خدا اپنے پیغام پہنچانے کے لیےپیغامبر کا انتخاب کیوں کرتا ہے؟— ایک فکری و عقلی مطالعہ
__________________
مضمون (61) بسم اللہ الرحمن الرحیم
انسانی فکر جب کائنات، زندگی اور مقصدِ وجود پر غور کرتی ہے تو بعض بنیادی سوالات اس کے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ انہی میں سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ:
“اگر خدا موجود ہے تو وہ اپنا پیغام براہِ راست ہر انسان تک کیوں نہیں پہنچاتا؟ پیغامبر یا رسولوں کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی ہے ؟”
یہ سوال بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہ سوال پوچھنے والے کے فکری پس منظر اور نیت پر منحصر ہے۔ اس لیے سب سے پہلا مرحلہ یہ طے کرنا ہے کہ سائل یہ سوال معلومات کے حصول کے لیے کر رہا ہے یا وجودِ خدا کے انکار کی بنیاد پر بحث کے لیے۔
اگر کوئی شخص سرے سے خدا کے وجود ہی کا منکر ہو تو عقلی طور پر اس سے یہ سوال کرنا بنتا ہے کہ:
جب آپ خدا کے وجود کو ہی نہیں مانتے تو پھر اس کے پیغام، اس کے رسول یا اس کی ہدایت پر گفتگو کا محل ہی کیا باقی رہتا ہے؟
البتہ اگر سائل خدا کو واجب الوجود مانتا ہے، تب یہ سوال نہایت سنجیدہ اور قابلِ غور بن جاتا ہے۔ چنانچہ اسی مفروضے کے تحت ہم اس سوال کا فکری، عقلی اور قرآنی تجزیہ پیش کرتے ہیں۔
دنیا: دارالامتحان اور انسان کا اختیار ہے.
قرآن واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو دارالقرار نہیں بلکہ دارالامتحان بنایا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا﴾
“تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرتا ہے” (الملک: 2)
اس امتحان کی بنیاد آزاد ارادہ ہے۔ انسان کو عقل، خواہش اور اختیار دے کر زمین پر بھیجا گیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ہر انسان کے ذہن میں اپنا پیغام براہِ راست نقش کر دیتا، یا ہر حکم کو فطری طور پر ناقابلِ انکار بنا دیتا، تو پھر:
ایمان لانے اور نہ لانے کا کوئی مفہوم باقی نہ رہتا
اطاعت مجبوری بن جاتی، اختیار ختم ہو جاتا
امتحان کا مقصد ہی باطل ہو جاتا
ایسی صورت میں انسان فرشتوں سے مختلف نہ رہتا، جبکہ اللہ نے انسان کو ایک منفرد مخلوق اس لیے بنایا کہ وہ سوچ کر، سمجھ کر اور اختیار سے راہِ حق کو اختیار کرے۔
صفاتِ الٰہیہ اور اختیار کی ضرورت
اللہ تعالیٰ کے بہت سے صفاتی نام ہیں، جیسے:
العادل، الغفور، الرحمان، الرحیم، الحکیم، النافع، الضار
یہ تمام صفات اسی وقت بامعنی بنتی ہیں جب بندے کے پاس اختیار موجود ہو۔ اگر انسان کو نافرمانی کی قدرت ہی نہ ہوتی تو نہ عدل کا مفہوم باقی رہتا، نہ مغفرت کی ضرورت، نہ جزا و سزا کا کوئی جواز۔
پس کائنات کا وجود، انسان کا اختیار اور دنیا کا فانی ہونا - یہ سب اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ زندگی ایک امتحان ہے، اور امتحان جبر سے نہیں بلکہ اختیار سے معتبر ہوتا ہے۔
الغرض؛ اللہ تعالیٰ نے انسانی معاشرے کی مجموعی ضرورتوں کے پیشِ نظر تمام صلاحیتیں انسانوں ہی میں پیدا فرمائیں، مگر اس طرح کہ ہر فرد کو ایک ہی جیسی قابلیت نہیں دی، بلکہ کسی کو علم و تدریس، کسی کو حدیث و تفسیر، کسی کو وعظ و قیادت، کسی کو سائنس و طب، کسی کو حکمرانی و فلسفہ، کسی کو ایجاد و انجینئرنگ، اور کسی کو جسمانی محنت کا جوہر عطا کیا۔ یہی باہمی تفاوت انسانی تمدن کے بقا اور ارتقا کا قدرتی نظام ہے، جس کے ذریعے انسان ایک دوسرے کا محتاج بھی بنتا ہے اور معاون بھی۔یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ یہ بنیادی قابلیتیں محض تعلیم و تربیت سے پیدا نہیں ہوتیں بلکہ پیدائشی عطیہ ہوتی ہیں، جنہیں اللہ اپنی حکمت کے مطابق جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ انسان ان صلاحیتوں کو نکھار سکتا ہے، مگر خود سے پیدا نہیں کر سکتا۔
