کرسمس کی حقیقت اور اس کا تاریخی پس منظر
✍🏻 محمد عادل ارریاوی
_______________________________
محترم قارئین کرسمس عیسائی دنیا کا ایک معروف مذہبی تہوار ہے جو ہر سال 25 دسمبر کو منایا جاتا ہے یہ دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کی یاد میں منایا جاتا ہے تاہم اس تہوار کی تاریخ اس کے پس منظر اور موجودہ طریقۂ جشن کے بارے میں مختلف مذہبی اور تاریخی آراء پائی جاتی ہیں کرسمس صرف ایک مذہبی دن ہی نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ایک سماجی اور ثقافتی تہوار بھی بن چکا ہے یہ کرسمس جسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا دن کہا جاتا ہے دراصل اس کی ابتدا کیسے ہوئی؟ جب اللہ ربّ العزت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا تو اس کے بعد تقریباً تین سو سال تک ان کی پیدائش کا کوئی دن منانے کا تصور موجود نہیں تھا تین صدیوں کے بعد روم کا ایک بادشاہ قسطنطین تھا جس نے اپنے پادریوں راہبوں مذہبی پیشواؤں اور حواریوں کو اکٹھا کیا اور ان سے کہا کہ ہمیں خود اپنی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا ایک دن مقرر کرنا چاہیے اور اس کے لیے 25 دسمبر کی تاریخ طے کی گئی اس سے پہلے تین سو سال تک ایسا کوئی دن نہیں منایا جاتا تھا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دنیا سے اٹھائے جانے کے طویل عرصے بعد اس بادشاہ نے اس روایت کی بنیاد رکھی اس نے کہا کہ جیسے مسلمانوں کی مسجد ہوتی ہے اسی طرح ہمارا چرچ اور کنیسا ہے اور ہم اس دن کو اپنی عبادت کا خاص موقع بنائیں گے اس دن بڑے بڑے پوپ پادری اور مذہبی علماء کو بلایا جائے گا تقاریر ہوں گی اور باقاعدہ ہماری مذہبی کتاب بائبل کی تلاوت بھی کی جائے گی اس تجویز پر سب لوگ خوش ہو گئے ابتدا میں اس اجتماع کا رنگ مکمل طور پر مذہبی تھا لوگ عبادت کے لیے اکٹھے ہوتے تھے لیکن رفتہ رفتہ لوگوں کی دلچسپی کم ہونے لگی۔ چرچ کے ایک فرقے نے یہ سوچا کہ اگر کچھ ظاہری کشش شامل کر دی جائے تو لوگ زیادہ آئیں گے سوال یہ پیدا ہوا کہ آخر ایسی کیا چیز شامل کی جائے جو لوگوں کو متوجہ کرے؟ انہوں نے کہا کہ بائبل کی تلاوت اور تقاریر تو ہوتی رہتی ہیں مگر یہ سب لوگوں کو خشک اور بے کیف لگتا ہے اس لیے کچھ اور ہونا چاہیے چنانچہ یہ تجویز سامنے آئی کہ چرچ میں موم بتیاں اور شمعیں جلائی جائیں اور موسیقی شامل کی جائے جہاں موسیقی کا انتظام کیا گیا وہاں لوگوں کا ہجوم بڑھنے لگا آہستہ آہستہ یہ سلسلہ پھیلتا گیا اور موسیقی ہر عبادت گاہ کا حصہ بن گئی پھر شیطان نے اگلا قدم بڑھوایا کہا گیا کہ صرف موسیقی کافی نہیں بلکہ ناچ گانا بھی ہونا چاہیے اس کے بعد مردوں کے رقص کے پروگرام شروع کر دیے گئے جہاں یہ رقص ہوتا لوگ وہیں جمع ہو جاتے یہ دیکھ کر دوسرے چرچ والوں کو اندیشہ ہوا کہ اگر یہی حال رہا تو ان کی عبادت گاہیں ویران ہو جائیں گی چنانچہ پہلے موسیقی پھر مردوں کے رقص کو اختیار کیا گیا لیکن جب اس سے بھی لوگوں کی خواہش پوری نہ ہوئی تو آخرکار مخلوط ناچ گانے کا آغاز کر دیا گیا مرد و عورت کا آزادانہ اختلاط شروع ہو گیا اور یوں رفتہ رفتہ اس تقریب سے مذہبی روح بالکل ختم ہو گئی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ ابتدا ہی سے یہ اجتماع اللہ کے حکم کے مطابق نہیں تھا بالکل اسی طرح جیسے آج بعض جگہ 12 ربیع الاول کے نام پر اجتماعات ہوتے ہیں جھنڈے لگائے جاتے ہیں ڈھول باجے بجتے ہیں عورتیں نعتیں پڑھتی ہیں جن کی آواز نامحرم سنتے ہیں نمازیں ضائع ہوتی ہیں اور پھر اسے عشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا نام دیا جاتا ہے یہی وہ راستہ ہے جہاں سے بگاڑ شروع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ دین کی جگہ رسم و رواج لے لیتے ہیں
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ولادت عیسائی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے اور نجات دہندہ ہیں العیاذ بااللہ جبکہ اسلام میں آپ ایک عظیم پیغمبر اور اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں قرآن مجید میں حضرت مریمؑ اور حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کا ذکر نہایت احترام کے ساتھ آیا ہے
