تحریر: شفیق الرحمن بلال 
 
قرآنی اسلوب: خوف اور امید کا حسین امتزاج

قرآنِ کریم انسان کی تربیت ایسے متوازن انداز میں کرتا ہے جس میں خوف بھی ہے اور امید بھی۔ سورۂ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ کا ﴿رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ فرمانا اس کی ربوبیت اور اقتدار کو ظاہر کرتا ہے، جس میں ایک پہلو ہیبت اور ترہیب کا ہے۔ اسی کے فوراً بعد ﴿الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ﴾ فرما کر بندوں کو یہ احساس دلایا گیا کہ وہی رب نہایت مہربان اور بے حد رحم فرمانے والا بھی ہے۔

امام قرطبیؒ کے مطابق یہ اسلوب اس لیے اختیار کیا گیا تاکہ بندہ نہ صرف اللہ کے عذاب سے ڈرے بلکہ اس کی رحمت کی امید بھی رکھے۔ یہی انداز قرآن کی دیگر آیات میں بھی نمایاں ہے جہاں مغفرت کے ذکر کے ساتھ عذاب کا بیان آتا ہے، تاکہ انسان نہ تو حد سے زیادہ بے خوف ہو اور نہ ہی مایوس۔

نبی کریم ﷺ نے بھی اسی توازن کی تعلیم دی کہ اگر مومن اللہ کی سزا کو پوری طرح جان لے تو جنت کی آرزو کم ہو جائے، اور اگر کافر اللہ کی رحمت کو جان لے تو وہ کبھی ناامید نہ ہو۔
یہی خوف اور امید کا توازن ایمان کو مضبوط، کردار کو سنوارتا اور بندے کو راہِ اعتدال پر قائم رکھتا ہے۔


---