تاریخ کی اہمیت و افادیت ہر زمانہ کیلیۓ مشعل راہ رہی ہے ، اس سے دوری زوال و انحطاط کا سبب ہے ، 
تاریخ ہر زمانہ میں لکھی جاتی ہے تاکہ بیتی زندگی گذشتہ زمانہ کے احوال آٸندہ نسلوں کو کامیاب و کامران بنانے میں معاون ومددگار ثابت ہو ،
وہ اس طور پہ کہ جب انسان اپنی قوموں کی تاریخ کا مطالعہ کرےگا تو انہیں گذشتہ زمانہ کے احوال کا علم ہوگا اور زمانہ کے نشیب و فراز سے آگاہ ہوگا اور اس سے انسان کو اپنے کامیابی و ناکامی کا سبب معلوم ہوگا پھر وہ اس کے مطابق لاٸحہ عمل تیار کرے گا اور کامیاب ہوجاۓگا، 
آج جتنی قومیں کامیاب و ناکام ہے ،
اس کا اصل سبب علم تاریخ کاہونا یانہ ہوناہے ، 
یہ بات مسلم الحقیقت ہے کہ جس زمانہ میں جو قوم بھی کامیابی کی راہ پہ گامزن اور ترقی پذیر ہوٸی ہیں وہ سب کے سب تاریخ داں تھی اوراپنی قوم کی گذشتہ حالات سے واقف تھی ، دور حاضر میں وہی قوم عروج و ارتقا کی منار پہ بیٹھی ہے، جنہوں نے لاٸحہ عمل تیار کیا اور انہیں ترقی مل گٸی اور طاقتور بننے کا نسخہ جہاں کہیں سے ملی ان کو حاصل کرکے اس پہ عمل پیرا ہوگیۓ ،جس سے بلندیاں انکی مقدر بن گٸی اسکے برعکس آج وہی قوم مظلوم مقہور اور پست ہے ، اور مفلسی کی زندگی گذار رہی ہے یا وہ پریشان ہے جو اپنی قوم اوراپنے ملت کی تاریخ سے ناآشنا ہیں ، انہوں نے اس سے بے توجہی برتی اور تغافل کاشکار ہوٸی، انہیں ہر ایک کے سامنے زیر ہوناپڑتاہے ، باطل کے سامنے سرنگوں ہوناپڑتاہے ،باطل کےاعتراض کا جواب دینے میں انہیں شدید تأمل ہوتاہے، 
حال ہی میں راقم السطور نے ایک اینکر کو دیکھا ہے جو کسی مسلم بہن سے مسلم و غیر مسلم ممالک میں جاری جنگ کے متعلق اس کے صحت و غیر صحت کے بارے میں پوچھ رہی تھی ،اس میں تاریخ کابہت بڑا دخل تھا اینکر نے اسے اس میں الجھادیا جس سے اسکو اینکر کی بات تسیلیم کرنی پڑی اور ندامت و شرمندگی سے کہا کہ اس سلسلے میں مجھے زیادہ معلوم نہیں ، 
آج جب کہ الحاد و لادینیت کا دور ہے ، ہرطرف سے زبانی اور جسمانی حملے اسلام اور اہل اسلام پہ ہورہے ہیں ، معترضین ہمیشہ اسلام کو نشانہ بنارہے ہیں، تاریخ کو غلط زاویہ میں پروکر پیش کرنے کوشش کرتے ہیں ، ایسے وقت میں اسکی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے کہ تاریخ کو صحیح کرکے پیش کیاجاۓ، آج مسلمانوں کا معتدبہ افرادہی تاریخ اسلام سے آگاہ ہے اوروہی معترضین کا دندان شکن جواب دے رہےہیں ، باقی جو لوگ تاریخ اسلام سے واقفیت نہیں رکھتے انکے عقاٸد میں ثبات بھی نہیں ہے ، ان کو ہرکس وناکس بآسانی اپنے دام فریب کا اسیر بنالیتاہے ، تاریخ اسلام جو کہ ایک روشن تاریخ ہے اس کا ہرباب آب زر سے لکھنے کے قابل ہے ، اسلام کی تاریخ میں زندگی جینے کا سلیقہ موجود ہے ، یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے جب تک ہم اپنے مسلک و مذہب کی تاریخ سے روشناس نہیں ہوں گے تب تک ہم میں ثبات قدمی اور جواں مردی نہیں آسکتی، تاریخ سے تہذیب و ثقافت کا پتہ چلتاہے ، تاریخ سے ہمیں اپنے پیشوا و رہنما اکابر واسلاف کے کارناموں کا علم ہوتاہے، تاریخ سےہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ، علم تاریخ ترقی کیلیۓراہ ہموار فراہم کرتی ہے ،
 بہت سےمنفی پہلو کے نقصانات ، مثبت پہلو کے فواٸد معلوم ہوتے ہیں ، اسلیۓ ہر خطیب اپنی خطابت میں ہر قاٸد اپنی قیادت میں تاریخ اسلام کے مثبت پہلو کے فواٸد اور منفی پہلو کے نقصانات پہ روشنی ڈالیں توعامة المسلمین کا بہت فاٸدہ ہو گا ان شاء اللہ 
اللہ تعالی ہم سب کو اس پہ عمل کی توفیق عطا فرماۓ آمین۔