🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ
وقت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ وہ بے قیمت نعمت ہے جس کی قیمت کا اندازہ عموماً اُس وقت ہوتا ہے جب یہ ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔
یہ نہ سونے چاندی کی طرح جمع کیا جا سکتا ہے، نہ بازاروں میں خریدا جا سکتا ہے، اور نہ ہی گزری ہوئی گھڑی کو پلٹایا جا سکتا ہے۔
وقت ایک ایسی خاموش حقیقت ہے جو پلک جھپکتے میں زندگی کے صفحات پلٹ دیتی ہے، مگر افسوس کہ انسان اسی نعمت کے معاملے میں سب سے زیادہ غافل نظر آتا ہے۔
وقت کی قدر و قیمت کا تذکرہ قرآنِ مجید میں مختلف اسالیب سے آیا ہے۔
کبھی “والعصر” کہہ کر پوری انسانیت کو خبردار کیا گیا، کبھی رات اور دن کی گردش کو نشانی قرار دیا گیا، اور کبھی عمر کو آزمائش کا میدان بتایا گیا۔
یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ وقت محض لمحوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ انسان کے ایمان، کردار اور انجام کا آئینہ ہے۔
جو قومیں وقت کی قدر پہچان لیتی ہیں وہ تاریخ بناتی ہیں، اور جو اسے ضائع
کر دیتی ہیں وہ تاریخ کا حصہ بن کر رہ جاتی ہیں۔
بدقسمتی سے ہماری زندگی غفلت کی دھند میں لپٹی ہوئی ہے۔
ہم دن رات کی گردش میں یوں کھو گئے ہیں کہ ہمیں نہ کل کی فکر ہے نہ آج کی جواب دہی۔
قیمتی لمحات بے مقصد گفتگو، لاحاصل مشاغل اور فضول مشغولیات کی نذر ہو جاتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ابھی بہت وقت باقی ہے، حالانکہ وقت ہمیں نہیں، ہم وقت کو چھوڑ کر آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔
یہی خود فریبی ہماری سب سے بڑی محرومی بن جاتی ہے۔
غفلت کا یہ عالم ہے کہ ہم وقت کو دشمن سمجھ کر مارنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وقت ہمیں مار رہا ہوتا ہے۔
سستی، ٹال مٹول اور “کل کر لیں گے” کا فریب ہمیں رفتہ رفتہ کھوکھلا کر دیتاہے۔
علم حاصل کرنے کا وقت ہو تو ہم غفلت میں مبتلا ہوتے ہیں، عمل کا موقع ملے تو بہانے تراشتے ہیں، اور جب ندامت کا لمحہ آتا ہے تو ہاتھ خالی ہوتے ہیں۔
وقت کی ناقدری صرف دنیاوی نقصان تک محدود نہیں رہتی، بلکہ آخرت کی بربادی کا پیش خیمہ بھی بن جاتی ہے۔
جو ساعتیں ذکرِ الٰہی میں گزر سکتی تھیں وہ غفلت میں ڈھل جاتی ہیں، جو لمحے خدمتِ خلق میں صرف ہو سکتے تھے وہ خود غرضی کی نذر ہو جاتے ہیں، اور جو اوقات توبہ و رجوع کے لیے تھے وہ بے حسی کی دھول میں دب جاتے ہیں۔
یوں انسان اپنے ہی ہاتھوں اپنی ابدی کامیابی کو نقصان پہنچا دیتا ہے۔
اگر ہم واقعی کامیابی کے خواہاں ہیں تو ہمیں وقت کے ساتھ اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ ہر لمحے کو امانت سمجھنا ہوگا، ہر دن کو آخری دن تصور کرنا ہوگا، اور ہر فرصت کو عمل کا موقع جاننا ہوگا۔
وقت کی قدر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان خود کو مشین بنا لے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی ترجیحات درست کرے، مقصدِ حیات کو پہچانے اور ہر ساعت کو کسی نہ کسی بھلائی سے جوڑ دے۔
آخر میں یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ وقت ایک تیز رفتار دریا کی مانند ہے؛ جو اس میں ہاتھ ڈال کر فائدہ اٹھا لے وہ کامیاب ہے، اور جو کنارے بیٹھ کر تماشہ کرتا رہے وہ محرومی کے سوا کچھ نہیں پاتا۔
عقل مند وہی ہے جو آج کو سنوار لے، کیونکہ کل صرف اُسی کا ہوتا ہے جو آج کی قدر جانتا ہو۔