دنیا دارالامتحان ہے _ عقل، فطرت؛ سائنس اور وحی کی روشنی میں؛ 
       مضمون (60)
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
یوم آخرت پر ایمان لانا ایمان کے ارکان میں سے ایک رکن اور اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک عقیدہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بعد یوم آخرت میں اٹھائے جانے کا فیصلہ ہی وہ فیصلہ ہے جس پر عقیدہ کی بنیاد قائم ہے (قیامت کب آئے گی. ص27)
انسان جب اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو اسے ایک ایسا نظام دکھائی دیتا ہے جو بظاہر رنگین، دلکش اور پرکشش ہے، مگر اندر سے بے ثبات، ناپائیدار اور مسلسل تغیر پذیر۔ قرآن اعلان کرتا ہے کہ یہ دنیا دارالامتحان ہے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
کیا یہ تصور صرف مذہبی عقیدہ ہے؟
یا انسانی عقل، فطرت اور جدید سائنس بھی اسی حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں؟
یہ مضمون اسی سوال کا فکری، منطقی اور ہمہ جہت جائزہ ہے۔
1. عقل کی شہادت: نامکمل عدل کا مسئلہ
عقل کا بنیادی تقاضا عدل ہے۔
انسانی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں یہ حقیقت صاف دکھائی دیتی ہے کہ:
کتنے ہی نیک لوگ مظلوم ہو کر مر گئے
کتنے ہی ظالم عیش و عشرت میں زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہو گئے
کتنی ہی قربانیاں بے صلہ رہ گئیں
کتنے ہی جرائم بلا سزا انجام پا گئے
اگر یہی دنیا آخری اور حتمی ٹھکانا ہوتی تو عقل یہ سوال ضرور اٹھاتی:
کیا یہ ممکن ہے کہ ایک حکیم اور منصف خالق ایسا نظام بنائے جہاں انصاف مکمل ہی نہ ہو؟
عقل فیصلہ دیتی ہے کہ:
جہاں مقدمہ مکمل نہ ہو، وہاں فیصلہ مؤخر کیا جاتا ہے
لہٰذا یہ دنیا فیصلے کی عدالت نہیں بلکہ
شواہد، کردار اور انتخاب کی جگہ ہے —
اور یہی امتحان کی تعریف ہے۔
2. فطرت کی گواہی: دائمی زندگی کی پیاس
ہر انسان کے اندر ایک ایسی خواہش پائی جاتی ہے جو اسے کہیں سے سکھائی نہیں جاتی:
ہمیشہ جینے کی خواہش
مکمل انصاف دیکھنے کی آرزو
دائمی خوشی کی تمنا
یہ خواہش:
نہ تعلیم کا نتیجہ ہے
نہ ثقافت کی پیداوار
بلکہ انسانی فطرت میں ودیعت ہے
فطرت کا ایک مسلم اصول ہے:
کوئی فطری طلب بغیر جواب کے نہیں ہوتی
بھوک کا جواب غذا ہے
پیاس کا جواب پانی ہے
تو سوال یہ ہے:
دائمی زندگی کی طلب کا جواب کہاں ہے؟
یہ دنیا:
بڑھاپے پر ختم ہو جاتی ہے
بیماری پر بے بس ہو جاتی ہے
موت پر خاموش ہو جاتی ہے
فطرت صاف کہتی ہے:
یہ اصل منزل نہیں، یہ راستہ ہے
3. سائنس کی شہادت: ناپائیدار کائنات
سائنس ایمان کا اعلان نہیں کرتی، مگر وہ حقائق بیان کرتی ہے —
اور یہ حقائق حیرت انگیز طور پر “دارالامتحان” کے تصور کی تائید کرتے ہیں۔
(الف) ہر چیز زوال پذیر ہے
سائنس کے مطابق:
ہر جسم فنا کی طرف بڑھ رہا ہے
