*مسلمان وندے ماترم کیوں نہیں بولتے؟* 
_______________________
از قلم: عبداللہ رفیق قاسمی 
خادم التدریس 
جامعہ عبداللہ بن مسعود وجے واڑہ 

    ہندوستان کی سیاسی فضا دن بہ دن مکدر اور متعفن ہوتی جا رہی ہے۔ برسرِ اقتدار جماعت کی سیاست اس حد تک اسلام اور مسلمانوں کے گرد گھومنے لگی ہے کہ ملک کے حقیقی اور بنیادی مسائل پسِ پشت چلے گئے ہیں۔ اکثریتی ذہن کو اصل سوالات سے ہٹانے کے لیے کبھی تاریخ، کبھی طلاق ، اور کبھی وندے ماترم جیسے نعروں کو موضوعِ بحث بنایا جاتا ہے۔ ایوانِ سیاست سے لے کر سڑکوں تک، اور میڈیا اسٹوڈیوز سے ٹی وی مباحثوں تک، وندے ماترم ایک گرما گرم مسئلہ بنا ہوا ہے۔
اس تحریر میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ:
وندے ماترم ہے کیا؟
مسلمان اسے کیوں نہیں کہتے؟
شرعی و اسلامی نقطۂ نظر سے اس گیت کو پڑھنے یا گانے کا حکم کیا ہے؟ 
وندے ماترم ایک بنگالی گیت ہے، جس کے خالق مشہور بنگالی ادیب بنکم چندر چٹرجی ہیں۔ یہ گیت پہلی بار 7 نومبر 1875ء (بعض روایات کے مطابق 1876ء) میں بنکم چندر کے زیرِ ادارت بنگالی رسالہ بنگ درشن میں شائع ہوا، مگر ابتدا میں اسے خاص پذیرائی حاصل نہ ہو سکی اور یہ گمنامی میں چلا گیا۔
بعد ازاں بنکم چندر نے اسی رسالے میں ایک ناول سلسلہ وار شائع کرنا شروع کیا، جو 1882ء میں ”آنند مٹھ“ کے نام سے کتابی صورت میں منظرِ عام پر آیا۔ اسی ناول کے آخر میں وندے ماترم کو شامل کیا گیا۔ اس دور میں بنگال قحط سالی، سیاسی بے چینی اور مغلیہ و مسلم حکمرانوں کے خلاف شدید نفرت کی فضا سے گزر رہا تھا۔ ناول کا مجموعی مزاج اور پس منظر واضح طور پر مسلم مخالف تھا، جس میں یہ تاثر دیا گیا کہ ہندو اور انگریز مل کر مسلمانوں کو اقتدار سے بے دخل کریں گے۔
اسی فضا میں وندے ماترم ایک جذباتی نعرے کی حیثیت اختیار کر گیا۔ رفتہ رفتہ اس کے ابتدائی اشعار عوام میں مقبول ہوتے چلے گئے۔
1896ء میں رابندر ناتھ ٹیگور نے کلکتہ میں منعقدہ کانگریس کے اجلاس میں وندے ماترم کو خوش الحانی کے ساتھ پیش کیا، جس سے اسے غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔ بعد ازاں آزادی کی تحریک کے دوران یہ نعرہ کئی غیر مسلم مجاہدینِ آزادی کی زبان پر رہا۔
انگریز حکومت نے جب اس گیت کے گانے پر پابندی عائد کی تو یہ پابندی الٹا اس کی مقبولیت کا سبب بن گئی، اور یہ بنگال سے نکل کر پورے ہندوستان میں پھیل گیا۔ آزادی کے بعد اسے قومی گیت (National Song) کا درجہ دیا گیا، جبکہ جن گن من کو قومی ترانہ قرار دیا گیا۔ تاہم وندے ماترم کے ابتدائی اشعار کو بھی بعض مواقع پر پڑھنے کی ترغیب دی گئی، جس سے ہندو مسلم اختلافات میں مزید اضافہ ہوا۔
  مسلمانوں کی جانب سے وندے ماترم کی مخالفت محض ضد یا سیاسی عناد نہیں، بلکہ اس کی بنیاد عقیدۂ توحید پر ہے۔
اس گیت میں وطن کو معبود کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور اس کے لیے وہ صفات استعمال کی گئی ہیں جو اسلام میں صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں، مثلاً:
دکھوں سے نجات دینے والی
برکت عطا کرنے والی
قوت و توانائی بخشنے والی
میرا علم ہونے والی
میرا باطن ہونے والی
میرا مقصد ہونے والی
جسم کے اندر جان ہونے والی
دلوں میں بسنے والی حقیقت
عظیم قدرت والی
قائم و دائم
مقدس
یہ تمام صفات صفاتِ الٰہیہ ہیں، جن کا اطلاق کسی مخلوق پر کرنا شرعاً جائز نہیں۔ اسلام کے نزدیک شرک سب سے بڑا گناہ ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ناقابلِ معافی قرار دیا ہے۔
اسلام کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ کائنات اور اس کی ہر شے کا خالق صرف اللہ وحدہٗ لا شریک ہے۔وطن اللہ کی مخلوق ہے، معبود نہیں۔ وطن محبوب ہو سکتا ہے، اس سے محبت فطری بھی ہے اور جائز بھی، مگر محبوب ترین شے بھی معبود کے درجے تک نہیں پہنچ سکتی، چاہے وہ والدین ہوں یا انبیائے کرام علیہم السلام۔ہم وطن کے محافظ اور محب ضرور ہیں، مگر اس کے عابد نہیں۔
مسلمانوں کو کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں۔ ہماری حب الوطنی کی گواہی وطن کی مٹی کا ذرہ ذرہ دیتا ہے:
پتہ پتہ، بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے
ہم اس وطن کے لیے جان دینے کو تیار ہیں، مگر کسی بھی قیمت پر شرک کو قبول نہیں کر سکتے۔ آزادی سے پہلے بھی وندے ماترم کے خلاف قانونی اور آئینی جدوجہد ہوئی ہے، اور جب تک ایمان باقی ہے، یہ جدوجہد جاری رہے گی۔