"امتِ واحدہ: فرقہ واریت کا زہر اور اتحاد کی خوشبو"
_____________________________________
تحریر:🖊️ محمد مسعود رحمانی ارریاوی
_____________________________________
آج امتِ مسلمہ جس کربناک صورتحال سے دوچار ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ وہ خلیج ہے جو ہم نے خود اپنے درمیان پیدا کر لی ہے۔ ہم قرآن کی ایک آیت، ایک کلمہ اور ایک ہی قبلہ رکھنے کے باوجود دلوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ کوئی خود کو بریلوی کہلانے میں فخر محسوس کرتا ہے، کوئی دیوبندی ہونے پر اصرار کرتا ہے، تو کوئی اہل حدیث کی شناخت کو ہی نجات کا راستہ سمجھتا ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اللہ کے نزدیک ہماری سب سے بڑی پہچان کیا تھی؟ اللہ نے تو ہمیں صرف "مسلم" کہا تھا۔
فرقہ واریت: ایک تباہ کن بیماری
اختلافِ رائے کوئی بری بات نہیں، یہ تو صحابہ کرام اور ائمہ دین کے دور میں بھی تھا، لیکن وہ "اختلاف" تھا "انتشار" نہیں تھا۔ آج ہم نے اپنے فروعی اور جزوی اختلافات کو دشمنی میں بدل دیا ہے۔ مساجد بٹ گئیں، سلام و دعا ختم ہو گئی، اور یہاں تک کہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے سے بھی کترانے لگے۔ یاد رکھیے! جب تک ہم ان خانوں میں بٹے رہیں گے، دنیا کی کوئی قوم ہماری عزت نہیں کرے گی۔
اتحاد کا راستہ: جوڑنے والی باتیں
بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث—اگر غور کیا جائے تو ان سب کے درمیان 90 فیصد باتیں مشترک ہیں۔ سب ایک اللہ کو مانتے ہیں، سب کا رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں، سب کا ایمان ہے کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے اور سب کو مرنے کے بعد ایک ہی رب کے سامنے جوابدہ ہونا ہے۔ تو پھر اس 10 فیصد اختلاف کی خاطر ہم 90 فیصد اتحاد کو کیوں قربان کر رہے ہیں؟
حل کی صورتیں:
برداشت کا جذبہ: ہم دوسروں کو اپنے جیسا بنانے کی کوشش چھوڑ دیں، بلکہ انہیں ان کے نظریات کے ساتھ قبول کرنا سیکھیں۔
علماء کا کردار: ہمارے اکابرین اور علماء کو چاہیے کہ وہ ممبر و محراب سے صرف وہ باتیں بیان کریں جو امت کو جوڑتی ہوں، نہ کہ وہ جو نفرتیں پھیلاتی ہوں۔
عوامی سطح پر بھائی چارہ: عام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مسلکی بحثوں میں پڑنے کے بجائے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوں۔ بریلوی بھائی دیوبندی کے جنازے میں جائے، اہل حدیث بھائی اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ مل کر رفاہی کام کرے۔
آخری بات:
وقت آ گیا ہے کہ ہم "میں" اور "تم" سے نکل کر "ہم" بن جائیں۔ دشمن ہمیں مسلک دیکھ کر نہیں، بلکہ "کلمہ گو" دیکھ کر نشانہ بناتا ہے۔ اگر ہم آج متحد نہ ہوئے تو ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
شجر ہے فرقہ آرائی، تعصب ہے ثمر اس کا
یہ وہ گلشن ہے جس کا باغباں ہے بے خبر اس کا
آئیے! میری اس آواز میں اپنی آواز ملائیں اور عہد کریں کہ ہم مسلمان بن کر جئیں گے اور مسلمان بن کر مریں گے۔
✍️ محمد مسعود رحمانی ارریاوی
(طالبِ علم و اصلاح پسند مضمون نگار)