*ایک پتھر کی بھی تقدیر سنور سکتی ہے شرط یہ ہے کے سلیقے سے تراشہ جائے*

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــزندگی کی وسعتوں کو اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت پوری شدت سے سامنے آتی ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی شے اپنی ابتدائی حالت میں کامل نہیں ہوتی، ہر وجود ایک خام صورت میں سفر کا آغاز کرتا ہے، اور وقت، حالات اور تربیت کے مراحل سے گزر کر اپنی اصل پہچان پاتا ہے ایک عام سا پتھر جب تک زمین پر پڑا رہتا ہے، اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی، لوگ اسے ٹھوکر مارتے ہیں، راہ کا روڑا سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، مگر یہی پتھر جب کسی ماہر اور سلیقہ مند ہاتھ میں آتا ہے تو اس کی حیثیت یکسر بدل جاتی ہے، پھر وہ بےقیمت نہیں رہتا، بلکہ کسی عظیم تعمیر کا حصہ، کسی مقدس جگہ کی زینت یا کسی قیمتی نگینے کی صورت میں پہچانا جاتا ہے،یہی منظر نامہ انسان کی زندگی میں بھی بار بار دہرایا جاتا ہے، انسان اپنی پیدائش کے وقت محض امکانات کا مجموعہ ہوتا ہے، نہ وہ مکمل اچھا ہوتا ہے، نہ مکمل برا، بلکہ اس کے اندر دونوں راستوں کی صلاحیت رکھی جاتی ہے، اصل فیصلہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اسے کس نظر سے دیکھا جاتا ہے، کس ماحول میں رکھا جاتا ہے اور کس انداز سے اس کی اصلاح و تربیت کی جاتی ہے، بےجا سختی انسان کو توڑ دیتی ہے، جبکہ حکمت اور دانائی کے ساتھ کی گئی رہنمائی اس کے اندر چھپے جوہر کو ابھار دیتی ہے۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــتجربہ بتاتا ہے کہ جو چیز بےقدری اور بےتوجہی کا شکار ہو، وہ ماند پڑ جاتی ہے، اور جس پر توجہ، محنت اور سلیقہ صرف کیا جائے، وہ نکھر جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ زندگی میں ناکامی کو انجام نہیں بلکہ آغاز سمجھا گیا ہے، کیونکہ ناکامی دراصل وہ کڑی ہے جہاں سے تراشنے کا عمل شروع ہوتا ہے، آزمائشیں انسان کو ختم کرنے نہیں آتیں، بلکہ اسے ایک بہتر شکل دینے آتی ہیں، بشرطیکہ وہ انہیں صحیح نظر سے دیکھے۔یہ دنیا کا رد و بدل اور عام سے انسان کا کسی منصب پر فائز ہو جانا ہمیں اسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ تقدیر کوئی بند دروازہ نہیں، بلکہ ایک کھلا میدان ہے جہاں محنت، صبر اور درست رہنمائی سے نئی راہیں نکالی جا سکتی ہیں، جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ سخت حالات دراصل اسے نکھارنے کا ذریعہ ہیں، تو اس کی سوچ بدل جاتی ہے، اس کا حوصلہ بلند ہو جاتا ہے،اور وہ اپنے آپ کو کمتر سمجھنے کے بجائے تعمیر کے عمل کا حصہ ماننے لگتا ہے۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــیہی بات جب عملی مثال کی صورت میں سامنے آتی ہے تو محض ایک خیال نہیں رہتی بلکہ ایک زندہ حقیقت بن جاتی ہے، تاریخِ انسانی میں ایسے کردار موجود ہیں جنہوں نے اپنے وجود سے اس مقولے کی تفسیر کر دی کہ *ایک پتھر کی بھی تقدیر سنور سکتی ہے شرط یہ ہے کہ سلیقے سے تراشہ جائے* ذرا اس انسان کی زندگی پر نگاہ ڈالیے جس کی پیدائش ہی آزمائش بن کر آئی، جب وہ پیدا ہوا تو اس کی ماں نے اسے دیکھ کر منہ پھیر لیا، کیونکہ وہ دونوں ہاتھوں اور پاؤں سے محروم تھا، بلکہ اس کے بازو اور ٹانگیں سرے سے موجود ہی نہ تھیں، ایک ایسا وجود جسے دنیا ابتدا ہی میں نامکمل قرار دے چکی تھی، آج اس شخص کی عمر 37 برس ہے، ذرا سوچیے، اس نے بغیر ہاتھوں، بغیر پاؤں، بغیر بازوؤں اور ٹانگوں کے یہ 37 سال کیسے گزارے ہوں گے؟ اور یہ بھی سوچیے کہ وہ آج کس مقام پر کھڑا ہے، یہ شخص آسٹریلیا میں پیدا ہوا، مگر اس کی سوچ اور جدوجہد نے اسے پوری دنیا کا شہری بنا دیا، اگر اس کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو انسان کے سارے شکوے، سارے بہانے اور ساری شکایتیں بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں، شرمندگی کے ساتھ یہ احساس جاگتا ہے کہ ہم مکمل جسم کے ساتھ بھی اپنی زندگی کو ادھورا کہہ کر کوستے رہتے ہیں، جبکہ وہ اپنے آدھے ادھورے جسم کے باوجود ایک مکمل، بھرپور اور باوقار زندگی جی رہا ہے، نہ صرف خود جینے کا ہنر سیکھا بلکہ کروڑوں بجھی آنکھوں میں امید کی روشنی اور مایوس دلوں میں حوصلے کی آگ بھی روشن کی۔

