عشقِ مجازی کا انجام آج ایک ماں کی خاموشی میں میری آنکھ نے دیکھا
✍🏻 محمد پالن پوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لڑکی کا کسی لڑکی کے ساتھ بھاگ جانا، عدالت میں جا کر رشتوں پر مہرِ بغاوت ثبت کر آنا یہ سب میں نے اب تک صرف کانوں سے سنا تھا۔ آنکھوں نے اس حقیقت کو کبھی چھوا نہ تھا مگر آج وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے آ کھڑا ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور کیوں نہ ہوتیں؟ میری عینک نے ایک ماں کو دیکھا جس کی آنکھیں خاموشی سے بھیگ رہی تھیں۔ وہ بول نہیں رہی تھی مگر اس کی خاموشی چیخ رہی تھی۔ وہ چہرہ جس پر کبھی خوشیوں کی دھوپ ہوا کرتی تھی آج زرد پڑ چکا تھا وہ زردی اس کے دل کے زخموں کی گواہ تھی۔ ایک بھائی کو دیکھا جس کا جوان کلیجہ جل رہا تھا۔ زبان پر صرف ایک جملہ تھا کہ میری بہن کو کچھ نہ ہو اور بس۔ واقعی یہ ایک عجیب نہیں بلکہ ہولناک منظر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اے میری بہنوں! ذرا سوچو تو سہی!یہ کیسا عشق ہے جو تمہیں اندھا کر دیتا ہے؟ یہ کیسی محبت ہے جو ماں کی نم آنکھیں نہیں دیکھتی، باپ کے پسینے کی مہک نہیں سونگھتی، بھائی کے بےلوث پیار کی قدر نہیں جانتی؟ کیا ملا ہے اور کیا ملنے والا ہے اس راہ میں؟ ایک لمحے کے جذبے پر برسوں کی قربانیاں کیوں بھول جاتی ہو؟ ذرا پلٹ کر اس ماں کی کوکھ کو دیکھو جس نے نو مہینے تمہیں درد میں اٹھائے رکھا، اس باپ کی پیشانی کو دیکھو جس کے پسینے میں تمہاری آس بسی تھی، اس بھائی کے دل کو دیکھو جو بنا کسی غرض، بنا کسی لالچ تمہاری ڈھال بن کر کھڑا رہا اور پھر خود سے پوچھو کہ کیا واقعی ایک غیر کے لیے ان سب کو قربان کر دینا ہی محبت ہے؟
یہ تحریر فریاد ہے ، درد کی زبان میں کہی ہوئی نصیحت ہے۔ کاش یہ آنسو بہنے سے پہلے رک جائیں، کاش یہ قدم اٹھنے سے پہلے ٹھہر جائیں لیونکہ جب خاندان ٹوٹتا ہے تو صرف رشتے نہیں بکھرتے نسلوں کے اعتماد بھی راکھ ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
https://www.facebook.com/share/14PuDJnGiJ3/