اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا۔ اسے نفع و نقصان کی پہچان عطا کی، سمجھ بوجھ دی، اور ناطق (بولنے والا) بھی بنایا۔ ان سب کے ساتھ ساتھ انسان کو کئی اور خوبیاں بھی بخشی گئیں۔
اگر یہی انسان دین کی پیروی کرتے ہوئے اور دینی مدارس سے وابستہ ہو کر علم حاصل کرے اور علم کے معیار تک پہنچ جائے تو وہ "عالم" کہلاتا ہے۔ لیکن اگر وہ جہالت کی تاریکیوں میں ڈوب جائے تو "جاہل" کہلاتا ہے۔
ان سب کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انسان پر خاص کرم فرمایا کہ اس کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرمایا۔ اور آخر میں، اللہ جل مجدہ نے ہمارے پیارے آقا، رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ انسانوں کو گمراہی اور ضلالت کی تاریکیوں سے نکال کر راہِ ہدایت پر لا سکیں۔
اگر ہم تاریخ کے اوراق کی گردانی کریں تو ہمیں ایسی بھرپور کتابیں، رسالے اور پیغامات ملتے ہیں جو ہر پہلو سے انبیاء کی صفات، چال ڈھال اور اخلاق کو بیان کرتے ہیں۔ ان کی صفات اور ان کے اخلاق کا بار بار ذکر ہونا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ اللہ جلَّ مجدہٗ نے انسان پر کس قدر کرم فرمایا کہ ہمیں موقع دیا کہ ہم ان کی صفات اور ان کے اخلاق کو اپنے اندر پیدا کریں۔
اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا :
لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا
الأحزَاب (21)
حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے اور یوم آخرت سے امید رکھتا ہو، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو۔
مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں سے مخاطب ہو کر فرما رہے ہیں کہ اپنے پیغمبر ﷺ کی پیروی اختیار کرو، ان کی سنتوں کو اپناؤ، ان کے راستے پر چلو، ان کے اخلاق و صفات کو اپنی زندگی میں جگہ دو، ان کی چال ڈھال اور طرزِ حیات کو اپناؤ اور ان کے اندازِ زندگی کو اپنے اندر زندہ کرو ـ
تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعینِ عظام رحمہم اللہ سنت کی اتباع کے بے حد حریص تھے۔ جسے بھی کسی عمل کے بارے میں معلوم ہو جاتا کہ یہ سنت ہے، وہ ضرور اس پر عمل پیرا ہوتا۔ اسی طرح تابعینِ کرام نے آں حضرت ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے حالات و واقعات کی تعلیم و تبلیغ کا خاص اہتمام کیا۔ وہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کر کے ایک ایک روایت، واقعہ اور حال معلوم کرتے، مختلف دروازوں پر جا کر پوچھتے، دور دراز علاقوں کے سفر کرتے اور تحقیق کے ذریعے حدیث و سنت کے ذخیرے کی حفاظت فرماتے۔
محمد بن شِہاب زُہری، ہشام بن عروہ، قیس بن ابی حازم، عطا بن ابی رباح، سعید بن جُبَیر رحمہم اللہ اور ان جیسے ہزاروں تابعین نے اپنی تمام تر کوششیں وقف کر دیں۔ دن رات محنت کر کے، گوشہ گوشہ چھان کر، سنت کو جمع کیا۔ انہی اَن تھک کوششوں کے نتیجے میں آج پیغمبر اسلام ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا ایک ایک لمحہ ہمارے پاس محفوظ ہے اور پوری انسانیت کے لیے رحمت و ہدایت کا سرچشمہ ہے۔
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“صحابہ کرام اور تابعین جس طرح فرائض کی پابندی کرتے تھے، اسی طرح سنت کی بھی پابندی کرتے تھے۔ وہ ثواب کے حصول کے معاملے میں دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں سمجھتے تھے۔”
(فتح الباری 3/265)
اسی طرح جب ہم زمانۂ ماضی میں اپنے اسلاف کی زندگیوں پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انہوں نے بھی سنتوں کے مطابق زندگی گزارنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔ خواہ وہ مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ (بانی دارالعلوم دیوبند) ہوں، یا حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ، یا حافظ ضامن شہید رحمہ اللہ اور دیگر اکابرین، سب نے اپنے قول و فعل، اپنے معمولات و عبادات، حتیٰ کہ زندگی کے ہر گوشے میں سنتِ نبوی ﷺ کو اپنانے کو اپنے لیے سرمایۂ حیات بنایا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے بزرگوں اور اسلاف کی زندگیوں کے مطابق، صحابہ و تابعین اور بالخصوص انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی مبارک زندگیوں کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
الهم آمين يارب
✍🏻 از: محمدریحان ضیاءالحق عفي عنہ
خادمِ تدریس، مدرسہ ریاض الجنۃ، دھولیہ (مہاراشٹر)
وخادم القرآن، مجمع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، لحلقات القرآن الکریم عن بُعد، بالمدینۃ المنورۃ۔