سوشل میڈیا: تعمیر شخصیت کا ذریعہ یا وقت کا ضیاع؟"
_________________________
تحریر: محمد مسعود رحمانی ارریاوی
--------------------------
"یہ دورِ جدید ہے، یہاں رشتے بھی آن لائن ہیں"
"دلوں میں بغض ہے، پر چہروں پہ مسکانیں ہیں"
"قلم اٹھایا ہے کہ وقت کی قدر سکھا سکوں"
"موبائل کی قید سے نوجوان نسل کو چھڑا سکوں
آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں دنیا ہماری مٹھی میں سمٹ آئی ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے فاصلوں کو تو مٹا دیا ہے، لیکن افسوس کہ دلوں میں دوریاں پیدا کر دی ہیں۔ ایک طالبِ علم ہونے کے ناطے جب میں اپنے ارد گرد دیکھتا ہوں، تو مجھے نوجوان نسل ایک عجیب کشمکش میں مبتلا نظر آتی ہے۔
سوشل میڈیا کے دو رخ:
سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ اگر اسے علم حاصل کرنے، دعوتِ دین، اور مثبت رابطوں کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ایک نعمت ہے۔ لیکن اگر یہ صرف بے مقصد ویڈیوز (Reels)، فضول بحثوں اور دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے کا ذریعہ بن جائے تو یہ ایک خاموش زہر ہے جو ہماری صلاحیتوں کو چاٹ رہا ہے۔
وقت کی قدر و قیمت:
ہم گھنٹوں فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر ضائع کر دیتے ہیں، مگر کتاب پڑھنے یا اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھنے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا۔ یاد رکھیے! وقت وہ سرمایہ ہے جو ایک بار ہاتھ سے نکل جائے تو دوبارہ کبھی لوٹ کر نہیں آتا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ نقصان اٹھاتے ہیں: صحت اور فرصت (خالی وقت)"۔
اصلاح کی ضرورت:
ہمیں سوشل میڈیا کا "استعمال" کرنا چاہیے، نہ کہ اس کا "غلام" بننا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ:
اپنے موبائل کے استعمال کا ایک وقت مقرر کریں۔
ایسی چیزیں فالو کریں جو ہمارے علم اور اخلاق میں اضافہ کریں۔
کسی بھی خبر کو بغیر تحقیق کے شیئر نہ کریں، کیونکہ یہ جھوٹ اور فتنے کا سبب بنتا ہے۔
نتیجہ:
آئیے عہد کریں کہ ہم سوشل میڈیا کو اپنی تباہی کا نہیں بلکہ اپنی کامیابی کا ذریعہ بنائیں گے۔ اپنے قلم اور اپنی آواز کو حق کی اشاعت کے لیے استعمال کریں گے۔ قلم کی طاقت بہت بڑی ہے، اسے ضائع نہ ہونے دیں۔
✍️ محمد مسعود رحمانی ارریاوی
(طالبِ علم و مضمون نگار)