ہر ستارہ بجھنے والا ہے
ہر نظام entropy (بکھراؤ) کا شکار ہے
یہ کائنات ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں بنی۔
(ب) Fine-Tuning — نازک توازن
کائنات کے قوانین اس قدر نازک توازن پر قائم ہیں کہ:
ذرا سا فرق ہوتا تو زندگی ممکن نہ ہوتی تفصیل کیلئے (فزکس. قدیر قریشی ص 32/33/وغیرہ) 
یہ بتاتا ہے کہ:
یہ نظام اچاک اور اچانک حادثہ نہیں
بلکہ ایک مقصد کے لیے محدود مدت کا بندوبست ہے
اور جہاں مقصد ہو، وہاں آزمائش ہوتی ہے۔
4. انسانی زندگی کا تجربہ: مسلسل امتحان
اگر ہم اپنی ہی زندگی کو دیکھیں تو:
بچپن امتحان ہے
جوانی امتحان ہے
طاقت امتحان ہے
کمزوری امتحان ہے
دولت امتحان ہے
فقر امتحان ہے
کسی کو نعمت دے کر آزمایا جاتا ہے
کسی کو محرومی دے کر
اگر یہ دنیا آرام گاہ ہوتی تو:
حالات برابر ہوتے
صلاحیتیں یکساں ہوتیں
مواقع منصفانہ تقسیم ہوتے
مگر حقیقت اس کے برعکس ہے _
اور یہی امتحان کی سب سے بڑی علامت ہے۔
5. قرآن کا اعلان: عقل و فطرت کی تصدیق کرتا ہے 
قرآن کہتا ہے:
﴿الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا﴾
“اس نے موت اور زندگی کو اس لیے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے” (الملک: 2)
قرآن کوئی غیر عقلی تصور پیش نہیں کرتا
بلکہ عقل اور فطرت کے فیصلے کو وحی کی زبان دیتا ہے۔
نتیجہ: ایک مشترکہ شہادت
عقل کہتی ہے: یہ مکمل عدالت نہیں
فطرت کہتی ہے: یہ اصل گھر نہیں
سائنس کہتی ہے: یہ نظام عارضی ہے
قرآن کہتا ہے: یہ امتحان ہے
چاروں کی گواہی ایک ہی ہے:
یہ دنیا دارالامتحان ہے، دارالقرار نہیں
اختتامی فکری جملہ یہ کہتی ہے. 
اگر یہ دنیا ہی سب کچھ ہوتی
تو سب سے بڑا ظلم یہ ہوتا
کہ انسان کو انصاف کی طلب دے کر
انصاف کے بغیر ہی ختم کر دیا جاتا۔
مگر چونکہ خالق عادل ہے
اس لیے امتحان کے بعد
ایک مکمل فیصلے کا دن بھی ہے۔
اسلامی تصور کے مطابق حیات کو تا محدود دنیاوی زندگی کا نام نہیں ہے اور نہ ہی یہ انسان کی مختصر و محدود عمر کا نام ہے.
خیر کے راستوں پر انسان کے چلانے کا حقیقی محرک در اصل اللہ اور یوم آخرت اور اس میں پوشیدہ ثواب و عتاب پر ایمان ہی ہے ورنہ بشری قوانین میں سے کوئی قانون ایسا نہیں ہے جو انسانی سلوک کے اندر اس طرح راستی و استقامت پیدا کردے جس طرح یوم آخرت پر ایمان پیدا کر دیتا ہے اس لیئے بڑا فرق ہے اور بہت دوری ہے اس شخص کے سلوک میں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور یہ جانتا ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اور اعمال صالحہ آخرت کا توشہ ہے (قیامت کب آئے گی. ص 28/29.)
 چنانچہ ہر صاحبِ ایمان کے دل سے یہی صدا بلند ہوتی ہے کہ
یہ دنیا دارالامتحان ہے، اور یہاں کا ہر عمل کل کے انجام سے جڑا ہوا ہے۔
   بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com