ہمارا رب بڑا کریم ہے اور اس کے کرم کی کوئی ہد ہی نہیں ہے۔ وہ ہر ایک شے کا پیدا کرنے والا اور پالنے والا ہے۔ ہر ایک کا رزق اس تک پہنچانے والا ہے۔ 

کس کو کب اور کس چیز کی ضرورت ہے، اس تک وہ چیز بہت ہی خوبصورت انداز میں پہنچانے والا اللہ ہے۔ آئیے ایک مشاہدہ پیش کرتے ہیں، جس سے ہمیں اللہ تعالی کی ”شان کریمی“ کا بخوبی پتا چلتا ہے اور ہماری زباں سے بس یہی نکلتا ہے کہ سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ عظیم!

معمول کے مطابق عصر کی نماز کے بعد Garden میں ذکر و اذکار کر رہے تھے۔ اسی دوران امرود کے درخت پر نظر پڑی، تو خیال آیا کہ کیوں نہ درخت کے چاروں طرف کیاری بنا کر پانی ڈال دیں۔

اس خیال کو پورا کرنے کے لیے درخت کی چارو طرف کیاری بنائی اور پھر پوری کیاری کو پانی سے بھر دیا۔ اس کے بعد وہی قریب میں ہی بیٹھ کر ذکر و اذکار پڑھنے لگے۔

 کچھ وقت بعد دیکھا کہ ایک گلہری امرود کے درخت سے نیچے اتر رہی ہے۔ نا جانے کیوں نظر اس پر جم سی گئی۔ اس نے خوب سیر ہو کر پانی پیا اور درخت کی ٹہنی پر ہی آرام کرنے لگی۔ 

یہ سب دیکھ کر ذہن سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح سے ایک گلہری کی پیاس کو بجھانے کے اسباب پیدا فرمائے۔ تو کیا وہ رب اپنے ان بندوں کو جو ”اشرف المخلوقات“ ہیں، بے بس اور بے سہارا چھوڑ سکتا ہے؟

بالکل بھی نہیں! ہمارا رب ہمیشہ ہر وقت، ہر گھڑی، ہر لمحہ ہمارے ساتھ اور ہماری رگوں سے بھی زیادہ قریب ہے۔ رب العالمین قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
”وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ“
( سورہ ق: 16)

ترجمہ کنزالایمان : ”اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں۔“

ہمارے لیے جو بھی بہتر ہے، اسے صحیح وقت پر ہمیں عطا فرمانے والا اللہ ہے۔ بھلے ہی ہمیں نا ممکن لگے، پر وہ ”مسبب الاسباب“ ہے۔ وہ کریم رب ایسے ایسے اسباب کے ذریعے ہمیں عطا فرماتا ہے کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ 

رب العالمین ہمیں ہر حال میں اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ خاتم النبیین و نبی الملاحم ﷺ!