🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ
ہم سانس لے رہے ہیں، چل پھر رہے ہیں، ہنس بھی لیتے ہیں، بول بھی لیتے ہیں
مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی زندہ ہیں؟
یا محض ایک ایسی زندگی گزار رہے ہیں جس میں جسم متحرک ہے مگر دل خاموش، آنکھیں کھلی ہیں مگر بصیرت سوئی ہوئی، اور ضمیر زندہ ہوتے ہوئے بھی بے حس ہو چکا ہے؟
روحانی غفلت وہ زنگ ہے جو دل پر آہستہ آہستہ چڑھتا ہے۔
یہ اچانک نہیں آتی، یہ خاموشی سے دروازہ کھٹکھٹاتی ہے، اور ہم مصروفیت کے شور میں اس کی آہٹ سن ہی نہیں پاتے۔
پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ نماز بوجھ لگنے لگتی ہے، دعا محض الفاظ کا مجموعہ بن جاتی ہے، اور گناہ… گناہ نہیں رہتا، بس ایک عادت بن جاتی ہے۔
یہی دل کی موت کی پہلی علامت ہے۔
دل کی موت کا مطلب یہ نہیں کہ آنسو بہنا بند ہو جائیں؛ اصل موت تو تب ہوتی ہے جب آنسو بہانے کی خواہش بھی مر جائے۔
جب ظلم دیکھ کر دل نہ کانپے، حق سن کر روح نہ لرزے، اور رب کا نام سن کر دل میں کوئی جنبش پیدا نہ ہو تو سمجھ لیجیے کہ دل سانس تو لے رہا ہے، مگر زندہ نہیں۔
ہم نے زندگی کو کامیابیوں، مصروفیات اور خواہشات کی دوڑ میں اس قدر الجھا لیا ہے کہ مقصدِ حیات پس منظر میں چلا گیا۔
ہم ہر چیز کے لیے وقت نکال لیتے ہیں سوائے اپنے رب کے۔
ہم ہر آواز سن لیتے ہیں سوائے اپنے دل کی اس پکار کے جو کہتی ہے: لوٹ آو
یہی وہ لمحہ ہے جہاں بیداری کی کرن پھوٹتی ہے۔
روحانی بیداری ایک آنسو سے پروان چڑھتی ہے، اور ایک سجدے میں زندگی پا لیتی ہے۔
جب انسان اپنی کمزوری مان لیتا ہے، جب وہ یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ “میں زندہ ہوتے ہوئے بھی مر سا گیا تھا”، تب رحمت کے دروازے پر وہ دوبارہ جاتا ہے ۔
آئیے خود سے یہ سوال کریں:
کیا ہمارا دل اللہ کے ذکر سے آباد ہے؟
کیا ہماری تنہائی ہمیں رب کے قریب کرتی ہے یا اس سے دور؟
اگر جواب خاموشی ہے، تو یہی وقت ہے جاگنے کا۔
کیونکہ زندگی صرف سانسوں کا نام نہیں،
زندگی تو اس دل کا نام ہے جو اپنے رب کے حضور دھڑکتا ہو۔