الفاظ: حیاتِ انسانی کے خفیہ معمار
✒️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
الفاظ کی معنویت و اہمیت سے انکار ممکن ہی نہیں۔ دراصل انسانی حیات کا سارا نقشہ انہی الفاظ کے لطیف و دقیق تانے بانے میں پوشیدہ ہے۔ انسان کی نفسی کیفیات، اس کا شعور و ادراک، اس کی محبت و عداوت، اس کی مسرت و حزن—سب کچھ الفاظ کے نازک دھاگوں میں منسلک ہے۔ یہی الفاظ ہیں جو دل و دماغ پر اپنی انمٹ چھاپ چھوڑتے ہیں؛ کبھی یہ روح کو سکینت عطا کرتے ہیں اور کبھی اضطراب کی آگ بھڑکا دیتے ہیں۔
الفاظ کی کائنات بڑی نزاکت آشنا اور نرالگی سے لبریز ہے۔ ایک ہی لفظ کبھی مرہم بن کر زخم مندمل کر دیتا ہے اور وہی لفظ کسی کے دل کو کاری زخم پہنچا دیتا ہے۔ ایک جملہ کسی کے لیے چراغِ ہدایت بن سکتا ہے اور وہی جملہ کسی کو شکوک و اوہام کی ظلمتوں میں دھکیل دیتا ہے۔
اسی لیے کہا جاتا ہے کہ حقیقی قوت الفاظ کے انتخاب میں مضمر ہے۔ موزوں اور متناسب الفاظ انسان کی شخصیت کو جلال و وقار عطا کرتے ہیں، جبکہ ناساز اور بگڑے ہوئے الفاظ پوری شخصیت کی عمارت کو زمیں بوس کر دیتے ہیں۔ الفاظ اگر آئینہ ہوں تو باطن کی تصویر گری کرتے ہیں اور اگر ہتھیار ہوں تو جہان کی تقدیر بدلنے پر قادر ہو جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ربِ کائنات نے بھی اپنے ابدی پیغام کو الفاظ کے قالب میں ڈھالا—یعنی قرآنِ حکیم، جو الفاظ کا ایسا معجز نما امتزاج ہے جس کی ضیاء رہتی دنیا تک انسانیت کے قلوب و اذہان کو منور کرتی رہے گی۔
الفاظ ہی تخلیق کا سنگِ بنیاد ہیں۔ یہ بکھرے ہوئے دلوں کو یکجا کرتے ہیں، اجڑی ہوئی دنیا کو آباد کرتے ہیں اور نئی جہانوں کے در وا کرتے ہیں۔ الفاظ محض زبان سے ادا کیے جانے والے جملے نہیں بلکہ یہ ایک کائنات ہیں، ایک قوت ہیں، ایک مقدّس امانت ہیں۔ اگر انہیں حسنِ تدبیر سے برتا جائے تو یہ زندگی کو جنت الفردوس بنا دیتے ہیں اور اگر انہیں بگاڑ کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہی حیات کو جہنم زار میں بدل دیتے ہیں۔