۔۔۔میرا خاندانی پس منظر کوئی عالمانہ تو نہیں ، البتہ اس خاندان میں نیک ہستیاں بہت جلوہ گر ہوئی ہیں انہیں میں سے ایک ہستی احقر کے دادا محترم حضرت میاں جی محمد اسمعیل نوراللہ مرقدہ کی ہے جو اوائل حیات میں محض ایک دنیادار انسان تھے زندگی کے اتار چڑھاؤ کا سامنا تو ہر کوئی کرتا ہے لیکن بعض لوگ اس وادی سے یوں گزرتے ہیں کہ ایک نئی تاریخ رقم کر جاتے ہیں اور ان کے کوائف حیات بہت سارے لوگوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوتے ہیں اور جب وہ اس دنیا سے اپنا رخت سفر باندھ لیتے ہیں تو ہر آنکھ ان کے لئےنم ہو جاتی ہے اور لوگوں کے درمیان مسلسل ان کا تذکرۂ خیر ہوتا رہتا ہے میاں جی کی زندگی کے ہر ایک پہلو کو اجاگر کرنا میرے بس میں نہیں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اگرچہ میاں جی باقاعدہ عالم یا واعظ نہیں تھے لیکن نیک ضرور تھے کسی آدمی کے نیک ہونے کے لیے جن خوبیوں کا تصور کیا جاسکتا ہے وہ ان میں بدرجہ اتم موجود تھیں مثلا انسانی ہمدردی ، چھوٹوں پر شفقت، اور بڑوں کا اکرام وغیرہ دادی محترمہ بتایا کرتی تھیں کہ ان کا دودھ کا کاروبار تھا اور ایک عام آدمی کی طرح زندگی بسر کیا کرتے تھے ۔ پھر ایک ایسا وقت اتا ہے جب میاں جی اپنے کچھ ساتھیوں کے اصرار پر چالیس دن کی جماعت میں جاتے ہیں یہ اس وقت کی بات ہے جب تبليغي جماعت کا کردار ہر قسم کے اختلاف و انتشار سے پاک تھا میاں جی کے جماعت میں گزارے چند روز اللہ کے ہاں مقبول ہو گئے_ ان کا انداز گفتار ورفتار بالکل بدل چکا تھا اللہ کے راستے میں گزارے چند ایام اور اللہ والوں کے ساتھ بتائے چند شام و سحر ان کی پوری زندگی کا قیمتی اثاثہ تھے .یہی وجہ تھی کہ جماعت سے آنے کے بعد وہ اپنے دونوں صاحبزادوں(محمد حبيب والد محترم, محمد سلیم تایا جان) کو مدرسہ زینت العلوم مالیرکوٹلہ دینی تعلیم حاصل کے لئے چھوڑ آئے...
باقی ہے ۔۔۔۔۔۔۔