اہم بات یہ ہے کہ نہ بائبل اور نہ ہی قرآن میں حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کی تاریخ واضح طور پر بیان کی گئی ہے اسی وجہ سے مؤرخین اس بات پر متفق نہیں کہ آپ کی پیدائش واقعی 25 دسمبر کو ہوئی تھی ۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی تاریخ پیدائش۔ عیسائی مذہب میں بہت زیادہ اختلاف ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کس تاریخ کو ہوئی ؟ ان میں چار مشہور قول ہیں 25 دسمبر 6 جنوری 7 جنوری اور 19 جنوری یہ چار قول خود ان عیسائیوں کے اندر بہت معروف اور مشہور ہیں تو اس سے ایک مسئلہ تو یہ حل ہوا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی تاریخ پیدائش حتمی معلوم نہیں ہے کہ تاریخ کون سی تھی ؟ 25 تھی 6 تھی 7 تھی یا 19 تھی یہ کنفرم نہیں ہے۔ عیسائیوں کا عقیدہ ہے حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں عیسائیوں میں تین قسم کے عقیدے پائے جاتے ہیں۔ حضرت عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں (نعوذ باللہ ) حضرت عیسی علیہ السلام خود ہی خدا ہیں ( نعوذ باللہ ) حضرت عیسی علیہ السلام تین خداؤں میں سے ایک ہیں (نعوذ باللہ ) پہلی بات حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کی تاریخ کے حوالے سے اختلاف ہے کہ کسی تاریخ کو حضرت عیسی علیہ السلام پیدا ہوئے ؟ ایک فرقہ کہتا ہے کہ 25 دسمبر کو ایک فرقہ کہتا ہے 6 جنوری کو ایک فرقہ کہتا ہے 7 جنوری کو اور ایک فرقہ کہتا ہے 19 جنوری کو عیسی علیہ السلام کی پیدائش ہوئی اور اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں یہ محض چار مشہور قول ہیں جس پر ان کے بڑے بڑے اہلِ مذہب کا رجحان ہے اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی تاریخ پیدائش خود عیسائیوں کے نزدیک مختلف فیہ ہے کہ کس دن حضرت عیسی علیہ السلام پیدا ہوئے۔ دوسری بات مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ( اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور آپ ) کو آسمانوں پر زندہ اٹھا لیا گیا (عقیدہ کیا ہے؟) آپ دوبارہ تشریف لائیں گے اسلام کا بول بالا فرمائیں گے آپ کا وصال ہوگا اور پھر آپ کی تدفین رسول اللہ صلی السلام کے ساتھ قبر کی جو جگہ خالی ہے وہاں پر کی جائے گی۔
آج کرسمس کے موقع پر کرسمس ٹری سانتا کلاز تحائف کا تبادلہ روشنیوں کی سجاوٹ اور خصوصی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں ان میں سے اکثر رسومات کا تعلق براہِ راست حضرت عیسیٰ کی تعلیمات سے نہیں بلکہ یورپی اور رومی ثقافتوں سے ہے مثال کے طور پر کرسمس ٹری کا تصور جرمن تہذیب سے آیا سانتا کلاز کی بنیاد سینٹ نکولس کی شخصیت پر ہے جو ایک سخی پادری تھے تحائف دینے کی روایت مختلف قدیم تہواروں کا حصہ رہی ہے
عیسائی مذہب میں کرسمس کو عبادت شکرگزاری اور محبت کے پیغام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ چرچ میں خصوصی دعائیں اور تقاریب منعقد ہوتی ہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر سے حضرت عیسیٰؑ ایک عظیم نبی ہیں مگر ان کی ولادت کا جشن منانا یا انہیں الوہیت کا درجہ دینا اسلامی عقیدے کے مطابق نہیں اسلام تمام انبیاء کے احترام کا درس دیتا ہے لیکن عبادت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے
25 دسمبر کا مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے صرف اتنی بات کہی جاتی ہے کہ یہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا دن ہے درحقیقت مسئلہ اس سے کئی گنا آگے کا ہے اور وہ یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام جو کہ ان کے کفریہ عقیدہ کے مطابق اللہ کے بیٹے ہیں العیاذ بااللہ ان کی پیدائش کا دن ہے (گویا اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ثابت کرتے ہیں ) اب اس سے بڑھ کر کفر اور کیا ہوگا ؟ اس سے بڑی بدبختی کیا ہوگی ؟ کہ ان تمام باتوں کو جاننے کے بعد بھی کوئی کلمہ گو نہیں مبارک بادی کے پیغام بھیجے یہ ان کے اس باطل اور کفریہ عقیدے سے براءت کا دن ہونا چاہیے نہ کہ انہیں مبارک بادی دی جائے آج کے دور میں کرسمس ایک عالمی تہوار کی شکل اختیار کر چکا ہے بہت سے غیر عیسائی ممالک میں بھی اسے ثقافتی یا سماجی سطح پر منایا جاتا ہے تجارتی سرگرمیاں سیاحت اور میڈیا نے اس تہوار کو مزید مقبول بنا دیا ہے جس کی وجہ سے اس کی مذہبی روح کسی حد تک پس منظر میں چلی گئی ہے۔ کرسمس کی حقیقت یہ ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یاد سے منسوب ایک تہوار ہے مگر اس کی موجودہ شکل صدیوں کے تاریخی ثقافتی اور مذہبی اثرات کا مجموعہ ہے اس تہوار کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے مذہبی احترام کے ساتھ ساتھ اس کے تاریخی پس منظر کو بھی مدنظر رکھا جائے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے لیے باہمی احترام رواداری اور حقیقت پسندی ہی ایک مثبت معاشرے کی بنیاد ہے۔ ہم سب مسلمانوں کو چاہئیے کہ نہ تو اس تہوار میں شرکت کریں اور نہ ہی کسی کو مبارک بادی دیں بلکہ اس بری رسم سے بالکل کنارہ کشی اختیار کرنا چاہئیے ۔
اللہ ربّ العزت ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطافرماۓ بےجا رسموں سے ہم سب کی مکمل حفاظت فرماۓ آمین یارب العالمین۔