"شیراز !شیراز! لو میری جان اب کھا بھی لو بہت مزیدار ہیں"۔ امی کی انتہائی پیار بھری آواز آئی۔
"نہیں، نہیں، میں نہیں کھاؤں گا، آپ کو اچھی طرح معلوم ہے مجھے بھنڈی بالکل نہیں پسند مگر آپ نے پھر بھی بنا دی ۔جبکہ میں نے صبح ہی کہا تھا کہ میرے لئے آج بریانی بنائیےگا، شیراز نے بری طرح چلاتے ہوئے جواب دیا ۔ "جان میری! ابو گھر پر نہیں تھے اور تم جانتے ہو ملازم اپنی گھر گیا ہوا ہے تم بھی اسکول تھے ,بتاؤ میں بریانی کے لئے گوشت کس سے منگواتی؟ "
امی بدستو دروازے پر کھڑی اسے سمجھا رہی تھیں۔" بس کہہ دیا مجھے نہیں کھانا، تو نہیں کھانا آپ خود کھا لیجیے" ۔ "گندی بات،بیٹے! کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے، میں کب کا نکال کر ڈائننگ ٹیبل پر رکھ چکی ہوں۔اچھے بچے کھانے کو انتظار نہیں کرواتے۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ "امی مشتقل اسے سمجھائے جا رہی تھیں- آخر کار بڑی مشکل سے وہ مانا اور منہ بناتے ہوئے کھانا کھانے بیٹھ گیا۔
•••••••••
شیراز اپنی والدین کا اکلوتا بیٹا تھا ۔ جہاں اس میں بہت سے اچھائیاں تھیں، وہیں ایک برائی بھی تھی اور وہ یہ کہ وہ رزق کا احترام نہیں کرتا تھا۔ کبھی پلیٹ میں کھانا بچا دیتا، تو کبھی کوڑے دان میں ڈال دیتا اور اگر اس کی پسندکا کھانا نہیں بنتا تو بس پھر تو امی کی ناک میں دم کر دیتا مگر کھانا نہیں کھاتا۔
••••••••
آج جب وہ ابو کے ساتھ کار میں اسکول جا رہا تھا تو اس نے دیکھا کہ میلے کپڑے پہنے ایک دس سالہ بچی کوڑے میں کچھ تلاش کر رہی ہے ۔ وہ غور سے دیکھنے لگا اچانک اس نے دیکھا کہ اس بچی نے ایک مرا ہوا کبوتر اٹھالیا اور وہ روٹی بھی جو اس کوڑے کے ڈھیر میں پڑی ہوئی تھی۔
وہ یکایک چلا اُٹھا "ابو! ابو! دیکھیں وہ بچی کیا کر رہی ہے ؟"اسکے ابو نے دیکھا تو وہ بھی بہت حیران ہوئے کہ بچی آخر مرے ہوئے کبوتر کا کیا کرے گی وہ کار سے اُتر گئے اور اس بچی کے پاس پہنچ کر شفقت سے پوچھا:"پیاری بیٹی آخر تم اس مرے ہوئے کبوتر کا کیا کروگی؟" بچی کی آنکھوں میں آنسو آگئے،وہ بولی:" چچا جان میرے ابو کا انتقال ہو گیا ہے میری ماں لوگوں کے گھر کام کاج کر کے ہمارا پیٹ پالتی ہے مگر پچھلے ایک مہینے سے وہ سخت بیمار ہے ہمارے گھر کھانے پینے کا سب سامان ختم ہو چکا اور اب ہمارے پاس خریدنے کے لئے پیسے نہیں ہیں-میرے چھوٹے بہن بھائی بھوک سے بے حال ہو رہے ہیں اس لئے میں کچھ ڈھونڈنے کے لئےادھر آئی تھی ۔ یہ کبوتر اور روٹی میرے بہن بھائیوں کی بھوک تو نہیں مٹا سکے گی مگر کم از کم اتنی توانائی تو ان میں آ ہی جائے گی سے کہ وہ بھوک سے مر ہی نہ جائیں۔ "
شیراز ننھی بچی کی یہ سب دردناک داستان سن کر حیران رہ گیا وہ ابھی صرف گیارہ سال کا تھا اور وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کوئی انسان اس رزق کی کمی سے مر بھی سکتا ہے جس کی وہ ذرا قدر نہیں کرتا تھا۔اس نے انتہائی شرمندگی اور دکھ کے ساتھ اپنے ابو کی جانب دیکھا ۔ اس کی ابو بھی بہت اداس تھے پھر انہوں نے اس بچی کے سر پر محبت سے ہاتھ رکھا اور اس کی گھر کا پتہ پوچھا۔ اس نے بتایا کہ وہ بستی کے آخری سرے پر ٹرین کی پٹری کے پاس رہتی ہے۔
شیراز کے ابو نے شیراز سے کہا کہ آج ہم اسکول نہیں جائیں گے بلکہ بچی کی گھر چلیں گے شیراز کے ابو نے بچی کو ساتھ لیا اور پہلے بازار گئے وہاں سے اس کے اور اس کے گھر کے افراد کیلئے جوتے، کپڑے اور کھانے پینے کی ڈھیر ساری اشیاء لیں اور پھر بستی کے سرے پر اس کے گھر پہنچے۔
انہوں نے وہ سب سامان اس کی امی کی حوالے کر دیا ۔ اس کی امی چونکہ بے انتہا بیمار تھیں اس لئے شیراز کی ابو نے انہیں علاج کیلئے ایک بڑی قیمت دی، تاکہ وہ اپنا علاج کروالیں، شیراز کی ابو نے ان سے نے یہ بھی کہا کہ جب وہ ٹھیک ہو جائیں تو گھر گھر کام کے لئے جانے کے بجائے ان کی گھر میں ہی ملازمت کر لیں، اس طرح انہیں رہنے کے لیے مستقل ٹھکانہ بھی مل جائے گا اور انکی عزت نفس بھی مجروح نہیں ہوگی ۔ وہ خاتون انہیں بیحد دعائیں دینے لگی۔
••••••••
آج شیراز بہت خوش تھا، اس نے اسکول نہ جاکر بھی انسانیت کا ایک عظیم درس سیکھا تھا،