بلا شبہ اللہ جل شانہ نے اس کائنات کا نظام گناہ اور عبادت دونوں کے ساتھ قائم فرمایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ عبادتوں میں مشغول رہتے ہیں جبکہ کچھ لوگ شیطانی وسوسوں میں آ کر گناہوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے نظام کو سنبھالنے اور انسانوں کی ہدایت کے لیے آسمانی کتابیں نازل فرمائیں اور انبیاء علیہ الصلاۃ والسلام کو بھیجا جنہوں نے اس دنیا میں آ کر اللہ جل شانہ کے برحق دین کی تبلیغ کی اور اسے امتوں تک پہنچایا۔

جب کوئی انسان اپنی حد اور مقام کو بھول جاتا ہے، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، تو اسے اس بات کا شعور نہیں رہتا کہ دنیا کس مقصد کے لیے بنائی گئی ہے، انسان کیوں پیدا کیے گئے ہیں اور ان کے ساتھ دیگر چیزیں جیسے نباتات، جانور وغیرہ کیوں پیدا کیے گئے ہیں۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے انسان میں بگاڑ شروع ہوتا ہے، خواہ وہ بگاڑ معاشرتی اعتبار سے ہو یا مذہبی اعتبار سے۔

بالخصوص ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں، ہم صاحبِ قرآن ہیں، اور صاحبِ قرآن کی یہ شان نہیں کہ وہ جھوٹ، ریاکاری اور بدکاری میں مبتلا ہو۔ جیسا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ پیغام دیا اور قرآنِ کریم نے بھی یہی پیغام دیا ہے۔

ایمان والے کی صفت یہ ہے کہ وہ دنیا سے زیادہ آخرت کی تیاری میں مشغول رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:

وَمَا هَٰذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ ۚ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ

(العَنكبوت: 64)

"اور یہ دنیوی زندگی کھیل کود کے سوا کچھ بھی نہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ آخرت کا گھر ہی اصل زندگی ہے، کاش یہ لوگ جانتے۔

اس میں کوئی شک اور کوئی دو رائے نہیں کہ ایک ایمان والے کے لیے آخرت دنیا سے افضل ہے، جنت جہنم سے افضل ہے۔ ہر ایمان والا یہی چاہتا ہے کہ میں آخرت کی تیاری کروں، قبر کی تیاری کروں، موت سے پہلے موت کی تیاری کروں اور جنت کی تیاری کروں۔ اور کیوں نہ ہو؟ کیونکہ ہر ایمان والے کا عقیدہ ہے کہ آخرت برحق ہے، موت آ کر رہے گی اور جنت و جہنم بھی برحق ہیں۔

جس طرح اللہ تعالیٰ نے گناہوں کو پیدا کیا، اسی طرح عبادتوں کو بھی پیدا فرمایا۔ جس طرح جنت کو بنایا، اسی طرح جہنم کو بھی بنایا۔ اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے دنیا کو بنایا جو فانی ہے، اسی طرح آخرت کو بنایا جو کہ باقی رہنے والی ہے۔

پس ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم آخرت کی تیاری کریں، تمام معاصی کو ترک کر کے صرف ایک اللہ کی عبادت کریں، تسبیحات اور استغفار کا اہتمام کریں، اللہ تعالیٰ سے کثرت کے ساتھ مغفرت طلب کریں، دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر کریں اور پرسکون زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔

لہٰذا پُرسکون اور پُراطمینان زندگی کے لیے ضروری ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی گزشتہ کوتاہیوں پر نادم ہوں، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں، فوراً نافرمانی چھوڑ دیں اور آئندہ اپنے اعمال کی اصلاح کریں۔

اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔

✍🏻 از: محمدریحان ضیاءالحق عفي عنہ

خادمِ تدریس، مدرسہ ریاض الجنۃ، دھولیہ (مہاراشٹر)

وخادم القرآن، مجمع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، لحلقات القرآن الکریم عن بُعد، بالمدینۃ المنورۃ۔