قرآن مشکل نہیں، عمل مشکل ہے

✒️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی

اکثر لوگ یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ "قرآن سمجھنا مشکل ہے"۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرآن سمجھنا مشکل نہیں، اس پر عمل کرنا مشکل لگتا ہے۔

ہم میں یہ جرات نہیں ہوتی کہ سیدھے سیدھے مان لیں: "ہم عمل نہیں کرنا چاہتے"۔

اس لیے ایک آسان سا بہانہ تراش لیتے ہیں:

"ہمیں قرآن سمجھ میں نہیں آتا۔"

سوچنے کی بات ہے…

منطق سمجھ آ جاتی ہے،فلسفہ سمجھ آ جاتا ہے،

فزکس اور کیمسٹری کے پیچیدہ فارمولے رٹ لیے جاتے ہیں،

الجبرے اور بایولوجی کی موٹی موٹی کتابیں ہضم کر لی جاتی ہیں۔

جب دنیاوی فائدہ نظر آتا ہے تو دماغ چلتا ہے، محنت کی جاتی ہے، وقت قربان کیا جاتا ہے۔

لیکن جیسے ہی قرآن کی باری آتی ہے تو یکدم دل اور دماغ بند ہو جاتے ہیں۔

کیوں؟

کیونکہ قرآن صرف پڑھنے کے لیے نہیں آیا، یہ زندگی بدلنے کے لیے آیا ہے۔

قرآن کا مطالبہ صرف سمجھنے کا نہیں، بلکہ ماننے اور کرنے کا ہے۔

یہ خواہشات کو قربان کرنے کا تقاضا کرتا ہے،

یہ دل کے بت توڑنے کا حکم دیتا ہے،

یہ نفس کے غرور کو کچلنے کا پیغام دیتا ہے۔

اور یہی وہ قیمت ہے جو ہم دینا نہیں چاہتے۔

اسی لیے زبان پر بہانہ آ جاتا ہے:

"قرآن مشکل ہے۔"

لیکن سوال یہ ہے…ڈاکٹر بننے کے لیے سالوں بایولوجی اور کیمسٹری کے مشکل مضامین پڑھ لیے جاتے ہیں۔

انجینئر بننے کے لیے فارمولے اور ڈایاگرامز یاد کر لیے جاتے ہیں۔

اکاؤنٹنٹ بننے کے لیے الجبرا اور فنانس کے اصول رٹ لیے جاتے ہیں۔

کیوں؟کیونکہ اس کے پیچھے نوکری ہے،پیسہ ہے،عزت ہے۔

مگر قرآن کے پیچھے کیا ہے؟

قرآن کے پیچھے ہے اللہ کی رضا،قرآن کے پیچھے ہے گناہوں سے نجات،قرآن کے پیچھے ہے آخرت کی کامیابی۔مگر یہ کامیابی تب ہی ملے گی جب ہم بہانے چھوڑ کر عمل کی راہ اختیار کریں۔

ورنہ یہ جملہ ہمیشہ ہمارے لبوں پر رہے گا:"قرآن سمجھ میں نہیں آتا۔"