عقیدہ ہی اساسِ ادب ہے: علمائے اہل سنت
پر اعتراضات کا علمی و تاریخی محاسبہ
تحریر: محمد احمد رضا (جھارکھنڈ)
الحمد لله رب العالمين اهدنا الصراط المستقيم اما بعد
برصغیر کی اسلامی تاریخ میں جب بھی علم و دانش اور عقیدہ و عمل کی بحث چھڑتی ہے، تو ایک مخصوص طبقہ ہمیشہ علمائے اہل سنت، بالخصوص علمائے بریلی کو اس بنیاد پر ہدفِ تنقید بناتا ہے کہ انہوں نے اپنے دور کے دیگر علمی مراکز کی طرح "خالص اردو اور عربی لٹریچر" یا "افسانوی ادب" پر توجہ نہیں دی۔ آج کے دور میں جب سوشل میڈیا کی چکا چوند نے سطحی علم کو دانشوری کا لباس پہنا دیا ہے، تو کچھ لوگ شمائل ندوی جیسے افراد کی باتوں سے متاثر ہو کر ان عظیم ہستیوں پر زبان درازی کر رہے ہیں جن کا سایہ بھی ان کی علمی اوقات سے بلند ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان معترضین کو نہ تو تاریخ کا ادراک ہے اور نہ ہی یہ "ادب" کی اصل روح سے واقف ہیں۔ کسی بھی قوم کے لیے اس کی زبان، اس کا طرزِ تحریر اور اس کا لٹریچر اسی وقت تک معنی رکھتا ہے جب تک اس کی اپنی شناخت اور اس کا بنیادی عقیدہ سلامت ہو۔ اگر بنیاد ہی ڈھہ جائے تو عمارت کی خوبصورتی کس کام کی؟ علمائے بریلی، جن کے سرخیل امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ ہیں، اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ وہ دور امتِ مسلمہ کے لیے علمی عیاشیوں کا نہیں بلکہ بقا کی جنگ کا دور تھا۔
اس دور کا نقشہ کھینچ کر دیکھا جائے تو ایک طرف انگریز کا سامراجی تسلط تھا اور دوسری طرف قادیانیت، وہابیت، نیچریت اور انکارِ حدیث جیسے فتنے اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے تھے۔ جب اسلام کی اساسات پر حملے ہو رہے ہوں، جب ناموسِ رسالت ﷺ کو نشانہ بنایا جا رہا ہو، اور جب سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان کو نئے نئے نظریات سے مسموم کیا جا رہا ہو، تو ایک سچا عالمِ دین کبھی مصلحت کے غاروں میں چھپ کر "گل و بلبل" کی داستانیں نہیں لکھتا۔ اس وقت کا تقاضا تھا کہ قلم کو ڈھال بنایا جائے اور سیاہی کو خونِ جگر بنا کر ایمان کی سرحدوں کی حفاظت کی جائے۔ علمائے بریلی نے وہی کیا جو ایک فرض شناس محافظ کو کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے ادب کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ ادب کو "دفاعِ دین" کا خادم بنا دیا۔ اگر اس وقت ہمارے یہ اکابرین بھی محض اردو اور عربی کے لفظی گورکھ دھندوں میں الجھ جاتے اور عقائد کی اصلاح سے پہلو تہی کرتے، تو آج ہماری نسلوں کے پاس شاید زبان تو بہت فصیح ہوتی، لیکن ان کے سینے دولتِ ایمان سے خالی ہوتے۔
آج جو لوگ بریلوی علماء کے ادبی کردار پر سوال اٹھاتے ہیں، میں ان سے پوچھتا ہوں کہ جب ناموسِ رسالت ﷺ پر حملے ہو رہے تھے، تو آپ کے پیر صاحبان کس مصلحت کے غار میں چھپے ہوئے تھے؟ جب برصغیر کے مسلمانوں کا ایمان نیلام کیا جا رہا تھا، تب ان "ادبا" کی آوازیں کیوں گم تھیں؟ کیا دین کی خدمت صرف خوشنما تقریروں، سوشل میڈیا کے تبصروں اور کسی خاص شخصیت کی اندھی تقلید کا نام ہے؟ ہرگز نہیں! دین کی خدمت علم، قربانی، استقامت اور میدانِ کارزار میں اترنے کا نام ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی فتنوں نے سر اٹھایا، تو مورچہ سنبھالنے والا صرف اور صرف وہ تھا جس کے دل میں امام احمد رضا خان کی دی ہوئی عشقِ رسول ﷺ کی تڑپ موجود تھی۔ یہ بریلوی علماء ہی تھے جنہوں نے نہ صرف زبان کھولی بلکہ علمی، فکری اور اعتقادی جہاد کا حق ادا کیا۔ ان کا لٹریچر "خالی خولی الفاظ" کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ وہ علم کا وہ سمندر ہے جس میں ڈوب کر ہی ایمان کے موتی ملتے ہیں۔
ادبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ کہنا کہ ان علماء نے ادب پر کام نہیں کیا، ایک سفید جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔ امام احمد رضا خان کا ترجمہ قرآن "کنز الایمان" اٹھا کر دیکھ لیجیے، کیا اردو زبان کی فصاحت و بلاغت اس سے بہتر کہیں نظر آتی ہے؟ آپ کا نعتیہ دیوان "حدائقِ بخشش" دیکھیے، جس نے اردو نعت کو وہ فنی اور فکری بلندی عطا کی کہ بڑے بڑے نقاد انگشت بدنداں رہ گئے۔ آپ کی کتاب "الدولۃ المکیہ" جو مکہ مکرمہ میں چند دنوں میں بغیر کسی مآخذ کے لکھی گئی، وہ عربی ادب و بلاغت کا وہ شاہکار ہے جسے دیکھ کر عرب کے جید علماء نے آپ کی علمی سیادت کو تسلیم کیا۔ آپ کی 30 جلدوں پر مشتمل "فتاویٰ رضویہ" محض فقہی مجموعہ نہیں ہے، بلکہ اردو اور عربی نثر کا وہ بحرِ بے کنار ہے جس میں لسانیات، ریاضی، ہیئت اور منطق جیسے علوم کے دریا بہہ رہے ہیں۔ اعلیٰ حضرت نے ثابت کیا کہ ایک سچا عاشقِ رسول ﷺ نہ صرف بہترین محافظِ عقیدہ ہوتا ہے بلکہ اپنے وقت کا سب سے بڑا ادیب بھی ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ انہوں نے ادب کو شہرت کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے بارگاہِ رسالت ﷺ کی چاکری کے لیے وقف کر دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ آج کے معترضین اپنی بے عملی، فکری دیوالیہ پن اور دینی کم ہمتی پر پردہ ڈالنے کے لیے ان پہاڑ جیسی شخصیتوں پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو "ادب" کے نام پر صرف اپنی انا کی تسکین چاہتے ہیں، جبکہ بریلوی علماء کا مقصد صرف اور صرف رضا الہیٰ اور خوشنودیِ رسول ﷺ تھا۔ انہوں نے قلم کو اس لیے نہیں اٹھایا کہ کسی مشاعرے میں داد پائیں، بلکہ اس لیے اٹھایا کہ حق کا چراغ روشن رہے اور باطل کی اندھیریاں ختم ہوں۔ آج بعد از وقت دانشوری جھاڑنے والے یاد رکھیں کہ ان کا علمی وزن ان اکابرین کے سامنے رائی کے دانے کے برابر بھی نہیں ہے۔ عقیدہ جڑ ہے اور ادب اس کی شاخ، اور عقل مند مالی ہمیشہ جڑ کی حفاظت کرتا ہے۔ اگر جڑ محفوظ ہے تو شاخیں پھر سے ہری ہو سکتی ہیں، لیکن اگر جڑ ہی کٹ جائے تو شاخوں کا سبز ہونا ناممکن ہے۔
مختصر یہ کہ علمائے اہل سنت نے ادب کو وہ مقام دیا کہ وہ "نعت" بن کر دلوں کو تڑپانے لگا اور "تحقیق" بن کر باطل کو لرزانے لگا۔ آج جو لوگ شخصیت پرستی کا لبادہ اوڑھ کر ہمارے بزرگوں پر طعن و تشنیع کر رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ پہلے اپنی حیثیت اور اپنے پیروں کا عملی کردار ثابت کریں۔ میدانِ عمل میں ان کی قربانیاں کیا ہیں؟ انہوں نے امت کو فتنوں سے بچانے کے لیے کونسے کوڑے کھائے یا کتنی جیلیں کاٹیں؟ محض سوشل میڈیا پر بیٹھ کر تنقید کرنا آسان ہے، لیکن حق کی آواز بلند کرنا اور اس پر استقامت دکھانا صرف انہی کا حصہ ہے جن کا تعلق مسلکِ اعلیٰ حضرت سے ہے۔ یہ تاریخ کا وہ اٹل فیصلہ ہے جسے کوئی نہیں بدل سکتا کہ اہل سنت کے عقائد کا تحفظ جب بھی ہوا، وہ بریلوی علماء کے قلم، ان کے علم اور ان کی ہمت سے ہوا۔ لہٰذا معترضین کو چاہیے کہ وہ اپنی اصلاح کریں اور علمائے حق کی خدمات کا اعتراف کریں، ورنہ تاریخ کا کوڑا دان ایسے بہت سے دانشوروں کو پہلے بھی نگل چکا ہے اور آئندہ بھی نگل لے گا
اللہ رب العزت ہمیں حق حق پڑھنے اور حق بات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین۔