ڈیجیٹل دور اور دم توڑتے رشتے



شعر"دلوں کی دوریاں لفظوں سے کم کرنے کی کوشش ہے"

"مرا لکھنا مری مجبورِ الفت کی نمائش ہے"

تعارف"عزیز قارئین! آج میں جس موضوع پر قلم اٹھا رہا ہوں، وہ ہم سب کے گھر کی کہانی ہے...""میرا قلم تب تک نہیں تھمتا، جب تک دل کی بات کاغذ پر نہ اتر جائے۔"

آغاز " آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہماری انگلیاں موبائل اسکرین پر تو تیزی سے چلتی ہیں، لیکن دلوں کی دھڑکنوں کو سننے کا وقت کسی کے پاس نہیں ہے۔ ہم نے "سوشل میڈیا" پر تو ہزاروں دوست بنا لیے، لیکن حقیقی زندگی میں ہم اکیلے ہوتے جا رہے ہیں۔

اصل المیہ:

ایک وقت تھا جب لوگ ساتھ بیٹھتے تو دکھ سکھ بانٹتے تھے، مگر آج ایک ہی کمرے میں بیٹھے چار لوگ اپنے اپنے موبائل میں کھوئے ہوتے ہیں۔ ہم نے "اسٹیٹس" (Status) لگانے کو ہی اپنی عزت سمجھ لیا ہے، جبکہ اصل عزت تو ان رشتوں کی تھی جو ہمارے آس پاس موجود ہیں۔ ہم ورچوئل دنیا کی واہ واہ سمیٹنے کے چکر میں اپنوں کی خاموش تڑپ کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

میری مجبوری اور آپ کا ساتھ:

میرا قلم اٹھانا میری مجبوری ہے، کیونکہ معاشرے کی یہ بے حسی مجھے خاموش رہنے نہیں دیتی۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے الفاظ کسی سوئے ہوئے ضمیر کو جگا سکیں۔ لیکن ایک لکھاری کی محنت تب مکمل ہوتی ہے جب اسے پڑھنے والوں کا ساتھ ملے۔ اگر آپ میری اس فکر سے متفق ہیں، تو آپ کا ایک لائک اور ایک کمنٹ میرے قلم کی طاقت بن سکتا ہے۔


عجب مقام پہ لائی ہے یہ موبائل کی دنیا

کہ پاس بیٹھے ہوئے شخص سے دوری بہت ہے

اسٹیٹس تو ہم ہر روز بدلتے ہیں مسعود

کاش کہ اپنے رویوں میں بھی تبدیلی آتی

اپیل:

"عزیز قارئین! اگر آپ کو لگتا ہے کہ اس تحریر نے آپ کے دل پر دستک دی ہے، تو اسے لائک (Like) ضرور کریں اور کمنٹ میں اپنی رائے سے نوازیں۔ آپ کا فالو (Follow) کرنا مجھے اس بات کا یقین دلائے گا کہ سچ سننے اور پڑھنے والے آج بھی زندہ ہیں۔ آپ کی تھوڑی سی توجہ میرے حوصلے کو ہمالیہ سے بلند کر سکتی ہے۔"

قلمی"کاوش "محمد مسعود رحمانی ارریاوی