اس سرزمین کی کہانی پتھروں پر نہیں دلوں میں لکھی گئی ہے۔۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں درختوں کے سائے بھی قصے سناتے ہیں، جہاں کی ہوا میں صدیوں پرانی دعاؤں اور فتوحات کی خوشبو گھلی ہوئی ہے، یہاں کبھی تجارت کے قافلے موتیوں، کپاس اور مصالحوں کی خوشبو لیے آتے تھے اور یہ دھرتی انہیں کھلے دل سے خوش آمدید کہتی تھی۔ پھر جب حجاز کی سمت سے ایمان کی روشنی ان بندرگاہوں تک پہنچی تو اس مٹی نے پہلی بار کلمۂ توحید کی گونج سنی لیکن اصل موڑ اس وقت آیا جب ایک کم عمر مگر بے خوف سالار محمد بن قاسم اپنی فوج کے ساتھ دیبل کے ساحل پر اترے اس دن تاریخ کے پنوں پر ایک نیا باب لکھا گیا جس میں عدل، علم اور وقار کے رنگ بھرے گئے۔۔ اس کے بعد دہلی کے گنبدوں سے لے کر آگرہ کے سنگِ مرمر تک ایک ایسا دور آیا جس میں ہند کو دنیا کی نگاہ میں سونے کی چڑیا کہا جانے لگا مگر ہر دولت اپنی آزمائش بھی ساتھ لاتی ہے، سمندر کے اس پار سے آنے والے سوداگر جو ابتدا میں صرف خریدار لگتے تھے رفتہ رفتہ اس زمین کے فیصلوں کے مالک بنتے گئے۔۔ 1757ء میں پلاسی کی مٹی پر جو خون بہا وہ محض ایک نواب کی شکست نہیں بلکہ خود مختاری کے تابوت پر پہلا کیل تھا اور پھر صدی بھر میں اس ملک کے تخت و تاج، زبان و ثقافت سب کچھ انگریز کے شکنجے میں آ گیا لیکن یہ دھرتی کبھی مکمل خاموش نہیں رہی، کبھی شاہ ولی اللہ کے افکار میں بغاوت کی چنگاری دہک اٹھی، کبھی شاہ اسماعیل کی شہادت نے لوگوں کے دلوں میں ہمت کا دیا جلایا، کبھی میسور کا شیر ٹیپو سلطان انگریز کے سامنے فولاد بن کر کھڑا ہو گیا اور پھر 1857ء کا وہ سال آیا جب پورا برصغیر ایک شور میں ڈوب گیا، ایک طرف توپوں کی گرج تھی، دوسری طرف دلوں کی دھڑکنیں تیز تھیں، ہندو، مسلم، سکھ سب ایک ہی صف میں کھڑے تھے مگر سازشیں اور بے نظمی ان کے قدم اکھاڑنے لگیں، آخرکار دہلی کے لال قلعے کی رونق چھن گئی اور بہادر شاہ ظفر ایک اجنبی سرزمین کی جیل میں وقت گننے لگے۔۔ گلیاں سنسان ہوئیں، بازار ویران اور لوگ اپنے ہی خوابوں کی راکھ پر بیٹھ گئے لیکن شکست کا مطلب موت نہیں ہوتا، انہی ملبوں سے دیوبند کی درسگاہ نے جنم لیا جہاں علم کو ہتھیار بنا کر ایک نئی جدوجہد کا آغاز ہوا۔۔یہ قلم کی جنگ تھی مگر اس کے اثرات توپ سے کم نہ تھے پھر تحریکِ ریشمی رومال اٹھی، جمعیۃ علمائے ہند بنی، خلافت کی تحریک گونجی اور جیلیں ان لوگوں سے بھر گئیں جنہوں نے آزادی کو اپنی نیند سے قیمتی جانا۔۔ وقت کا پہیہ گھومتا رہا اور آخرکار وہ دن آیا جب غیر ملکی پرچم اس سرزمین سے اتر گیا مگر آزادی کے سورج کے ساتھ ایک طوفان بھی آیا۔ خون کے دریا، ٹرینوں میں لاشیں، جلتی بستیاں، روتے بچے یہ سب تقسیم کی قیمت تھی۔ کروڑوں لوگ ایک لکیر کے اس پار اور اس پار بٹ گئے، کچھ نے نیا وطن بنایا، کچھ نے یہیں رہ کر اپنی پہچان کی حفاظت کی مگر زخم بہت گہرے تھے، وقت نے بہت کچھ بھر دیا مگر کچھ سوال آج بھی اس مٹی کے ذرے ذرے میں موجود ہیں، کیا ہم نے قربانی کا مقصد پورا کیا؟ کیا ہم نے ان خوابوں کی حفاظت کی جن کے لیے نسلیں مٹی میں مل گئیں؟ آج جب ہم اپنے حال پر نظر ڈالتے ہیں تو لگتا ہے کہ ہم نے آزادی کو صرف ایک تاریخ بنا دیا ہے، جذبہ نہیں حالانکہ اس کی حفاظت اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم خود کو ماضی کی روشنی میں نہ دیکھیں۔ دھرتی کا تاج سونے کا تبھی ہوتا ہے جب اس کے باسی کردار میں بھی سونا ہوں اور اڑان صرف ان کی ہوتی ہے جو آسمان کو اپنی میراث سمجھتے ہیں۔