والد کی زیارت اور پرانی یادیں 
----------------------------------------

آج دوپہر دوران قیلولہ خواب میں والد ماجد رحمۃاللہ علیہ کی زیارت ہوئی(نحیف جسم ،لاغرپن ، کمزور، سقیم الحال معلوم ہورہے تھے
گویا مرض الوفات سے قبل کی صورت حال ) کھیت سے فصل کے ایک مشت دانے اپنے ہاتھ میں پھونکتے ہوۓ گھر کے برآمدے کی جانب یہ کہتے ہوۓ تشریف لارہے تھےکہ آج مسجد کے امام صاحب کی دعوت ہے-
گھر پہ والدہ ،ہمشیرہ اور برادر کبیر برآمدہ میں کرسی پہ بیٹھے تھے
والد صاحب رح نے حکم فرمایا! کہ آپ میں سے کوئی امام صاحب کو اطلاع کردے ، راقم بھی بیماری کی حالت میں کسی کے سہارے کمرے سے باہر آیا اور کہا!کہ میں اطلاع دوں گا 
بس آنکھ کھل گئی -
یہ خواب کے چند لمحات نے پرانی یادوں کو تازہ کردیا ،
والد ماجد کے وفات کو چھ سال مکمل ہونے والے ہیں ،خواب میں بھی زیارت کے بہت دن ہوگیے تھے 
دل بہت خوش ہواکہ ایک جھلک ہی سہی پر زیارت تو ہوئی 
کاش !کہ والد صاحب رح بقیدِ حیات ہوتے تو سایۂ پدری سے شفقت ومحبت حاصل کرتے ،امور معمہ میں ان سے مشورہ کرتے ،بہت سی محبت وشفقت بھری باتیں ہوتی ،ہنسی مذاق کے پر مسرت گھڑی میسر آتی -
مجھے وہ لفظ آج بھی یاد ہے جب والد صاحب مجھے از راہ محبت وشفقت اکثر کہا کرتے تھے گویا ان کے نزدیک میرا دوسرا نام "سرکار " تھا اسی سے اکثر پکارتےتھے ،اس وقت تو مجھےبرا محسوس ہوتاتھا چونکہ کمسن اور غیر شعوری کی وجہ سے میں یہ سمجھتا کہ والد صاحب مجھے چھیڑ رہے ہیں لیکن؛ والد رح کچھ استعارہ کررہے تھے ،کسی مقام پر فائز کرنا چاہتے تھے ، دین کی خدمت کروں یہ خواہش اپنے دل میں بٹھاۓ ہوۓ تھے ،
اسی لیے جب میں نے حفظ شروع کیا تھاتو پہلی مرتبہ والد صاحب نے"شاباش"اور "آفریں آفریں کے کلمات سے بھی نوازے ،جس میں میرےلیے حوصلہ افزائی پنہاں تھی -
میری تعلیم کےلیے والد صاحب کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی ، دن رات میں جب بھی ٹرین ہوتی تو والد صاحب سائکل پہ بٹھا کر اشٹیشن چھوڑنےجاتے ،حتی کہ ایک مرتبہ اسٹیشن لیٹ پہونچنے کی وجہ سے گاڑی چھوٹ گئی تو واپس لے کر گھر آۓ ،پھر کچھ دنوں بعد دیگر ساتھیوں کے ساتھ گاؤں سے تقریباً 22 کلو میٹر دور جلال گڑھ میں سوار کرایا-
لیکن والد صاحب کا وہ خواب جس کو وہ سجاۓ ہوۓ تھے ان کی زندگی میں پورا نہ ہوسکا تھا -
لیکن الحمدللہ میرے برادر بزرگوار حسن صاحب نے اس کو محسوس کیا اور وہ میرے تعلیم کو لے کر متفکر ہوۓ اور وہ خود گھر کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں اور آج مجھے ان امور سے فارغ کرکے میری تعلیمی ذمہ داری کو بحسن وخوبی ادا کررہے ہیں -
اللہ تعالیٰ میرے والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو جنت الفردوس کے اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے خواب کو تکمیل کو پہونچاۓ 

اور میرے برادر بزرگوار کو بھی اللہ تعالیٰ جزاۓ خیر عطاء فرمائے کہ وہ میرے لیے سعی پیہم کررہے ہیں