یہ ہماری بدبختی ہے کہ ہم نے اس پیارے وطن عزیز کے زمام اقتدار کو ایسے لوگوں کو سونپا ہے، جو ملک کےخسیس ،لعین اور رذیل شخص ہے
جس کی زندگی ظلم وجبر کا تودہ ہے ،غریبوں کے پیٹ پر لات مارنا ان کے گھر کو زمیں دوز کرناتوشہ ہے،ان کی زندگی کے جس ورق کو آپ اٹھاکر دیکھیں تو ظلم وبربریت ،انسانیت سوز ،بے رحم جہالت پسندی استحصال حق کا عنوان ہے،ان کا کردار یہ ہےکہ وہ ملک کے عوام میں اشتعال انگیزی کرکے نفرت کو ہوا دے رہاہے۔
اور مسئلہ یہ بھی ہے ملک کے بیشترسفہاۓ بےدریغ بلا تأمل اس کو اپنا آقا سمجھ رہے ہیں اور آقا کو اپنے غریب ولاچار خستہ حال شکستہ چال محبین وہمنوا سے کوئی مطلب وسروکار نہیں ہے ،انہیں تو بیچارے اپنے محبین کاصحیح طریقے سے استعمال کرنا آتاہے اور یہ استعمال ہو جاتے ہیں-
انہیں صرف کرسی سے مطلب ہے چاہے اس کےلیے کسی بھی حدتک جانا پڑے - خواہ عین انتخابی وقت میں کچھ پیسے دے کر ملک کےجاہل عورت کو گمراہ کرنا پڑے یاپھر دیگر حربے اپنانا پڑے-
اس کے قصور وار صرف وہ نہیں جو اقتدار کےلیے سیاست کی روٹی سیکتے ہیں، ملک کے عوام کو مذہب کے نام پر گمراہ کررہے ہیں ،بلکہ وہ سب عوام ہیں جو ایسے لوگوں کی حمایت میں کھڑے ہوتے ہیں ،یہ ملک کے ساتھ ہرگز خیرخواہی نہیں ہوسکتی -
جو لوگ بھی ایسے خیالات کے ساتھ ہیں، وہ ملک کی خوبصورتی اور اس کی جمہوریت کے لیے خطرہ ہے، اس مذموم حرکت سے مجاہدین آزادی کی قربانیوں کی توہین ہوتی ہے
آئیے !اب دیکھتے ہیں
کہ ہمارے سیاستدان اور مقتدر جماعتوں کے سربراہان کیا کررہے ہیں -
مسلم دشمنی کی کوشش پورے ملک میں زورو شور سے جاری ہے،اس میں ایک تو حکام وزارء تو اپنا کردار ادا کرر ہی رہے ہیں وہیں ایک خاص مذہبی شناخت رکھنے والے ایک خاص تنظیم مکمل طور پر شب وروز محنت کررہے ہیں ہرروز میڈیا میں آکر مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا اور مسلمانوں کو ملک دشمن قرار دینا ،اسلامی اصطلاحات وروایات پر سوال کھڑا کرنا یہ ان کاروزمرہ کا معمول ہے ،اس سے دیگر لوگوں کو شہ ملتی ہے وہ مسلمانوں کے درمیان خلیج کی راہ پیدا کررہے ہیں -
ہمارے وہ غیر مسلم بھائی جو ایک عرصۂ درازسے ایک ساتھ ایک معاشرے میں رہتے چلے آرہے تھے ،باہمی تقریبات وسمیلن میں شرکت کرتے چلے آرہے تھے-
آج وہ سب ایک دوسرے سے گھبرا رہےہیں ،ڈر اور خوف محسوس کررہے ہیں
آداب وسلام اورنمستے کے الفاظ کہنے میں جھجھک رہے ہیں -
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ باہمی اتحاد واتفاق سے گاؤں شہر ،ریاست اور ملک سب ترقی کرتاہے،امن وامان کی فضا بنی رہتی ہے ،اس سے ملکی املاک و اراضی سب محفوظ اور ترقی پذیر ہوتی ہیں،
جب کہ بصورت دگر زوال وانحاط کی طرف رواں ہوتاہے ،۔ملک کی صورتحال یہ ہے کہ معیشت و روزگار ختم ہورہے ہیں اور باہمی خانہ جنگی کی وجہ سے ملک گہرے صدمے کا شکار ہوکر کمزور ہورہاہے اور اس کمزوری کا فائدہ غیر کو ہو رہا ہے
تو! میں بات کرنے لگا ہوں ایسے ریاست کے صدر کہ جس میں اب ریاست کی کرسی پر بیٹھنے کی اہلیت باقی نہیں رہی ،ان کی فکری ساخت ،فکرو تدبر کی صلاحیت ختم ہونے کے ڈگر پہ ہے-
حالیہ واقعہ جو ایک مسلم ڈاکٹر خاتون کے ساتھ پیش آیا ،بھری محفل میں عوام کے درمیان وزیر اعلی نے ایک خاتوں کا حجاب چہرے سے بےجھجھک کھینچ لیا اور سب لوگ مورت بنے اس تماشائی کا منظر دیکھ رہے تھے، حیرت تو تب ہوئی جب اس کے ایک تملق باز نے یہ کہا کہ چہرے سے ہی نقاب ہٹایا ،برقعہ نہیں ہٹایا، کیا ذہنیت ہے ،ماتم ہےاس کی خسیس ذہنیت پر،اور افسوس ہے بیمار شخص کی حالت پر-
سال گزشتہ طلبہ پر حکومتی اہلکاروں کے ذریعے سرزنش کرنا ،جائز حقوق کے مطالبہ پرموسم شتاءمیں طلبہ وطالبات پر زد وکوب کرنا یہ انہیں کی بیمار ذہنیت شخص کا فرمان تھا -
خواتین زیادہ خوش نہ ہوں اور ملازمت کی چاہت ،اس کی حرص و طمع میں اس کی طرف داری میں کھڑی نہ ہوں کیونکہ مستقبل سب کے داؤ پر ہیں-
اگر وہ آپ کو کسی سرکاری شعبہ میں نوکری دے رہا ہے تو اس کے پس پردہ ایک بنیادی مقاصد ہیں جو آۓ دن کے حالات سے معلوم ہوتے ہیں ،آپ کی شخصیت کو مجروح کرنا، آپ پر مذہبی حملہ کرنا،آپ کی ہتک عزت کرنا اور آپ کو عزت و وقار کےگھر سے نکال کر عوام کے سامنے لانا تاکہ آپ گھر کی زینت نہ بن کر عوام کی زینت بنیں اور ان کی سامان دل کا ذریعہ بنیں -
باشعور قوم ہمیشہ قیافہ شناس ہوتی ہے، مستقبل کے خطرات کو محسوس کرکے رد خطرات کے راستے ڈھونڈ لیتی ہے،-
باتیں سمجھنے کی ہے اور سمجھنے والوں کے لیے ہےورنہ اندھے کنویں میں رہنےوالے کو کوئی شعور وادارک کا درس نہیں دے سکتا -
اللہ تعالیٰ ہمیں فہم وشعور عطا فرمائے آمین