اب اگر غور کیا جائے تو یہ ماننا ناگزیر ہو جاتا ہے کہ جس رب نے انسان کی مادی اور معاشرتی ضرورتوں کا ایسا ہمہ گیر انتظام فرمایا، وہ انسان کی سب سے بڑی اور بنیادی ضرورت -.یعنی خدا کی پہچان، مقصدِ زندگی اور اس کی مرضی کے علم- سے غافل نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے پیغامبروں کا انتخاب فرمایا، تاکہ وہ انسان کو یہ بتائیں کہ یہ سب نعمتیں کس کی عطا ہیں اور انہیں کس مقصد کے تحت استعمال کرنا ہے۔
پس نبوت انسان کی سب سے بڑی ضرورت کا جواب ہے، اور اس کے بغیر دنیا کی تمام کامیابیاں بھی حقیقی اور دائمی فلاح کی ضمانت نہیں بن سکتیں۔اس لیئے عملی نمونے کی ناگزیر ضرورت پڑتی ہے
الٰہی پیغام محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کی عملی صورت بھی ضروری ہوتی ہے۔
سوچئے:
نماز کیسے پڑھی جائے؟
صبر، عدل، رحم اور قربانی کی عملی شکل کیا ہے؟
وحی کو روزمرہ زندگی میں کیسے نافذ کیا جائے؟
یہ تمام امور صرف تحریری یا ذہنی ہدایات سے واضح نہیں ہو سکتے۔ اس کے لیے ایک جیتا جاگتا عملی نمونہ درکار ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾
“بیشک تمہارے لیے رسولِ اللہ ﷺ میں بہترین نمونہ ہے” (الاحزاب: 21)
اللہ خود انسان نہیں کہ انسانی حالات، آزمائشوں اور جذبات سے گزرے، مگر رسول انسان ہوتے ہیں -. ہم جیسے، مگر ہم سے بہت بہت بہت بلند و برتر-. تاکہ انسان یہ کہہ سکے:
“اگر یہ ممکن تھا، تو میرے لیے بھی ممکن ہے۔”
انسانی نفسیات: انسان انسان سے سیکھتا ہے
یہ فطرت کا اٹل اصول ہے کہ:
بچہ استاد سے سیکھتا ہے
قوم قائد سے سیکھتی ہے
انسان اسی کی بات مانتا ہے جسے وہ سمجھ سکے
اگر براہِ راست اللہ کا کلام ہر وقت سنائی دیتا، یا ہر حکم زبردستی دل میں بٹھا دیا جاتا، تو:
خوف غالب آ جاتا
محبت ختم ہو جاتی
بندگی کا رشتہ جبر میں بدل جاتا
جبکہ رسول اللہ کے پیغام کو انسانی زبان، انسانی لہجے اور انسانی حالات میں پیش کرتے ہیں۔ وہ سوال سنتے ہیں، اعتراض برداشت کرتے ہیں، شفقت، حلم اور حکمت سے اصلاح کرتے ہیں-. یہ وہ کام ہیں جو براہِ راست پیدائشی طور پر ہر ذہن میں راسخ کے ذریعے ممکن نہ تھے۔
حجت کا اتمام اور عدلِ الٰہی بھی ضروری تھا.
اللہ کا عدل یہ تقاضا کرتا ہے کہ قیامت کے دن کوئی انسان یہ نہ کہہ سکے:
“مجھے سمجھ نہیں آئی”
“مجھے راستہ دکھایا ہی نہیں گیا”
اسی لیے فرمایا:
﴿رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ﴾
“رسول اس لیے بھیجے گئے تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے” (النساء: 165)
رسول پیغام بھی دیتے ہیں، وضاحت بھی کرتے ہیں، اور اپنے عمل سے حق کی گواہی بھی قائم کرتے ہیں۔ اس کے بعد انکار خالصتاً انسان کا اپنا انتخاب رہ جاتا ہے۔
اگر ہر پیغام ذہن میں پیدائشی طور پر راسخ ہوتا؟
تو اس کے نتائج یہ ہوتے:
ایمان ایک فطری مجبوری بن جاتا
نافرمانی ممکن ہی نہ رہتی
نہ جنت کا استحقاق رہتا، نہ جہنم کا.
انسان ایک بااختیار مخلوق کے بجائے مجبور مخلوق بن جاتا.
جبکہ اللہ نے انسان کو عقل، خواہش اور اختیار-. تینوں دے کر اسے آزمائش کے مقام پر رکھا ہے۔
پس پیغامبروں کی ضرورت محض اطلاع رسانی کے لیے نہیں بلکہ ایک عظیم حکمت کا حصہ ہے۔ رسول اس لیے بھیجے گئے تاکہ:
انسان کو اختیار کے ساتھ ایمان لانے کا موقع ملے
الٰہی پیغام عملی صورت میں سامنے آئے
انسان انسان سے سیکھ سکے
اللہ کا عدل اور حجت مکمل ہو
بندگی محبت، شعور اور رضا سے ہو، جبر سے نہیں
رسولِ اکرم ﷺ اسی حکمتِ کاملہ کا سب سے روشن، کامل اور ابدی نمونہ ہیں-. جن کی سیرت قیامت تک انسانیت کے لیے ہدایت کا مینار ہے۔يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا
عَلَىٰ حَبِيبِكَ خَيْرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمْ ﷺ
(نوٹ)
اس مضمون کے بیشتر فکری مصادر اور بنیادی نکات علامہ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی معروف کتاب “دینیات” سے ماخوذ ہیں، تفصیل کیلئے صفحہ 32/33/34/اور دیگر صفحات. البتہ ترتیب؛ اسلوب اور تحریر. مضمون نویس کا اپنا ہے۔
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com