یہ شخص سات کتابوں کا مصنف ہے، جن میں سے اکثر نیویارک بیسٹ سیلر کی فہرست کا حصہ بنیں، اس کی تحریروں کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی کتابیں دنیا کی چالیس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں، وہ ایک عالمی سطح کا موٹیویشنل اسپیکر ہے، جس نے TED سمیت دنیا کے ہر قابل ذکر فورم پر اپنی آواز کے ذریعے لاکھوں زندگیاں بدلنے کا سبب بنا،2005 میں اس نے Life Without Limbs اور 2007 میں Attitude Is Altitude کے نام سے تربیتی ادارے قائم کیے، جہاں وہ افراد، کاروباری تنظیموں اور حتیٰ کہ دنیا کی مختلف حکومتوں کے اہلکاروں کو کامیابی اور مثبت سوچ کے اصول سکھاتا ہے، میڈیا سے اس کا گہرا تعلق ہے، دنیا کے بڑے چینلز جیسے BBC، CNN اور CNBC اس کے انٹرویوز نشر کرتے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے لاکھوں فالوورز ہیں جو اس کی باتوں سے زندگی کا نیا زاویہ سیکھتے ہیں۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاس نے محبت بھی کی، شادی بھی کی، اور آج وہ اپنی خوبصورت آسٹریلوی ماڈل بیوی اور چار ہنستے کھیلتے بچوں کے ساتھ امریکہ کے شہر کیلیفورنیا میں ایک خوشحال اور مطمئن زندگی گزار رہا ہے، اس شخص کا نام نِک وُیچیچ (Nick Vujicic) ہے،نک ویچیچ کی زندگی دراصل اسی سچ کی جیتی جاگتی تصویر ہے کہ کمی انسان کو کمزور نہیں بناتی، بلکہ غلط سوچ اور غلط رویہ انسان کو توڑ دیتا ہے، اگر حالات کو سلیقے سے قبول کیا جائے، خود کو صحیح رخ پر تراشا جائے اور مقصد واضح ہو، تو بڑے بڑے چیلنج ماند پڑتے ہوئے نظر آتے ہیں، اگر پتھر تراشنے والے کا ہاتھ ماہر ہو، تو پتھر ٹھوکر نہیں بنتا بلکہ تاج کا نگینہ بن جاتا ہے۔

میں اسکو پڑھا تو حیرت میں پڑ گیا اللہ آدھے جسم کا انسان جو خود کھا نہیں سکتا، پی نہیں سکتا،چل نہیں سکتا،لیکن اتنا پڑھا لکھا اور اتنے بڑے مرتبہ پے فائز، اور ہم صحیح ہو سالم ہو کر بھی کچھ نہیں کر پا رہے ہیں، معلوم ہوا کامیابی انسان کا وجود نہیں،بلکہ اسکا مربی اور اسکی سوچ دیکھتی ہے،آج اسی انسان کی باتوں کو سن کر لوگ روتے ہیں، لیکن یہ اتنا خوش ہے جسکی خوشی کو آپ ہر سوشل میڈیا پلاٹ فارم پر دیکھ سکتے ہیں، تبھی میں نے مضمون کو ترتیب دیا اور لکھ دیا ایک پتھر کی بھی تقدیر سنور سکتی ہے شرط یہ ہے کہ سلیقے سے تراشہ جائے،شیخ سعدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں نصیحت حاصل کرو اگرچہ دیوار پر ہی لکھی ہو۔

اللہ کریم ہمیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بخشے آمیـــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔

*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*