ذاتِ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ زندہ اور روشن مثال ہے جسے دیکھ کر ایمان تازہ ہوتا ہے اور جس کا ذکر سن کر دل جھک جاتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی تصدیق، وفاداری، قربانی، ادب اور اطاعت کا ایسا حسین امتزاج ہے جو رہتی دنیا تک اہلِ ایمان کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔

کامل ایمان محض زبان سے تصدیق کا نام نہیں، بلکہ وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فرمان پر بنا تردد سرِ تسلیم خم کرنے، خطرے میں سایہ بن جانے، اور اندھیروں میں چراغ بن کر امت کی رہنمائی کرنے کانام ہے۔ 
اور یہ تمام صفات صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی ذات میں بدرجہ اتم واکمل موجود ہے۔
جس کی نظیر کے طور پر ذیل میں 3 واقعات مذکور ہیں:
 *معراج کی خبر اور تصدیقِ صدیقی* 

جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعۂ اسراء بیان فرمایا تو اہلِ مکہ نے اسے جھٹلانا شروع کردیا۔ وہ اسے ناممکن، ناقابلِ یقین اور افسانہ قرار دینے لگے۔ لیکن جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تک یہ بات پہنچی تو بغیر کسی تردد کے آپ نے ارشاد فرمایا:
لَئِنْ كَانَ قَالَ ذٰلِكَ لَقَدْ صَدَق یعنی اگر میرے آقا نے یہ ارشاد فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا ہےاور میں ان کی اس بات کی بلا جھجک تصدیق کرتاہوں۔
 *( مستدرک,رقم الحدیث:4515)* 

یہی وہ جملہ تھا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ اس یک سطری تصدیق نے آپ کو "صدیق" کے عظیم لقب سے سرفراز کر دیا۔
یہ واقعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ صدیقِ اکبر کی اطاعت دلیلوں، سوالوں اور خدشوں کی محتاج نہ تھی بلکہ محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مبنی غیر متزلزل یقین کا اظہار تھی۔
 *ہجرت اور غارِ ثور میں محبت و اطاعت* 

جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے لیے تشریف لے گئےتو اپنے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق ہی کو منتخب فرمایا۔ یہ انتخاب خود اس بات کا اعلان تھا کہ اطاعت، اعتماد اور قربانی میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا۔ غارِ ثور میں قیام کے دوران آپ کی کیفیت یہ تھی کہ اگر کسی طرف سے خطرہ محسوس ہوتا تو اپنا جسم درمیان میں ڈال دیتے تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ذرہ برابر بھی تکلیف نہ پہنچے۔

روایات میں آتا ہے کہ آپ نے غار کے سوراخ اپنے کپڑوں سے بند کیے، اور ایک سوراخ کو اپنے پاؤں سے بند رکھا یہاں تک کہ سانپ نے ڈس لیا، مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند میں خلل نہ آئے، اس لیے آواز تک نہ نکالی۔

آپ کا یہ جذبہ ہمیں بتاتا ہے کہ اطاعت صرف حکم ماننے کا نام نہیں بلکہ محبت میں فنا ہو جانے کا نام ہے، اور یہی ذات صدیقِ اکبر کا اصل جوہر ہے۔
 *وصالِ حبیب کے بعد امت کی رہنمائی* 

جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال فرمایا، تو پورا مدینہ سکتے میں آ گیا۔ بڑے بڑے صحابہ کرام کو یقین نہیں آ رہا تھا۔ حضرت عمر جیسی جلیل القدر ہستی بھی جذبات پر قابو نہ پا سکی۔ اس پر آشوب لمحات میں صدیقِ اکبر آگے بڑھے، منبر پر کھڑے ہوئے اور تاریخ ساز الفاظ ادا کیے:

"جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا، وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وصال فرماچکے ہیں، اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے، وہ جان لے کہ اللہ زندہ ہے، اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔"

پھر قرآن کی آیت تلاوت فرمائی:
"وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ الخ"
(بخاری/7563)
یہ الفاظ صرف خطاب نہ تھے، بلکہ بکھری ہوئی امت کو جوڑنے والا مرہم تھے۔ اس لمحے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حفاظتِ دین کی بھی کامل ترین مثال بن گئے۔ان الفاظوں کا اثر تھا کہ مجمع پر سکون اور اطمینان طاری ہوگیا اور امت انتشار سے محفوظ رہی۔

حضرت صدیقِ اکبر کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم صرف زبان سے اقرار کرنے کا نام نہیں، بلکہ زندگی، عقل، مال، جذبات اور جان سب کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر نچھاور کرنے کا نام ہے۔

آج اگر امت اپنی کھوئی ہوئی عظمت واپس چاہتی ہے تو اسے صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے نقشِ قدم کو اپنانا ہوگا۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ:

 *ذاتِ صدیقِ اکبر اطاعتِ مصطفی میں وہ کامل عملی تصویر ہے جو ہر دور کے انسان کے لیے مینارہ نور و مشعل راہ ہے۔* 
✍️عبد مصطفٰی محمد حمزہ حسین عطاری