زندگی میں قدم قدم پر آزمائشیں ہیں۔ اللہ تعالی اپنے بندوں کو کبھی مرض سے، کبھی جان و مال کی کمی سے، کبھی دشمن کی ڈر خوف سے، کبھی کسی نقصان سے، کبھی آفات و بلیات سے اور کبھی نت نئے فتنوں سے آزماتا ہے، اور ”راہ دین اور تبلیغ دین“ تو خصوصاً وہ راستہ ہے جس میں قدم قدم پر آزمائشیں ہیں، اسی سے فرمانبردار و نافرمان، محبت میں سچے اور محبت کے صرف دعوے کرنے والوں کے درمیان فرق ہوتا ہے۔

حضرت نوح علیہ السلام پر اکثر قوم کا ایمان نہ لانا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں ڈالا جانا، فرزند کو قربان کرنا، حضرت ایوب علیہ السلام کو بیماری میں مبتلا کیا جانا، ان کی اولاد اور اموال کو ختم کر دیا جانا، حضرت موسی علیہ السلام کا مصر سے مدین جانا، مصر سے ہجرت کرنا، حضرت عیسی علیہ السلام کا ستایا جانا اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا شہید کیا جانا یہ سب آزمائشوں اور صبر ہی کی مثالیں ہیں، اور ان مقدس ہستیوں کی آزمائشیں اور صبر ہر مسلمان کے لیے ایک نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں۔

لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ اسے جب بھی کوئی مصیبت آئے اور وہ کسی تکلیف یا اذیت میں مبتلا ہو تو ”صبر“ کرے۔ اللہ تعالی کی رضا پر راضی رہے اور بے صبری کا مظاہرہ نہ کریں۔

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”قیامت کے دن جب مصیبت زدہ لوگوں کے ثواب دیا جائے گا تو آرام و سکون والے تمنا کریں گے، کاش! دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹ دی گئی ہوتی۔“
( صراط الجنان:جلد1، ص:286)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
”بہت موٹی سی بات ہے جو ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی کتنا ہی غافل ہو؛ مگر جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کسی مصیبت اور مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو کس قدر خدا کو یاد کرتا ہے اور توبہ و استغفار کرتا ہے اور یہ تو بڑے رتبے والوں کی شان ہے کہ وہ تکلیف کا بھی اس طرح استقبال کرتے ہیں، جیسے راحت کا استقبال کرتے ہیں۔ مگر ہم جیسے کم سے کم اتنا تو کریں کہ جب کوئی مصیبت یا تکلیف آئے تو صبر و استقلال سے کام لیں اور رونا پیٹنا کر کے آتے ہوئے ثواب کو ہاتھ سے نہ جانے دیں، اور اتنا تو ہر شخص جانتا ہے کہ ”بے صبری سے آئی ہوئی مصیبت جاتی نہ رہے گی“ پھر اس بڑے ثواب جو احادیث میں بیان کیا گیا ہے سے محرومی دوہری مصیبت ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سبھی کو ہر مصیبت و پریشانی میں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ خاتم النبیین و نبی الملاحم ﷺ