تنگ ، ب

اریک اور جسم نما لباس

✍🏻 محمد پالن پوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عجب تماشہ ہے کہ جس امت کو لباسِ تقویٰ کی طرف بلایا گیا تھا وہ آج لباس کو ہی تقویٰ کے خلاف گواہ بنا بیٹھی ہے۔ قرآن نے بڑے سادہ مگر فیصلہ کن لہجے میں کہہ دیا تھا کہ اور تقویٰ کا لباس سب سے بہتر ہے لیکن ہم نے اس آیت کو دیواروں پر لٹکا دیا اور بازاروں میں اس کی ضد کو فروغ دے دیا۔ عورت کے لباس میں باریکی آئی پھر تنگی آئی پھر جسم سے چمٹ جانے کی وہ صورت پیدا ہوئی کہ کپڑا بدن کو ڈھانپنے کے بجائے اس کی خبر دینے لگا۔ حجاب رہا تو نام کا، عبایا رہا تو فیشن کا اور پردہ رہا تو محض ایک نفسیاتی تسلی بن کر۔ قرآن جس ستر و حیا کو شخصیت کا جوہر کہتا ہے وہ رفتہ رفتہ شو کیس کی زینت بنتا چلا گیا اور المیہ یہ کہ اسے آزادی کا نام دے دیا گیا۔۔۔۔۔۔
مگر قصہ یہیں تمام نہیں ہوتا۔ جس معاشرے میں عورت کے لباس سے شرم چھین لی جائے وہاں مرد کا لباس بھی دیر تک باوقار نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج مرد بھی جن کے لباس میں سادگی، وقار اور مردانگی کا تصور ہونا چاہیے تھا وہ بھی فیشن کی اس اندھی گلی میں داخل ہو چکے ہیں جہاں شلوار شلوار نہیں رہی بلکہ پینٹ کی معذرت خواہ نقل بن گئی ہے۔ تنگ، چست، جسم سے لپٹی ہوئی شلواریں جن میں رانوں اور پنڈلیوں کی ساخت یوں نمایاں ہوتی ہے گویا لباس نہیں خاکہ ہو۔ حالانکہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لباس سے منع فرمایا جو جسم کی ہیئت کو نمایاں کر دے اگرچہ وہ بظاہر بدن کو ڈھانپتا ہو۔۔۔۔۔۔۔
میرے دینی بھائی! ستر کا مفہوم صرف کپڑے کا موجود ہونا نہیں ہے بلکہ جسمانی خدوخال کا چھپ جانا ہے اور جب لباس یہ کام نہ کرے تو وہ شریعت کی میزان میں صرف اور صرف کپڑا رہ جاتا ہے پردہ نہیں۔۔۔
یہاں سوال عورت یا مرد کا نہیں ہے بلکہ مزاجِ امت کا ہے۔ جب مرد بھی اس بات پر فخر کرنے لگے کہ یہ فٹنگ جدید ہے اور عورت یہ کہنے لگے کہ دل صاف ہونا چاہیے کپڑے کا تو کیا ہے؟ تو سمجھ لیجیے کہ اب مسئلہ انحراف فکر تک پہنچ چکا ہے۔ قرآن نے نگاہوں کو نیچا رکھنے کا حکم پہلے دیا، لباس کی بات بعد میں کی اس لیے کہ نگاہ بگڑ جائے تو لباس بھی محض دکھاوا رہ جاتا ہے۔ اور جب لباس بگڑ جائے تو نگاہ کو قابو میں رکھنا محض ایک اخلاقی نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔۔۔۔۔
سنئے! جس کو آپ ترقی کہہ رہے ہیں ، ماڈرن زمانہ ہے ماڈرن رہنا پڑتا ہے تو سنئے! اسے ترقی نہیں کہتے اسے تو تہذیب کی پسپائی ، حیا کا زوال کہتے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم نے لباس کو جسم کے تابع کر دیا حالانکہ شریعت لباس کو کردار کا نگہبان بنانا چاہتی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مسجد کے صحن سے بازار تک اور بازار سے سوشل میڈیا تک جسم بول رہا ہے اور ضمیر خاموش ہے۔۔۔۔
حدیث کی زبان میں یہ ناپسندیدہ وضع قطع کے ساتھ فتنۂ زمانہ بھی ہے۔ یہ ایسا فتنہ ہے جو آہستہ آہستہ آتا ہے، مسکراتا ہے، آئینے دکھاتا ہے اور پھر انسان کو اس کے مقصدِ وجود سے غافل کر دیتا ہے۔ آج تنگ لباس کو معمولی سمجھا جا رہا ہے کل بے پردگی کو۔ آج جسم نمایاں کرنا فیشن ہے کل کردار کی نمائش بھی غیر ضروری سمجھی جائے گی۔ زوال ہمیشہ اسی ترتیب سے آتا ہے آہستہ، خاموش، مہذب لہجے میں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کون کیا پہن رہا ہے اصل سوال یہ ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔ اگر لباس ہمیں اللہ کے قریب نہ کرے نگاہوں کو محفوظ نہ کرے اور دل میں حیا پیدا نہ کرے تو خواہ وہ عبایا ہو یا شلوار وہ شریعت کے مقصد سے خالی ہے۔ اور ایسی خالی چیزیں قوموں کو سنوارا نہیں کرتیں صرف سجایا کرتی ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ سجی ہوئی لاشیں کبھی زندہ قومیں نہیں بناتیں۔۔۔۔۔۔۔

https://www.facebook.com/share/14PuDJnGiJ3/