یہ نسل کسی خلا میں پیدا نہیں ہوئی، بلکہ اس کے پیچھے کسی ماں کی دعا، فکر اور آنسو شامل ہیں،اصل بانجھ پن کہاں ہے؟اگر کہیں بانجھ پن ہے تو وہ ماؤں میں نہیں، سوچ میں ہے،آج بھی ہماری ماؤں میں وہ استطاعت ہے کہ وہ اپنے بچہ کو مجاہد بنا سکتی ہے،آج بھی اسکی گود میں وہ تاثیر ہے جو صادق و عادل بنا سکتی ہے،آج بھی اسکی گود میں وہ پیار ہے جو محدث، مفسر،مبلغ،مقرر،متکلم، فصیح و بلیغ بنا سکتی ہے،لیکن اسکو ضرورت ہے ایک اسلامی ماحول کی،اسکو ضرورت ہے اپنے آباؤ و اجداد کی تاریخ کو دوبارہ پڑھنے کی،اسکو حاجت ہے عبادت گذار شوہر کی،اسکو حاجت ہے اسلام کا درد رکھنے والے باپ کی، اسکو ضرورت ہے، حق پر ڈٹ جانے والے،معاشرے کی، جو اس وقت معاشرہ بھولا ہوا ہے،اور مزید یوں کہوں تو بجا ہوگا،اگر کہیں کمی ہے تو وہ تربیت میں نہیں، قدردانی میں ہے،ہم فوری نتائج چاہتے ہیں،ہم قربانیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں،ہم کامیابی کو صرف دنیاوی پیمانوں سے ناپنے لگے ہیں،اسی لیے دین دار اولاد ہمیں کمزور نظر آنے لگتی ہے۔پوری دنیا کان کھول کر سنے *ابھی امت مسلمہ کی مائیں بانجھ نہیں ہوئیں*وہ آج بھی زندہ ہیں، بیدار ہیں اور اپنی ذمہ داری نبھا رہی ہیں،کبھی صبر کے ساتھ،کبھی دعا کے ساتھ،اور کبھی خاموش آنسوؤں کے ساتھ،جب تک ایسی مائیں موجود ہیں،اسلام کو شکست نہیں دی جا سکتی،امت کو مٹایا نہیں جا سکتااور حق کی شمع کو بجھایا نہیں جا سکتا،یہ امت زخمی ہو سکتی ہے،یہ امت آزمائی جا سکتی ہے،مگر یہ امت ختم نہیں ہو سکتی،کیونکہ اس کی بنیاد آج بھی ماؤں کی گود پر قائم ہے۔

میں نے پڑھا ہے علامہ اقبال کی اس تفکیر کو جس میں وہ فرماتے ہیں:

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا، عام دیدارِ یار ہو گا

سکُوت تھا پردہ دار جس کا، وہ راز اب آشکار ہوگا

گزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے

بنے گا سارا جہان مے‌خانہ ، ہر کوئی بادہ خوار ہو گا

نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو اُلٹ دیا تھا

سُنا ہے یہ قُدسیوں سے مَیں نے، وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا

دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے

کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہو گا

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی

جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائدار ہو گا

نہ پُوچھ اقبالؔ کا ٹھکانا، ابھی وہی کیفیت ہے اُس کی

کہیں سرِ رہ گزار بیٹھا ستم کشِ انتظار ہو گا۔


اور الحمد للہ: *ابھی امت مسلمہ کی مائیں بانجھ نہیں ہوئیں* اور یہ قیامت تک اپنی اولاد کو اسلام کا پیغام دیتی رہیں گی اور محبت خدا و انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، اولیاء کرام رحمہم اللہ علیہم اپنی اولاد کو سکھاتی رہیں گی۔

اللہ کریم امت مسلمہ کی ماؤں کو ہمیشہ سلامت رکھے اور اپنی بچوں کی اچھی تربیت کرنے کی توفیق بخشے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔

*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*