بدنظری موجودہ دور کا بڑا فتنہ
✍🏻 محمد عادل ارریاوی
________________________________
محترم قارئین اسلام نے انسان کو ظاہر کے ساتھ ساتھ باطن کی پاکیزگی کی بھی تعلیم دی ہے بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر معمولی نظر آتے ہیں لیکن دل اور ایمان کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کر دیتے ہیں بدنظری بھی انہی خطرناک گناہوں میں سے ایک ہے جس سے بچنا ہر دور میں ضروری رہا ہے خصوصاً آج کے پُرفتن زمانے میں زیر نظر مضمون اسی اہم مسئلے کی طرف توجہ دلانے کے لیے ہے بد نظری ایک بہت بڑا خطرناک روگ ہے اور ایسا روگ ہے کہ لگنے کے بعد جانا بھی مشکل ہے ایک آدمی زنا کاری کرے تو زنا کاری کے لیے کچھ اسباب بھی ہونے چاہیے مثلاً جسم میں قوت چاہیے لیکن یہ بدنظری ایسا گناہ ہے کہ بقول حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ بد نظری ایسی بیماری ہے کہ قبر میں پاؤں لٹکے ہوئے ہیں آدمی بوڑھا ہو چکا ہے پھر بھی وہ نہیں جاتی بوڑھے بوڑھے بھی بھانپو ( نظر باز ) بنے ہوئے ہیں یعنی ذرہ برابر حیا اور مروت نہیں رہی اس کو گناہ بھی نہیں سمجھتے اس گناہ کی شناعت وقباحت اور اس کی برائی دلوں سے نکل چکی ہے کسی جگہ بیٹھے ہیں اور ماں بیٹیاں گذر رہی ہیں تب بھی دیکھنے میں ذرا باک نہیں سمجھا جاتا اور یہ گناہ ایسا ہے کہ آدمی چپکے سے کرلے تو کسی کو پتہ بھی نہ چلے بقول حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ مولوی صاحب مولوی صاحب رہے قاری صاحب قاری صاحب رہے مطلب یہ ہے کہ اس گناہ کو کرتے ہوئے عام طور پر پتہ نہیں چلتا آپ چپکے سے کسی کی طرف دیکھ لیں گے تو پتہ بھی نہیں چلے گا دیکھو جھوٹ چھوڑ دینا آسان چوری چھوڑ دینا آسان لیکن حسینوں کو چھوڑنا ان کو نہ دیکھنا یہ بڑا مشکل مرحلہ ہے لہذا جو بڑی ہمت سے کام لے گا اور ان سے بچ جائے گا تو ان شاء اللہ اس کا انعام بھی بہت بڑا ہے حضرت حکیم شاہ اختر صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اچھا یہ بتائیے کہ ایک مزدور نے ایک گھنٹہ کام کیا آپ نے اس کو مزدوری دے دی لیکن ایک بادشاہ نے بھی آکر ایک گھنٹہ کام کیا تو بادشاہ کی مزدوری اس مزدور سے زیادہ ہو گی یا نہیں اسی طرح اگر آپ نے نفلی عبادت مثلاً تلاوت وغیرہ کرلی تو یہ آپ کے جسم نے مزدوری کی اور اگر آپ نے نظر بچالی تو دل نے مزدوری کی اور دل چوں کہ سارے جسم کا بادشاہ ہے تو بتاؤ دل کی مزدوری زیادہ ہو گی یا نہیں ؟ تو نگاہ کی حفاظت کرنے اور حسینوں سے دور رہنے میں جو غم ہوتا ہے وہ دل کو ہوتا ہے اور دل بادشاہ ہے اور بادشاہ جو مزدوری کر رہا ہے اور اللہ کے راستے میں غم اٹھا رہا ہے تو یہ غم دنیا نہیں دیکھتی وہ نفلیں تو دیکھ لیتی ہے لیکن جو لوگ دل پر غم اٹھاتے ہیں دل کی بڑی بڑی خواہشات کو توڑتے ہیں ان کے دل کی باتوں کو دنیا نہیں جانتی صرف اللہ پاک جانتے ہیں اس لیے بادشاہ کے عمل پر اللہ اس کو بہت بڑی مزدوری عطا فرماتے ہیں اور اس کو حلاوت ایمانی عطا فرماتے ہیں اور اپنا درد دل عطا کرتے ہیں اور ان شاء اللہ یہ درد دل ظاہر ہو کر رہتا ہے جو لوگ اپنی خواہشات کا خون کرتے ہیں اور غم اٹھاتے ہیں ایک دن ایسا آئے گا کہ ان کے درد محبت کی خوشبو کو اللہ اڑائے گا بد نظری کی وجہ سے چہرے کا نور ختم ہو جاتا ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم یہاں تک فرماتے ہیں لَتَغْضُنَ أَبْصَارَكُمْ وَلَتَحْفَظْنَّ فُرُوجَكُمْ أَوْ لَيَكْسِفَنَ اللهُ وُجُوهَكُمْ ( الترغيب ۲۵/۳) اپنی نگاہوں کو نیچا رکھو اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کا نور ختم کر دے گا۔ کسوف سورج گرہن کو کہتے ہیں پس جیسے سورج کو گرہن لگ جاتا ہے تو اس کا نو رختم ہو جاتا ہے اسی طرح جو آدمی بد نظری میں مبتلا ہوتا ہے وہ چاہے کیسا ہی حسین ہو لیکن اس کے چہرے پر رونق نہیں ہوتی ۔ آج بڑے افسوس کے ساتھ ہم کو کہنا پڑتا ہے کہ یہ بد نظری کا گناہ ایسا عام ہو چکا ہے جس کی کوئی انتہا نہیں اور مصیبت یہ ہے کہ دور حاضر کی جو تہذیب ہے عام بے حیائی فحاشی عریانی عورتوں کا گھروں سے باہر نکلنا اس کے نتیجے میں بقول مولانا مفتی محمد تقی صاحب عثمانی دامت برکاتہم آنکھوں کو پناہ ملنی مشکل ہے یعنی آدمی باہر جائے تو آنکھوں کا بچانا مشکل ہو گیا ہے لیکن بہر حال جس کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنی ہو اللہ تعالیٰ کی محبت کو اپنے دل میں بٹھانا ہو اپنے دل کی اصلاح مقصود ہو اور اپنے قلب میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم کرنا مطلوب ہو تو اس کو بد نگاہی سے بچنا ہی پڑے گا۔
اللہ ربّ العزت ہم سب کو ہدایت دے ہم سب کی مکمل حفاظت فرماۓ آمین یارب العالمین